امریکہ کے علاوہ دنیا کے متعدد ممالک میں نسلی تعصب کے خلاف احتجاج جاری
- ہفتہ 06 / جون / 2020
- 4560
امریکہ کے متعدد شہروں میں منی پولس مین ایک سیاہ فام شخص کی پولیس کے ہاتھوں موت کے خلاف احتجاجا کا سلسلہ گیارھویں روز بھی جاری رہا۔ امریکی مظاہرین کی حمایت مین یورپ کے متعدد ملکوں میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں۔
ان دنوں واشنگٹن ڈی سی کی گلیاں دل دہلا دینے والے نعروں سے گونج رہی ہیں۔ گونج اتنی زوردار ہے کہ آپ کچھ وقت کے لیے بھول جاتے ہیں کہ دنیا میں کورونا وائرس کی وبا بھی ہے۔ مظاہرین اپنی آواز چند ہی قدموں پر واقع وائٹ ہاؤس تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
پولیس کی زیرِ حراست شہریوں کی ہلاکت ہر نظر رکھنے والے ادارے 'میپنگ پولیس وائلنس' کے مطابق 2013 سے 2019 تک امریکی پولیس کی تحویل میں 7666 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جن میں آبادی کے لحاظ سے سیاہ فام لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ امریکہ میں افریقی امریکی عوام کل آبادی کا 13 فی صد ہیں۔ اس کے باوجود تنظیم کے مطابق پولیس کی زیرِ حراست سیاہ فام امریکیوں کو ہلاک کرنے کی شرح زیادہ ہے۔
کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا ایسی ریاستیں ہیں جہاں پولیس حراست میں سب سے زیادہ سیاہ فام شہری ہلاک ہوئے۔ ان واقعات میں زیادہ تر پولیس اہلکار سفید فام امریکی تھے۔ واشنگٹن ڈی سی کے مظاہرے میں بھی پہرا دینے والے فوجی اہلکاروں میں سفید فام امریکیوں کی تعداد بظاہر زیادہ تھی۔ انہوں نے فسادات روکنے والا یونیفارم اور ساز و سامان اٹھا رکھا تھا۔
مظاہرین ہر 10 منٹ کے بعد امریکی فوج کے سامنے ایک گھٹنا ٹیکتے اور ہاتھ اٹھا کر نعرہ لگاتے ہیں: "ڈونٹ شوٹ می۔" پرامن مظاہرین میں سے ایک سیاہ فام شخص کھڑا ہوا اور پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے بولا کہ "تم نے ہنگاموں سے نمٹنے کی وردی کیوں پہن رکھی ہے حالانکہ یہاں کوئی ہنگامہ آرائی نہیں ہو رہی۔"
مظاہرے میں شامل افراد نے مل کر کچھ دیر کے لیے یہ نعرہ دہرایا۔ سہ پہر تین بجے چند سو مظاہرین سے شروع ہونے والا مظاہرہ شام تک ایک بڑے ہجوم میں تبدیل ہو چکا تھا۔