پھونکوں سے اجتماعی دم کا ’موجد‘ ملتان کا پیر سپاہی

خطیب حسین ایک اونچی پشت والی کرسی پر بیٹھ کر غیر موجود سامعین سے خطاب کر رہے ہیں۔ وہ نیلی شلوار قمیض میں ملبوس ہیں اور اسی رنگ کی پگڑی اور پھولدار واسکٹ پہنے ہوئے ہیں۔ ان کے لمبے گھنگھریالے بال پگڑی کے نیچے سے نکل کر ان کے کندھوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔   چند کلمات ادا کرنے کے بعد وہ لوگوں کو ’دم‘ کے لیے تیار ہونے کا کہتے ہیں۔

پہلے دم کے لیے اپنے سروں پر ہاتھ رکھیں تاکہ اس خاص دم میں آپ سبھی لوگ شریک ہو سکیں،

یہ کہنے کے بعد وہ اپنے بازوؤں کو ہلاتے ہیں یوں جیسے وہ زور زور سے کچھ گھما رہے ہوں۔ اس کے بعد وہ اسی طرح وہ اپنے منہ سے متعدد بار پھونک کی گونج دار آواز نکالتے ہیں۔ سامعین کو اپنے ساتھی کے جسم کے اس حصے پر ہاتھ رکھنا ہے جہاں اسے تکلیف ہو۔

تیسرے دم کے لیے وہ سامعین کو کہتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ لائی ہوئی پانی کی بوتلیں کھول لیں-

دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ آن لائن ہو رہا ہے۔خطیب حسین نے دم کا سارا عمل ایک کمرے میں ریکارڈ کیا ہے اور پھر اسے سوشل میڈیا پر جاری کر دیا ہے۔ان کے سامعین کے لیے ضروری نہیں کہ اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے وہ براہِ راست موجود ہوں۔وہ کسی بھی وقت اور دنیا کے کسی بھی حصے سے  فیس بک کے ذریعے ان تینوں دَموں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں-

خطیب حسین نے یہ وڈیو یکم جون 2020 کو جاری کی ہے۔اس میں سامعین کی غیر موجودگی کی وجہ شاید یہ ہے کہ انہیں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے عوامی اجتماع سے گریز کرنا پڑ  رہا ہے ورنہ ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر موجود گزشتہ مواد میں وہ کئی سو لوگوں پر مائیکروفون کے ذریعے اپنا گونجتا ہوا دم متعدد بار پھونکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں-

ان کے دم سے ٹھیک ہونے والے لاعلاج مریضوں کی وڈیو ’شہادتیں‘ بھی اس اکاؤنٹ پر دیکھی اور سنی جا سکتی ہیں-

خطیب حسین ضلع راولپنڈی کی تحصیل کوٹلی ستیاں کے گا ؤں بلاوڑہ کے ایک مذہبی گھرانے کے رکن ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی پھونک میں ہر بیماری اور معذوری کا علاج موجود ہے اور یہ کہ اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے مریضوں کو فردأ فردأ دَم کروانے اور حتیٰ کہ جسمانی طور پر ان کے پاس موجود ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔

اپنے مائیکروفونی دم کے علاوہ وہ کچھ دیگر وجوہات کی بنیاد پر بھی کبھی کبھار خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

مثال کے طور پر اس سال کی ابتدا میں لاہور میں مقیم ایک مذہبی شخصیت ناصرمدنی نے الزام لگایا کہ خطیب حسین کے ماننے والوں نے انہیں شدید تضحیک کے ساتھ جسمانی تشدد  کا نشانہ بھی بنایا ہے کیونکہ انہوں نے خطیب حسین کے دم کرنے کے انداز کا مذاق اڑایا تھا۔

تقریبأ 40 سال پہلے ایک اور صاحب نے بھی دم کرنے کے اپنے منفرد انداز کی وجہ سے انتہائی کم وقت میں ملک گیر شہرت حاصل کر لی تھی مگر پھر کچھ عرصے بعد ہی وہ گمنامی کا شکار ہو گئے-

ان کا نام عبدالحمید تھا اور ان کا تعلق ضلع خانیوال کی تحصیل جہانیاں کے گاﺅں علی شیر واہن سے تھا-

یہ جون 1979 کی بات ہے جب وہ ملتان پولیس میں ٹریفک کانسٹیبل کی حیثیت سے ملازمت کررہے تھے جب ان کے کراماتی پھونک کے بارے میں پہلی بار لوگوں کو پتہ چلا-

اس وقت سیاسی سرگرمیوں اور ان کی اخباری کوریج پر پابندی عائد تھی۔ جنرل ضیاالحق کی فوجی حکومت کے ہاتھوں وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کو ابھی دوماہ ہوئے تھے اور ہزاروں سیاسی کارکن جیلوں میں تھے۔ چنانچہ سیاست سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے اس وقت کے پالیسی سازوں نے ملک میں مختلف کھیل تماشے شروع کرادیے۔

مثال کے طور پر جاپان سے انوکی پہلوان اور بھارت سے اجیت سنگھ پہلوان کو بلایا گیا اور لاہور کے ایک مشہور پہلوان خاندان کے ارکان کے ساتھ ان کے مقابلوں کا انتظام کیا گیا-

یہ مقابلے براہ راست پاکستان ٹیلی ویژن پر دکھائی جاتے تھے اور ان کا اس قدر چرچا کیا جاتا تھا کہ ان کے نشر ہونے کے وقت سڑکیں سنسان ہوجاتی تھیں اور ٹیلی ویژن سیٹوں کے سامنے ہجوم لگ جاتے تھے۔

جس روز انوکی اور زبیر عرف جھارا کی کشتی اخبارات کے پہلے صفحے کی زینت بنی اسی روز یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ کس طرح ملتان کا ایک ٹریفک کانسٹیبل مائیکروفون اور لاؤڈ سپیکر سے پھونک مار کر کے ہر طرح کے امراض کا علاج کر سکتا ہے-

دیکھتے ہی دیکھتے عبدالحمید ’پیر سپاہی‘ بن گئے اور ان کی شہرت اس قدر پھیل گئی کہ پولیس لائنز ملتان میں ان سے دم کرانے کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھ گیا-

جب وہ لاﺅڈ سپیکر پر دم کرتے تو لوگ پانی کی بوتلیں کھول کر ہوا میں بلند کر لیتے تھے تاکہ ان کی پھونک بوتلوں میں داخل ہو جائے دم کے بعد وہ پیر سپاہی کی ہدایت کے مطابق بوتلوں کے ڈھکن مضبوطی سے بند کرلیتے تھے تاکہ کہیں پھونک کا اثر زائل نہ ہو جائے-

پیر سپاہی کے ماننے والوں کی تعداد تھوڑے ہی عرصے میں اس قدر بڑھ گئی کہ ان تک پھونک پہنچانے کے لیے کئی کلومیٹر تک لاﺅڈ سپیکر نصب کیے جانے لگے۔

جب پولیس لائنز میں ان کے عقیدت مندوں کے ہجوم کی وجہ سے سکیورٹی کے مسائل پیدا ہونے لگے تو پیر سپاہی کی تعیناتی ملتان سے باہر کردی گئی۔ مگر اس کے نتیجے میں ان کا حلقہِ ارادت مزید وسیع ہوگیا اور مختلف شہروں کے لوگ انہیں اپنے ہاں دم کرنے کے لیے بلانے لگے۔ چنانچہ انہوں نے بہاولپور اور سرگودھا تک کے دورے کیے۔

انہی دنوں یہ افواہ بھی گردش کرنے لگی کہ جنرل ضیاالحق نے بھی اپنی معذور بیٹی کا علاج کرانے کے لیے پیرسپاہی کو خصوصی طیارے کے ذریعے راولپنڈی بلایا ہے۔ اگرچہ اس واقعے کی کبھی تصدیق نہیں ہو سکی تاہم یہ حقیقت ہے کہ پیر سپاہی نے حکومت سے مطالبہ کر دیا کہ انہیں ریڈیو پاکستان کے قومی نشریاتی رابطے پر پھونک مارنے کا موقع دیا جائے تاکہ پورے ملک میں لوگ ریڈیو کے سامنے پانی کی بوتلیں کھول کر ان کے دم سے فیض یاب ہوسکیں۔

اس مطالبے کا نتیجہ ان کی توقع کے بالکل بر عکس نکلا لوگوں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کر دیا اور یوں ان کے کراماتی دم کی کہانی اپنے انجام کو جا پہینچی-

مگر پیرسپاہی کی زندگی کا سفر اس کے بعد بھی جاری رہا-

ملتان پولیس کے ایک افسر حافظ عبدالعلیم کے مطابق پیر سپاہی 1996 میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد اپنے گاﺅں واپس چلے گئے-

ان کے گاﺅں کے آس پاس رہنے والے لوگوں کے مطابق پیر سپاہی کی وردی ختم ہوئی تو انہوں نے کپڑے کا ایک تھیلا اٹھا لیا جو ان کی نئی پہچان بن گیا۔ بسوں اورویگنوں کے ڈرائیور انہیں بعض اوقات اپنے ساتھ بٹھا لیتے تاکہ ایک سابق ٹریفک کانسٹیبل کی موجودگی انہیں ان کی گاڑیوں کے کاغذات کی چیکنگ سے بچا سکے اس کے بدلے میں وہ پیر سپاہی کو کچھ رقم بطور نذرانہ دے دیتے تھے۔

اپنی گزر بسر کے لیے پیر سپاہی چھوٹی موٹی کاشت کاری کرتے تھے۔ اسی طرح انہوں نے ایک چھوٹا سا ٹرک بھی خرید رکھا تھا جس سے وہ مال برداری کا کام لیتے تھے -

بالآخر جب 2005 میں ان کا انتقال ہؤا تو اس کی خبر ان کے اپنے رشتہ داروں اور ان کے گاﺅں کے لوگوں کے علاوہ شاید ہی کسی کو ہوئی ہو-

پیر سپاہی کا باب تمام ہوا لیکن آج کل خطیب حسین کا طوطی بول رہا ہے۔ کیا یہ بھی وقت کے بہتے پانیوں پر پیر سپاہی کی طرح کا ایک بلبلہ ثابت ہوں گے اور معروضی سیاسی اور سماجی حالات میں تبدیلی سے ان کے دم کے اثرات بھی ماند پڑ جائیں گے؟

یہ ابھی دیکھنا ہے۔

(بشکریہ: سجاگ آن لائن)