وزیر اعظم صاحب! کورونا وبا ہے، آپ کی ناکامیوں کا پردہ نہیں
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 06 / جون / 2020
- 8950
وزیر اطلاعات شبلی فراز نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں کورونا وائرس کے معاملہ پر سیاست کررہی ہیں۔ اسی سانس میں انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ پر دوغلی حکمت عملی اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بتایا کہ وہ کورونا کنٹرول ایند کمانڈ سنٹر کے اجلاس میں ایک بات پر اتفاق کرتے ہیں لیکن سندھ جاکر دوسری بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسری پارٹیاں بھی کنفیوژن کا شکار ہیں۔ شبلی فراز ، وزیر مواصلات مراد سعید کے ساتھ مل کر یہ پریس کانفرنس پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کو مسترد کرنے کے لئے کررہے تھے کہ وفاقی حکومت ہسپتالوں اور مریضوں کے غلط اعداد و شمار پیش کرکے عوام کو دھوکہ دے رہی ہے۔
ایک طرف ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ عروج کی طرف گامزن ہے اور گزشتہ چند روز کے دوران روزانہ پانچ ہزار مریض سامنے آرہے ہیں جبکہ مرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہؤا ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹے کے دوران پہلی بار ایک ہی دن میں 97 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ کراچی ، لاہور اور اسلام آباد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ہسپتالوں میں گنجائش نہیں ہے اور وینٹی لیٹر دستیاب نہیں۔ عام لوگ ہی نہیں مالی لحاظ سے مستحکم افراد بھی اپنے عزیزوں کا علاج کروانے کے لئے مشکلات کا شکار ہیں کیوں کہ نجی ہسپتالوں میں بھی مزید مریض لینے کی گنجائش نہیں رہی۔ اس صورت حال میں کورونا کنٹرول اینڈ کمانڈ سنٹر کے نگران وزیر اسد عمر سماجی دوری پر عمل کرنے کی اپیل ضرور کررہے ہیں لیکن دستیاب سہولتوں کے بارے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عید الفطر سے تھوڑا پہلے سے ایس او پیز پر عمل درآمد میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کورونا میں اضافہ ہؤا ہے۔
یوں لگتا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے سارے وزیر سیاسی خانہ پری کے لئے بیان بازی ضروری سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت ان کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ جب کسی حکومت کے پاس نہ وسائل ہوں، نہ استعداد ہو، نہ اختیار ہو اور نہ ہی کس مسئلہ کے بارے میں تفصیل جاننے کی خواہش اور اس سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کی صلاحیت موجود ہو تو خاموشی اس کا بہتر علاج ہوسکتا ہے لیکن تحریک انصاف کا سیاسی کلچر دھول اڑانے اور الزام تراشی کے مزاج پر استوار رہا ہے۔ اب بھی وہی کام کیا جارہا ہے۔ حالانکہ اس وقت ملک میں کسی سیاسی پارٹی نے کسی سیاسی مزاحمت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ کورونا پر غور کرنے کے لئے گزشتہ ماہ پارلیمنٹ کا اجلاس ضرور بلایا گیا تھا لیکن وہ اس معاملہ پر بحث کرکے ہی ختم ہوگیا کہ وزیر اعظم کیوں اجلاس میں شریک نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں حکومت کا یہ الزام ناقابل فہم ہے کہ اسے کورونا سے نمٹنے میں اپوزیشن کی طرف سے مشکل کا سامنا ہے۔
یہ مزاحمت اگر کسی طرف سے سامنے آرہی ہے تو وہ خود وزیراعظم عمران خان کی کم فہمی اور تکبر ہے۔ وہ خود کو عقل کل قرار دیتے ہوئے اپنی عظمت کے گیت گانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ گزشتہ روز نام نہاد ٹائیگر فورس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امریکہ و دیگر ترقی یافتہ ملکوں سے اپنی حکومت کا موازنہ کرتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی حکومت کی پالیسی ایسے ممالک سے بہتر رہی ہے جہاں مرنے والوں کی تعداد دو ہزار روزانہ سے زائد رہی جبکہ پاکستان میں ایک سو دنوں میں دو ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ عظمت و بڑائی کی کچھ اسی قسم کی صدائیں امریکی دارالحکومت میں واقع وہائٹ ہاؤس سے بھی بلند ہورہی ہیں جہاں ڈونلڈ ٹرمپ جیسا صدر مستقل یہ دعویٰ کرتے ہوئے امریکی عوام کو کورونا وبا کے عذاب کی طرف دھکیلتا رہا کہ امریکہ کو وبا سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور جب وبا امریکہ میں پھیلنا شروع ہوئی تو اس نے علاج پر توجہ دینے اور حکمت عملی بنانے کی بجائے کبھی عالمی ادارہ صحت، کبھی چین اور کبھی ریاستوں کے ڈیمو کریٹک گورنروں کو مورد الزام ٹھہرا کر سرخرو ہونے کی کوشش کی۔ اب وہ ملک میں نسلی امتیاز اور پولیس تشدد کے خلاف وسیع بنیادوں پر ہونے والے احتجاج پر متنازعہ بیان دے کر کم از کم کورونا وائرس کی سنگینی کو میڈیا مباحث اور ٹی وی اسکرین سے دور کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ امریکہ کی عظمت اور ٹرمپ کی بصیرت کے قصے بدستور ٹرمپ کی گفتگو اور بیانات کا کل اثاثہ ہیں۔
ہزاروں میل دور دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے ساتھ پاکستان کا موازنہ کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن عمران خان کی خودستائی انہیں کسی طور چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ گزشتہ روز دوسرے ملکوں کی اموات کا مقابلہ پاکستانی اموات سے کرنے کے بعد آج تازہ بہ تازہ ٹویٹ پیغامات میں انہوں نے ایک بار پھر کہا ہے کہ لاک ڈاؤن ملکی معیشت کو تباہ کردے گا۔ غریب بھوکے مرجائیں گے ۔ وزیر اعظم نے قواعد کے ساتھ سماجی دوری برقرار رکھنے کو ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ کا نام دے رکھا ہے اور اب یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اس نایاب تصور کے بانی بھی وہ خود ہی ہیں۔ البتہ باقی ماندہ دنیا اب اس پر عمل کررہی ہے۔ عمران خان کو نہ جانے اس بات کی کیوں پریشانی رہتی ہے کہ وہ ہر کام میں بازی لے جائیں۔ کبھی کورونا کے باوجود رمضان المبارک میں مساجد کھولنے کا دعویٰ کرکے وہ اسلامی دنیاکا ریکارڈ بنانے پر فخر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی سمارٹ لاک ڈاؤن کے باوا آدم بن کر نمایاں ہونا چاہتے ہیں۔ حالانکہ انہیں سیدھی سی یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ سمیت دنیا کے سب ممالک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کورونا کے پھیلاؤ کا عروج گزر جانے اور اس کی شدت میں کمی واقع ہونے کے بعد کیا گیا جبکہ پاکستان میں اس وقت وزیر اعظم لاک ڈاؤن کو عوام دشمن قرار دے کر ختم کررہے تھے جب کورونا تیزی سے عروج کی طرف بڑھ رہا تھا۔
عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ صرف محفوظ گھروں میں رہنے والے امیر لوگ ہی لاک ڈاؤن کی باتیں کررہے ہیں۔ حالانکہ لاک ڈاؤن کی باتیں تو اب سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ بھی نہیں کرتے۔ وہ جان چکے ہیں کہ وفاقی حکومت کے مسلسل تخریبی اقدامات کی وجہ سے عوام کو لاک ڈاؤن کی افادیت سے آگاہ کرکے ، اس پر آمادہ کرنا جوئے شیر نکالنے کے مترادف ہے۔ دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی دھمکی البتہ سب سے پہلے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے دی تھی جب بازار کھلنے پر لوگ عید کی شاپنگ کے لئے ٹوٹ پڑے تھے۔ یا وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر جنہیں عمران خان سے قربت کی وجہ سے نائب وزیر اعظم کا ہم پلہ قرار دیا جاتا ہے، یہ بات دہراتے رہے ہیں کہ اگر قواعد پر عمل نہ ہؤا تو لاک ڈاؤن کے سوا چارہ نہیں ہوگا۔ اپوزیشن لاک ڈاؤن کی بجائے اب اپنے لیڈروں کی ضمانتوں کے لئے بھاگ دوڑ کررہی ہے یا پراسرا سوشل میڈیا ہستیوں کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر عائد کئے جانے والے الزامات کا جواب دینے پر صلاحیت صرف کررہی ہے۔
اس کے باوجود حیرت ہے کی شبلی فراز جیسے خاموش طبع اور صلح جو وزیر کو بھی اپوزیشن پارٹیوں کی سیاسی سازشوں پر تشویش ہے اور کورونا کے حوالے سے ان کی باتوں میں تضاد دکھائی دیتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس پریس کانفرنس میں شبلی فراز وزیر مواصلات مراد سعید کو سنگت دینے کے لئے موجود تھے جنہوں نے بلاول بھٹو زرداری کے بیان کا جواب دینا تھا۔ انہوں نے ڈٹ کر جواب دیا اور تحریک انصاف کے جوشیلے حامیوں کا دل خوش کردیا۔ انہوں نے پوچھا ہے کہ بلاول تو یہ بتائیں کہ سندھ میں غریبوں کو راشن پہنچانے کے منصوبے کا کیا ہؤا؟ یہ مناسب سا سوال کرنے سے پہلے مراد سعید یا شبلی فراز اگر یہ بتا دیتے کہ وزیر اعظم غریبوں میں 8 ارب ڈالر یعنی لگ بھگ 1280 روپے تقسیم کرنے کا ذکر کرتے رہتے ہیں، ان سے کتنے گھروں کا بھلا ہؤا۔ اور کیا وجہ ہے کہ اس قدر کثیر رقم صرف کرنے کے باوجود عمران خان کو غریب بھوک سے مرتے اور بیروزگاری سے بلبلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ مراد سعید وفاقی امداد کی تقسیم کے جس نظام کا حوالہ دیں گے یقیناً سندھ حکومت بھی ویسے ہی کسی انتظام کی تصویر کشی کرسکتی ہے۔ اس لئے پریس کانفرنس میں بیٹھ کر ایسی جواب دہی کو ہی وبا پر سیاست کرنا کہتے ہیں۔ شبلی فراز کے سوال کا جواب مراد سعید نے ہاتھ کے ہاتھ فراہم کرکے اصل تصویر کے سارے رنگ نمایاں کردیےہیں۔ کورونا ہو یا فصلوں پر ٹڈی کا حملہ، تحریک انصاف کے وزیروں مشیروں کو کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ بس پس آئینہ اپنا چہرہ دیکھنے کا اہتمام کرلیا کریں۔
حقیقت یہی ہے کہ کورونا وبا کا حملہ شدید اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے پاس وسائل محدود ہیں۔ حکومت نے البتہ سیاسی بیان بازی اور تضادات سے بھرپور دعوے کرکے اس مشکل کو دوچند کیا ہے۔ ابھی ملک میں یہ وبا اپنے پہلے مرحلے میں عروج کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ عروج شاید جون کے دوران کسی وقت رو بہ زوال ہوسکے گا۔ وسائل کی کمی اور منصوبہ بندی کی قلت کی وجہ سے یہ کہنا مشکل ہے کہ اس دوران کتنے لوگ اس وبا سے متاثر ہوں گے اور کتنے جاں بحق ہوجائیں گے۔ اور کتنے لوگ وبائی اثرات کے مستقل اثرات کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔ البتہ یہ بات نوشتہ دیوار ہے کہ آئیندہ دو ماہ کورونا کے حوالہ سے شدید مشکل ہوں گے۔
اس دوران اگر سیاسی مقابلہ بازی بند کی جاسکے تو شاید وبا سے پیش آنے والے المیہ کے دوران لوگوں کی ڈھارس بندھانے کا اہتمام کیا جاسکے۔ یہ کام تب ہی ہوسکے گا اگر وزیر اعظم ہاؤس کے مکین اور مجاور کورونا کو وبا ہی سمجھیں، اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کا نایاب موقع سمجھتے ہوئے سیاسی محاذ آرائی سے گریز کریں۔