امریکی سفارت خانے نے سنتھیا رچی کے الزامات پر تبصرہ سے انکار کردیا

  • اتوار 07 / جون / 2020
  • 4570

پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہری اور بلاگر  سنتھیا ڈی رچی کے الزامات پر ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی سفارت خانہ تمام امریکی شہریوں کی معاونت کرتا ہے لیکن نجی معلومات کے تحفظ کے باعث کسی ایک مخصوص کیس کے بارے میں تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام آباد میں سفارت خانے کے ترجمان جوئے ویرئش نے وائس آف امریکہ کی طرف سے بھیجے گئے سوالات کے تحریری جوابات میں کہا کہ پاکستان میں امریکی سفارت خانہ تمام امریکی شہریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرتا ہے۔ سنتھیا ڈی رچی کے معاملے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ نجی معلومات کے تحفظ کی بنا پر کسی ایک شہری کے بارے میں جس کا تعلق امریکی سفارت خانے کے ساتھ نہ ہو، تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔

خیال رہے کہ جمعے کی شام ایک ویڈیو میں سنتھیا ڈی رچی نے الزام عائد کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما رحمٰن ملک نے کئی سال قبل انہیں اپنے گھر پر اس وقت جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جب وہ وزیر داخلہ تھجے۔ انہوں نے سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیرِ صحت مخدوم شہاب الدین پر ایوانِ صدر میں جسمانی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی اور رحمٰن ملک سنتھیا رچی کے الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

فیس بک پر ویڈیو میں سنتھیا رچی نے کہاتھا کہ اس واقعے سے متعلق انہوں نے امریکی سفارت خانے کو آگاہ کیا تھا لیکن اس وقت پاکستان اور امریکہ کے مابین پیچیدہ تعلقات کی وجہ سے موزوں ردِ عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسامہ بن لادن کی ہلاکت ہوئی تھی جب کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات اچھے نہیں تھے۔ ان کے بقول اسی وجہ سے سفارت خانے نے بھی کوئی خاص ردِ عمل نہیں دیا۔

واضح رہے کہ سنتھیا ڈی رچی کہہ چکی ہیں کہ وہ اب ہر طرح کی تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما مستقل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ سنتھیا ڈی رچی کسی کے کہنے پر مہم چلا رہی ہیں۔ سنتھیا رچی کے معاملے پر پیپلز پارٹی رہنما اور سندھ کے وزیر سعید غنی کا کہنا ہے کہ ہمیں ملک کےمسائل پر توجہ دینی چاہیے لیکن مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک خاتون کو سامنے لایا گیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں سعید غنی کا کہنا تھا کہ خاتون جو کہہ رہی ہیں وقت ثابت کرے گا کہ کتنا سچ ہے۔ ان کے بقول اس وقت خاتون کی جھوٹی باتوں کو اتنی اہمیت دی جا رہی ہے کہ ہم کورونا وائرس اور ٹڈی دل کے حملے کو بھول گئے ہیں۔ سعید غنی نے سنتھیا ڈی رچی کا کردار مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی اسرائیل، تو کبھی بھارت جاتی رہی ہیں۔ اگریہ خاتون سچی ہیں تو عدالت میں جائے۔

دریں اثنا اسلام آباد کی ایک عدالت نے امریکی صحافی سنتھیا ڈی رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 9 جون کو جواب طلب کیا ہے۔ پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر شکیل عباسی نے امریکی صحافی سنتھیا ڈی رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کی تھی جس پر اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان نے سماعت کی۔

خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے ان کے خلاف ایف آئی اے سائبر ونگ اور ملک کے مختلف شہروں کے پولیس اسٹیشنز میں مقدمات کے اندراج کے لیے درخواستیں جمع کروائی گئی تھیں لیکن کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ امریکی صحافی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف مہم چلائی ہے جس پر ہم نے بے نظیر بھٹو کے خلاف نازیبا ٹویٹ کرنے پر اندراج مقدمہ کی درخواستیں دائر کی ہیں۔