جنرل باجوہ کی کابل میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات
- منگل 09 / جون / 2020
- 6700
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کابل میں افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے دوران افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔
منگل کو افغانستان میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں قمر جاوید باجوہ صدارتی محل میں افغان صدر سے ملاقات کر رہے ہیں۔ پاکستان کے آرمی چیف کے دورہ افغانستان کے حوالے سے تاحال مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق دورے کا مقصد افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
اتوار کو افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا اور افغان امن عمل کو آگے بڑھانے اور بین الافغان مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ زلمے خلیل زاد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے بھی ملاقات کی تھی۔ بعدازاں خلیل زاد قطر گئے تھے جہاں اُنہوں نے طالبان رہنماؤں سے ملاقات میں افغان عمل پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
افغانستان کی اعلٰی کونسل برائے قومی مفاہمت کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے بھی پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ اپنی ٹوئٹ میں عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ افغانستان میں قیام امن خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ امن معاہدے پر عمل درآمد اور بین الافغان مذاکرات کے جلد آغاز سے ہی افغانستان میں قیام امن کے اس سنہری موقع کے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان کے کسی بھی اعلٰی وفد کا افغان صدر کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد یہ پہلا دورہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بھی سرد مہری پائی جاتی ہے۔ پاکستان کا یہ الزام رہا ہے کہ اسے مطلوب دہشت گرد افغانستان میں روپوش ہیں اور وقتاً فوقتاً سرحد عبور کر کے پاکستانی علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ افغانستان کو پاکستان سے یہ گلہ رہا ہے کہ وہ افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں کی سرپرستی کرتا ہے۔ دونوں ملک ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری 2020 کو طے پانے والے معاہدے میں طے پایا تھا کہ طالبان اور افغان حکومت ایک دوسرے کے قیدی رہا کریں گے جب کہ فوری طور پر بین الافغان مذاکرات شروع کرنے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔ البتہ قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان اختلافات کے باعث بین الافغان مذاکرات تاحال شروع نہیں ہو سکے۔
اس دوران افغانستان کی سیاسی قیادت کے درمیان شراکت اقتدار کے معاملے پر اختلاف رائے سے بھی اس معاملے میں تاخیر ہوئی تھی۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ جلد از جلد افغانستان سے اپنی فوج نکالنا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ زلمے خلیل زاد امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے سرگرم ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو اہمیت دیتا ہے۔ امریکہ کا یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان طالبان دھڑوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کر کے اُنہیں تشدد ختم کرنے پر قائل کر سکتا ہے۔
تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کہتے ہیں کہ یہ بہت اہم دورہ ہے۔ خاص طور پر حالیہ دنوں میں زلمے خلیل زاد کی پاکستان آمد کے بعد آرمی چیف کے کابل جانے کا فیصلہ ہوا۔ اُن کے بقول اس وقت پاکستان، امریکہ اور افغانستان کرونا سے بھی متاثرہ ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ افغان امن عمل کو بھی مکمل کرنا چاہتے ہیں۔