پاکستان میں کورونا وائرس سے ایک روز میں 105 اموات کا ریکارڈ

  • منگل 09 / جون / 2020
  • 5050

پاکستان میں کورونا وائرس کے نئے کیسز اور اموات کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 4646 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

کورونا وائرس پاکستان میں بھی تشویشناک صورتحال اختیار کر رہا ہے اور یومیہ ہزاروں کی تعداد میں کیسز سامنے آرہے ہیں اور درجنوں اموات ہورہی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ابھی تک کورونا وائرس کے ایک لاکھ 10 ہزار 65 مصدقہ کیسز ہیں جس میں سے 2 ہزار 189 کا انتقال ہوچکا ہے۔

پاکستان میں 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے شکار مزید 105 مریض چل بسے جس کے بعد مجموعی ہلاکتیں 2189 ہو گئی ہیں۔ پاکستان میں مزید 4646 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ پاکستان میں ٹیسٹ کرنے کی یومیہ استعداد 25 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ یورپ میں بہتری کے باوجود دنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورت حال بگڑ رہی ہے۔  دنیا بھر میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 72 لاکھ جب کہ وبا سے اموات چار لاکھ آٹھ ہزار سے زیادہ ہو گئی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے پنجاب حکومت کو ایک خط میں صوبے میں کورونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے مریضوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں کم از کم دو ہفتے کے مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔ صوبے میں کورونا کے روزانہ 50 ہزار ٹیسٹ ہونے چاہیئیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھنا خطرے کی بات ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران ہی روزانہ ایک ہزار کیسز رپورٹ ہو رہے تھے۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد روزانہ مریضوں کی تعداد چار ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے لکھے گئے مراسلہ پر نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ خط میں ہدایات کے مطابق کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج اور بچاؤ کے لیے ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول پنجاب میں کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹس کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر بارہ ہزار تک بڑھا دی گئی ہے۔

یاسمین راشد نے بتایا کہ پنجاب میں کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کو شاید آئندہ چند روز میں بند کر دیا جائے گا۔ یاسمین راشدنے مزید کہا کہ وائرس کے باعث پنجاب میں سب سے متاثر ہونے والا شہر لاہور ہے۔ جہاں 19ہزار 300 افراد وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ پاکستان میں یومیہ ٹیسٹ کرنے کی استعداد 25 ہزار کے قریب پہنچ گئی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 24 ہزار 620 ٹیسٹ کیے گئے جس کے بعد ملک میں کیے جانے والے ٹیسٹس کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 90 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں گزشتہ دو سے تین ہفتوں میں تیزی سے اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں ٹیسٹ کرنے کے لیے نئی لیبارٹریاں بنائی جا رہی ہیں جب کہ پہلے سے قائم لیبارٹریز میں ٹیسٹ کی استعداد بڑھائی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ٹیسٹ امریکہ میں دو کروڑ 21 لاکھ، روس میں ایک کروڑ 32 لاکھ، برطانیہ میں 57 لاکھ جب کہ بھارت میں 49 لاکھ کیے گئے ہیں۔ پاکستان دنیا میں ٹیسٹ کرنے کے لحاظ سے 25ویں جب کہ مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے 15ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں حکام نے ایک لاکھ 10ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق کی ہے۔

ادھر بھارتی سپریم کورٹ نے مرکزی و ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ دوسری ریاستوں میں جا کر کام کرنے والے دیہاڑی دار مزدوروں کی شناخت کی جائے اور 15 دن کے اندر انہیں ان کے گھروں کو بھیجا جائے۔   سپریم کورٹ نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر مزدوروں کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات بھی واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے حکومت کو یہ بھی ہدایت کی کہ آبائی ریاستوں میں پہنچنے والے مزدوروں کی فہرستیں بنائی جائیں اور ان کے کاموں کا اندراج کیا جائے جب کہ لاک ڈاون کے بعد ان کے لیے فلاحی اسکیموں کا تعین کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ مزدوروں سے ٹرین یا بس کا کرایہ وصول نہ کیا جائے اور ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے۔