شہباز شریف کا سیاسی مقدمہ
- تحریر سلمان عابد
- منگل 09 / جون / 2020
- 4710
کچھ لوگ یہ منطق دے رہے تھے کہ شہباز شریف کی واپسی ایک خاص مقصد، ڈیل یا حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول شہباز شریف کو لانے کا مقصد عمران خان کی حکومت پر دبا وبڑھانا، فوج اور عمران خان کے درمیان تعلقات کار میں ٹکراؤ اور ایک متبادل سیاسی پلان کی طرف پیش قدمی تھی۔
شہباز شریف کی واپسی کے بعد کے امکانات کا تجزیہ کیا جائے تو بظاہر یہ ہی لگتا ہے کہ ان کی آمد کے بارے میں جو بھی سیاسی پیش گوئیاں کی گئی تھیں، وہ نتیجہ خیز نہ ہوسکیں یا اس میں حقائق سے زیادہ کسی کی خواہش کا عنصر زیادہ تھا۔عملی حقائق یہ ہیں کہ اس وقت عمران خان کی حکومت کو شہباز شریف سمیت حزب اختلاف کسی بھی جماعت سے کوئی بڑ ا خطرہ نہیں او رنہ ہی یہ لوگ حکومت کے خلاف کوئی بڑی سازش یا مزاحمت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عمران خان کی حکومت کا سب سے بڑا خطرہ خود ان کی اپنی حکومت ہے جو اگر حکمرانی کے نظام میں کچھ بہتر پیش نہ کرسکی تو اس کی اپنی سیاسی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی۔
شہباز شریف بنیادی طور پر ایک عملی سیاست دان ہیں۔ عملی سیاست عمومی طور پر کسی بڑے ذہنی خلفشاریا فکری مسائل میں الجھنے کی بجائے عملًا سیاست سے جڑے ہوئے مسائل پر توجہ دینے کا نام ہے۔ شہباز شریف کا سیاسی ماڈل فیصلہ ساز طاقت کے مراکز کے ساتھ معاملات کو جوڑ کر اقتدار کے کھیل میں حصہ داری سے جڑا ہوا ہے۔ وہ اس ہمیشہ سے اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں ہمیں طاقت کے مراکز کے ساتھ ٹکراؤ کی سیاست پیدا کرنے کوشش نہیں کرنی چاہیے۔یہ ہی وجہ ہے کہ شہباز شریف اسٹیبلیشمنٹ کے حلقوں میں کافی حد تک قابل فرد کہ طور پر قبولیت بھی رکھتے ہیں۔اس وقت بھی مسلم لیگ ن اور بالخصوص شریف خاندان کو جو کچھ بھی سیاسی رعائتیں ملی ہوئی ہیں اس کے پیچھے بھی شہباز شریف کی پس پردہ قوتوں سے رابطوں کا عمل دخل ہے۔
شہباز شریف کی پوری کوشش ہے کہ وہ اسٹیبلیشمنٹ میں خود کو عمران خان کے متبادل کے طور پر پیش کریں اور یہ باور کرواسکیں کہ وہ پس پردہ قوتوں کے لیے وہ مسائل پیدا نہیں کریں گے جو نواز شریف یا مریم نواز نے پیدا کیے ہیں۔اسی سو چ اور فکر کے ساتھ وہ اپنی ہی جماعت میں اپنا سیاسی قد کاٹھ بڑا بنا کر پیش کرنے کی کوششوں میں مگن ہیں۔شہباز شریف نے خاموشی سے مسلم لیگ ن کے ان لوگوں کو جو انتخابی سیاست کرتے ہیں اور اس وقت بھی اسمبلیوں کا حصہ ہیں کو صاف پیغام دیا ہے کہ ہم حکومت میں دوبارہ آسکتے ہیں، لیکن اس کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ان کے بقول جو راستہ نواز شریف او رمریم سمیت کچھ پارٹی راہنماؤں نے اختیار کیا اس کا نقصان ہمیں اور فائدہ عمران خان کو اقتدار کی صورت میں ملا ہے۔
اس وقت شہباز شریف پاکستان میں ہیں۔ ان پر ان کے بیٹوں، داماد اور خاندان کے دیگر افراد پر مالی بدعنوانیوں، کرپشن، بے ضابطگیوں سمیت منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔ نیب اور شریف خاندان کے درمیان آنکھ مچولی کا کھیل جاری ہے۔ شہباز شریف نیب سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں، حمزہ شہباز نیب کی تحویل میں ہیں۔ سلمان شہباز اور داماد علی عمران ملک سے باہر ہیں ملک میں آنے سے گریز کررہے ہیں۔شہباز شریف بطور اپنے گھر کے سربراہ کے ان تمام معاملات سے سخت پریشان بھی ہیں کیونکہ اب ان مقدمات میں گھر کی عورتوں کے نام بھی سامنے آرہے ہیں۔ایسے میں شہباز شریف کے لیے سیاست سے زیادہ قانونی مقدمات ہیں اس سے ان کو خود بھی بچنا ہے اور اپنے بیٹوں سمیت خاندان کے دیگر افراد کو بھی بچانا بنیادی ترجیح ہے۔سیاسی طورپر ان کی پہلی ترجیح خود کو نواز شریف کے متبادل کے طور پر پیش کرنا ہے اور اپنی بھتیجی مریم نواز کی سیاست کو پیچھے اور خود کو فرنٹ فٹ پر رکھ کر کھیلنا ہے۔شہباز شریف جانتے ہیں کہ مریم خود کو نواز شریف کا متبادل سمجھتی ہیں اور فوری طور پر وہ قیادت کے لیے خاقان عباسی کو آگے کرنا چاہتی ہیں، جو شہباز شریف کے لیے قابل قبول نہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ ان کو مریم کے سیاسی عزائم کے باعث خود پاکستان آکر بیٹھنا پڑا تاکہ پارٹی پر وہ اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرسکیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں سیاسی طور پر شہباز شریف اور مریم نواز کے درمیان فاصلے نظر آتے ہیں اوراس وقت دونوں کی حکمت عملی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
شہباز شریف کی کوشش یہ ہے کہ وہ باہمی اتفاق سے نواز شریف کو یہ باور کرواسکیں کہ وہ متبادل قیادت کے طو رپر ان کے نام پر اتفاق کرلیں اور اس سے پارٹی اور خاندان دونوں کی سیاست کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔کیونکہ شہباز شریف کبھی بھی نواز شریف کو چیلنج کرکے باہر نہیں نکلیں گے اور وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ووٹ بینک نواز شریف کا ہی ہے اور اس پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے انہیں نواز شریف کی ہی سیاسی حمایت درکار ہوگی۔اس لیے شہباز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک خاندانی سیاست کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ عملی طو رپر اس پوزیشن میں بھی نہیں کہ وہ پارٹی میں نواز شریف کے خلاف کوئی بڑی مزاحمت پیدا کرسکیں۔اسٹیبلیشمنٹ بھی اچھی طرح سمجھتی ہے کہ شہباز شریف ذاتی حیثیت میں کچھ نہیں کرسکیں گے اور اگر وہ نواز شریف کو چیلنج نہیں کرتے تو یقینی طور شہباز شریف ایک سیاسی بوجھ ہی ہوسکتے ہیں اور مریم ہی نواز شریف کا متبادل ہوں گی۔جبکہ شہباز شریف یہ کا م آسانی سے نہیں ہونے دیں گے کیونکہ اس سے شہباز شریف اور حمزہ شہباز دونوں کا کردار ختم ہوسکتا ہے، جو شہباز شریف کے لیے قابل قبول نہیں۔اس لیے مسلم لیگ ن یا شریف خاندان کی سیاست کا حالیہ بحران جہاں اسٹیبلیشمنٹ سے مفاہمت یا ٹکراؤکی سیاست سے جڑا ہوا ہے وہیں بڑا سوال خاندان کے اندر مستقل کی سیاست کے لیے کرداروں کا انتخاب بھی ہے۔اس خاندانی خلفشار نے خود مسلم لیگ ن کے اندر بھی کئی طرح کی گروپ بندیاں پیدا کردی ہیں اور پارٹی کے لوگ ابہام کا شکار ہیں کہ وہ کس کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ ان کی اپنی سیاست بھی بچ سکے۔
شہباز شریف کے حق میں یہ بات ضرور جاتی ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی نے ان کو سیاسی طور پر زندہ رکھاہوا ہے او ریہ بات شہباز شریف اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان دونوں کی خاموشی ہی ان کے سیاسی مفاد میں ہے۔لیکن وہ کب تک ان دونوں کرداروں کو عملی طور پر خاموش رکھ سکیں گے او ربالخصوص مریم نواز کو وہ خود ایک بڑا سوال ہے او راس کا جواب ہی شہباز شریف کے مستقبل کا تعین کرسکے گا۔اصل بات یہ ہے کہ شہباز شریف حزب اختلاف کا حصہ ہوتے ہوئے بھی مفاہمت ہی کی سیاست سے جڑے نظر آتے ہیں اور و ہ سمجھتے ہیں کہ ان او ران کے خاندان کی بچت بھی اسی مفاہمت کی سیاست ہی ہے۔ ممکن ہے کہ مسئلہ شہباز شریف کی گرفتاری کا نہ ہو بلکہ ان پر ایک بڑا دباؤ ڈالنا ہی مقصد ہو تاکہ وہ خود کو سیاسی طور پر محدود کرسکیں۔
اب سوال یہ ہے کہ شہباز شریف کی سیاسی واپسی ممکن ہے۔ فی الحال تو ان کی واپسی ہوگئی ہے اور وہ پاکستان میں ہی ہیں او ریہ بھی انہوں نے ہی طے کرنا ہے کہ وہ عملی سیاست کب شروع کرتے ہیں او راس کی سیاسی حکمت عملی کیا ہوگی۔شہباز شریف کی پہلی کوشش یہ ہوگی کہ وہ پس پردہ قوتوں کی مدد سے خود کو سب سے پہلے قانونی معاملات سے محفوظ بناسکیں او رجو نیب ان کے یا ان کے بچوں کے پیچھے پڑی ہے اس سے ہمیں محفوظ راستہ دیا جائے۔ یہ ہی راستہ وہ اپنے لیے بھی چاہتے ہیں اور اپنے خاندان کے افراد کے لیے بھی کیونکہ ان کو اندازہ ہے کہ اس وقت ان کے خاندان کو قانونی ریلیف کا ملنا اہم نکتہ ہے او راسی بنیاد پر ہم مستقبل کی سیاست میں اپنا رنگ بھر سکتے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کو بھی اس بات کا اندازہ ہے کہ شہباز شریف کو قانونی محاذ پر ہی کنٹرول کرکے ان کی سیاسی گرفت کو کمزور کیا جاسکتا ہے اوریہ ہی وجہ ہے کہ حکومت کا مقدمہ بھی شہباز شریف او ران کے بچو ں کے خلاف قانونی زیادہ ہے او راسی کو بنیاد بنا کر ان کو سیاسی طور پر کمزور کرنا حکومتی پالیسی کا حصہ ہے تاکہ وہ قانونی محاذ پر اس انداز سے جکڑے جائیں کہ سیاسی طور پر ان کی حیثیت کو مفلوج کیا جاسکے۔