فیڈریکو گارشیا لورکا: آمریت شاعر کو قتل کر سکتی ہے، شاعری کو نہیں

زندگی میں بہت سے اجنبی راستے آپ کے قدم اپنی طرف بڑھنے ہی نہیں دیتے چاہے خواہش دل کا آزار ہی کیوں نہ بن جائے۔ پراسراریت کے دھندلکوں میں چھپی سرزمینیں اور ان دیکھی محبت کا فسوں۔

ایسا ہی کچھ معاملہ ہمارے اور سرزمین اندلسیہ کے درمیان پایا جاتا ہے۔ اندلسیہ اور قرطبہ، غرناطہ اور الحمرا۔ ہماری اندلس سے محبت میں کچھ ہاتھ تو اس آ ٹھ سو سالہ تاریخ کا تھا جو بچپن سے سنہرے ماضی کی شکل میں پڑھائی گئی اور ہم نے سوچا کاش نہ ہوتے فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا، تو آج ہم بھی اندلس کی کسی مورش حویلی میں رہ رہے ہوتے۔ خواہش کی اس دھیمی آنچ میں اگر کوئی کسر تھی، تو وہ تارڑ کی  ’اندلس میں اجنبی‘ نے پوری کر دی۔

سو زمانے گزرے کہ ہم قرطبہ کی پتھریلی گلیوں میں آوارہ گھومنے کی تمنا پال بیٹھے مگر وائے افسوس سرزمین اندلس کو ہماری آتش شوق میں وہ گرمی نظر نہ آئی کہ ہمیں رو برو ہونے کا موقع دیتی۔پہلی مرتبہ بہت برس قبل کمند تب ٹوٹی جب ہمیں فرانس پہنچ کے کسی مجبوری کے تحت الٹے پاؤں واپس آنا پڑا۔ دوسری مرتبہ ہالینڈ میں قیام کے دوران ہم فاصلہ ہی ناپتے رہے اور بے انتہا مصروف شب وروز نے مہلت ہی نہ دی۔ تیسری مرتبہ سپین کا لگوایا گیا۔ ویزا آج بھی شکایتی نظروں سے ہمیں تکتا ہے:

بہت دور اور تنہا

چودھویں کا چاند، سیاہ گھوڑا اور زین سے بندھے زیتون

مجھے راستوں کی خبر ہے

لیکن میں قرطبہ نہیں پہنچ سکتا

وادی میں سرسراتی خوشگوار ہوا

سرخ چاند اور سیاہ گھوڑا

موت قرطبہ کے میناروں سے مجھے تک رہی ہے

آہ، سڑک کس قدر طویل ہے

آہ میرے بہادر گھوڑے

آہ موت قرطبہ پہنچنے سے پہلے ہی میرا انتظار کر رہی ہے

قرطبہ ، بہت دور اور تنہا!

گا رسیا لورکا کی یہ نظم ہمیں قرطبہ کے فسوں میں پھر سے مبتلا کر گئی۔ جانتے ہوئے بھی کہ قرطبہ بہت دور ہے اور ہم ابتلا کے دور میں تنہائی کے موسم کا شکار ہیں۔ پانچ جون اٹھارہ سو اٹھانوے کو قرطبہ کے قریب ایک قصبے میں پیدا ہونے والا گارسیا لورکا بیسیوں صدی کے اہم ترین شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے جس کی تحریروں اور نظموں نے دنیا بھر کے ادیبوں پہ اپنے نقوش چھوڑے۔ بیسویں صدی کا انقلابی شاعر!

شاعری اور بغاوت کے ملاپ نے اسے ’جنریشن 27‘کا ایک اہم کردار بنا دیا۔ جنریشین 27 کا آغاز 1923 اور 1927 کے درمیانی برسوں میں سپین میں ہوا۔ یہ ایک ایسی تحریک تھی جس میں شاعروں نے روایت سے انحراف کا سوچا اور فرنچ تحریک ’اواں گارڈ‘ (ہراول) سے متاثر ہو کے اظہار کے لئے معاشرے اور کلچر کی طے کردہ حدود وقیود کو ماننے سے انکار کر دیا۔طے یہ پایا کہ تشبیہات، رومان، تخیل، انفرادیت، ماورائے فہم، غیر منطقی، بے سبب، ٹیڑھے پن کے عناصر سے مزین، ذہن کے نہاں دریچوں سے در آنے والا کوئی بھی خیال محض روایتی نہ ہونے کی وجہ سے رد نہیں کیا جا سکتا۔

قصباتی ماحول میں بچپن گزارنے کا اثر واضح طور پر گارسیا کی تخلیقات میں اتر آیا۔ بیس برس کی عمر میں پہلی کتاب  ’اپمپریشینز اینڈ لینڈ سکیپس‘ زمین سے محبت کا عکس ہے۔ گارسیا اوائل عمری سے پیانو سے آشنا ہوا اور اس کا پہلا عشق یہی ٹھہرا۔ پیانو کی مشق نے اسے نظمیں لکھنے پہ اکسایا اور اس کی پہلی کتاب انیس سو اکیس میں شائع ہوئی جس میں تنہائی، مذہب اور فطرت کے اثرات نظر آتے ہیں۔ اس کی سب سے مشہور کتاب Gypsy Ballad (خانہ بدوش گیت) 1928میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب اندلس کے اس گمنام، پوشیدہ اور لرزاں چہرے سے نقاب اٹھاتی ہے جہاں خانہ بدوش، گھوڑے، جرائم، دریا، پروا، سمگلر اور قرطبہ کی گلیوں میں گھومنے والے ننگے بچے ہیں۔

گارسیا کی ایک اور وجہ شہرت ڈرامہ نگاری بھی بنی۔ اس کے وسیع تجربات نے اسے سوشل تھیٹر کا حامی بنا دیا۔تھیٹر ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ بیک وقت ہنس اور رو سکتے ہیں۔ یہاں وہ سوال کیے جا سکتے ہیں جن کا جواب دل سے ملا کرتا ہے۔اس کے مشہور عالم ڈراموں میں بلڈ ویڈنگ، یرما اور دی ہاؤس آف برنارڈا البا شامل تھے جنہوں نے بورژوائی اندلسیہ کی روایات کو پارہ پارہ کر دیا۔ گارسیا نے معاشرے میں بندشوں سے بندھی عورت کے مقام کو بھی چیلنج کیا۔

موت کے قدموں کی چاپ سن کر نظمیں لکھنے والا گارسیا بالآخر 1936 میں دائیں بازو کے فاشسٹوں کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور اٹھارہ اگست کو فائرنگ سکواڈ نے اس کی جان لے لی:

میں نے تسلیم کر لیا کہ میں قتل کیا جا چکا ہوں

انہوں نے مجھے قبرستانوں ، چرچ اور کیفے میں ڈھونڈا

لیکن میں انہیں نہیں ملا

وہ مجھےکبھی نہیں ڈھونڈ سکے؟

نہیں، وہ مجھے کبھی نہیں پا سکے!

مورش اندلسیہ، بل فائٹنگ ، خانہ بدوشی، فطرت اور انسانی حقوق کو اپنے آرٹ میں پرونے والے شاعر، ڈرامہ نگار اور مصور کی قبر کا آج کہیں سراغ نہیں ملتا:

سہ پہر کے پانچ بجے

سہ پہر کے ٹھیک پانچ بجے

ایک لڑکا سفید چادر لے آیا

سہ پہر کے پانچ بجے

چونے کی باریک تہہ نے محفوظ کر دیا

سہ پہر کے پانچ بجے

باقی موت تھی، اکیلی موت

سہ پہر کے پانچ بجے

(بشکریہ: ہم سب لاہور)