کورونا کے باعث عسکریت پسندوں کا زور بڑھ سکتا ہے: آسٹریلیا

  • بدھ 10 / جون / 2020
  • 4190

آسٹریلیا کے سیکیورٹی انٹیلی جنس محکمے کے سربراہ مائیک بر گیس نے کہا ہے کہ ان دنوں کورونا وائرس کی وجہ سے آ مجرمانہ سرگرمیوں اور دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

آسٹریلیا کی سیکیورٹی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 نے ہیکرز، مجرموں اور دہشت گردوں کو سازگار مواقع فراہم کیے ہیں۔  ان پر ںظر رکھنا اور سیاسی طور پر فعال غیر ملکی مداخلت کاروں کا قلع قمع کرنا ضروری ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ عسکریت پسند گروپ آسٹریلیا میں عوام کو ورغلا رہے ہیں اور اپنے نظریات کا پرچار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آن لائن شاپنگ اور دوسرے آن لائن مالی لین دین کو ہیک کیا جا رہا ہے۔

یہ الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں کہ غیر ملکی حکومتیں بھی کورونا وائرس کی آڑ میں حساس معلومات حاصل کر رہی ہیں۔ آسٹریلیا کے ایک غیر سیاسی ادارے سے خطاب کرتے ہوئے سیکیورٹی انٹیلی جنس محکمے کے سربراہ مائیک بر گیس نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا نے انتہا پسندوں اور مجرموں کو مواقع فراہم کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ لوگ گھروں میں رہتے ہوئے ایسے گروپوں کے ساتھ آن لائن رابطے میں رہتے ہیں اور وہ لوگ اپنے انتہا پسندانہ نظریات کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ہم کو دوسرے انٹیلی جنس اداروں سے بھی ایسی ہی اطلاعات ملی ہیں۔ برگیس نے بعض ٹیک کمپنیوں کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی کہ وہ سیکیورٹی اداروں کو معلومات  فراہم نہیں کرتیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ برگیس یہ نشان دہی اس بات کی عکاس ہے کہ آسٹریلیا کی انٹیلی جنس برادری مزید اختیارات حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ ایسے عناصر کی شناخت کرکے ان کی بیخ کنی کر سکے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال روکا نہیں جا سکتا ، کیوں کہ اسے بہت سے جائز کاموں کے لیے استعمال کیا جانا ناگزیر ہے۔ اس میں تجارت اور بینکنگ شامل ہے۔

آسٹریلیا کے سیکیورٹی انٹیلی جنس محکمے کے سربراہ مائیک بر گیس نے یہ بھی کہا کہ ذاتی معلومات اور سیکیورٹی کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات کا دوبارہ جائزہ لینا چاہئے۔ اس کی مخالفت کرنے والےشہری آزادی کے علم برداروں کا خیال ہے کہ یہ مزید طاقت حاصل کرنے کا ایک حربہ ہے۔