عوام کے مفاد میں حکومت کو مشکل فیصلے کرنے پڑے: ڈاکٹر ظفر مرزا

  • بدھ 10 / جون / 2020
  • 4820

وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے عالمی ادارہ صحت کو بتایا ہے کہ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت بھرپوراور جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ عوام کے مفاد میں ہمیں مشکل فیصلے کرنا پڑے۔ یہ پیغام عالمی ادارے کے ایک خط کے جواب میں دیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے خط کے حوالے سے ڈاکٹر ظفر مرزا نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ قومی رابطہ کمیٹی کے زیر اہتمام قائم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں روزانہ صبح وزارت کی سطح پر صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے اور صوبوں کے ساتھ مل کر فیصلے کئے جاتے ہیں۔

کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت بھرپور جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی ماہرین کی مدد سے بیماری کے ڈیٹا اور رجحانات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور صوبوں سے مشاورت کر کے قومی رابطہ کمیٹی کے لیے تجاویز تیار کی جاتی ہیں جس کی سربراہی وزیراعظم کرتے ہیں۔ اس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم شرکت کرتے ہیں۔ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کم آمدنی کا حامل ملک ہے جہاں دو تہائی آبادی روزانہ آمدنی پر گزر بسر کرتی ہے اور کورونا کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے عوام کے بہترین مفاد میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ظفر مرزا نے کہا کہ ہمیں مشکل فیصلے کرنا پڑے ہیں اور زندگیوں اور روزگار دونوں میں توازن برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دانستہ طور پر ملک میں آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن میں نرمی کی اور دکانوں، مساجد، مار کیٹوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے ایس او پیز پر زور دیا جبکہ ماسک پہننے کو پورے ملک میں لازمی قرار دیا گیا۔ ہم نے انتہائی فعال ٹریسنگ ٹیسٹنگ قرنطینہ پالیسی متعارف کروائی جس کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ والے علاقوں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔

ظفر مرزا کے مطابق اس وقت ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے سات سو مختلف مقامات ہیں اور کورونا کے حوالے سے ہماری حکمت عملی کا ایک پہلو اپنے صحت کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔  پالیسیاں تحقیق اور تکنیکی اعتبار سے حاصل کیے گئے تجزیات کی بنیاد اور معیشیت کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جاتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت اقوام متحدہ کے صحت عامہ کا ایک تکنیکی ادراہ ہے اور اس وبا کی روک تھام سمیت ہم صحت کے حوالے سے ان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور عالمی ادارہ صحت کے کام کے معترف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت کا کام ہے کہ وہ اپنے رکن ممالک کو تجاویز پیش کرے لیکن اسے یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ حکومتوں کو فیصلہ سازی کے لیے تمام بڑے معاملات سامنے رکھ کر ملک کے بہترین مفاد میں فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو لکھے گئے مراسلے میں تجویز دی گئی تھی کہ ملک کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ’وقفے وقفے سے لاک ڈاؤن‘ نافذ کرے۔ عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ وہ کورونا وائرس کے عدم پھیلاؤ کے لیے نافذ لاک ڈاؤن میں مکمل نرمی سے گریز کرے کیونکہ پاکستان احتیاطی تدابیر سے متعلق 6 شرائط (نکات) میں سے کسی ایک پر بھی پورا نہیں اترتا۔

7 جون کو لکھے گئے مراسلے میں پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کی کنٹری ہیڈ ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا نے کہا کہ کورونا وائرس ملک کے تقریباً تمام اضلاع میں پھیل چکا ہے اور بڑے شہروں میں کیسز کی اکثریت ہے۔ ہانگ کانگ کے اسٹڈی گروپ نے کورونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی پر پاکستان کو ایشیا اور بحرالکاہل کا چوتھا خطرناک ملک قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد کورونا وائرس متاثر ہو چکے ہیں اور متاثرین کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ  رہی ہے۔