ناروے میں اشاعت اسلام کے اولین علمبردار: حاجی محمد لطیف
- تحریر عزیر محمد طاہر
- بدھ 10 / جون / 2020
- 30660
اقوام متحدہ کے چند سال قبل کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق آج دنیا میں مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد ریاست ہائے امریکہ میں آباد ہے جن کی تعدادسیتالیس ملین بتائی جاتی ہے جبکہ یورپ میں تین ملین کے لگ بھگ مہاجرین بستے ہیں جن میں سے ڈھائی ملین غیر یورپی ممالک کے مہاجرین ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ لوگ جب ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے ہیں تو وہ اپنی ثقافت و رواج اور زبان و مذہب کو بھی لے جاتے ہیں یہ ان کے نئے وطن میں ان کی شناخت کی علامت ہوتی ہے ۔ ان میں سے اپنی ثقافت و مذہب سے محبت کرنے والے کچھ لوگ اپنی آنے والی نسل میں یہ لوگ اپنی لسانی ثقافتی اور مذہبی شناخت برقرار رکھنے کے لئے شب و روز کوشاں رہتےہیں۔ ان مہاجرین میں ایک قابل ذکر تعداد پاکستانیوں کی بھی ہے جنہوں نے امریکہ و یورپ کی طرف ہجرت کی۔ اسی طرح گزشتہ صدی کی چھٹی دہائی کےاختتام اور ساتویں دہائی کے شروع میں پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد نے ناروے ہجرت کی۔
ناروے کی طرف ہجرت کر کے آنے والے لوگوں میں ایک نام حاجی محمد لطیف چشتی گولڑوی کا بھی ہے۔ حاجی صاحب 1971 میں پاکستان سے ناروے آئے ، پھر یہیں کے ہورہے۔ زندگی یہاں گزار دی مگر یہ حقیقت کہ ہے انہوں نے قابل رشک زندگی گزاری۔ پاکستان ضلع گوجرانوالہ کے ایک مضافاتی گاؤں جہلن نزد حافظ آباد سے تعلق ہے۔ یہ ان لوگوں میں سے تھے کہ جنہوں نے ناروے آنے کے بعد صرف مال و زر کا ہی نہیں سوچا بلکہ ان کی پہلی فکر دین اور یہاں رہائش پذیر لوگوں میں اس کی تعلیم و ترویج تھا۔ حسن اتفاق کہ تقریباً یہ سارا گروپ گولڑہ مقدسہ سے شرف بیعت رکھتا ہے۔ ہمارے ممدوح گرامی بھی نور نظر تاجدار گولڑہ حضرت پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمۃ ، حضرت بابو جی قبلہ سے بیعت تھے۔ حضرت بابو جی کے اس سفر کے متعلق شیخ الحدیث و خطیب جامع مسجد گولڑہ ، استاذالاساتذہ علامہ محمد مشتاق احمد چشتی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ جب یہ حضرت غوث اعظم کے مزار اقدس پہ حاضر ہوئے تو آپ نے مزار کے اندرونی احاطے کے چہار اطراف کی دیواروں کو بوسہ دیا اور آنکھیں ٹھنڈی فرمائیں۔ باہر نکلے تو کسی نے ایسا کرنے کے متعلق سوال کر دیا۔ فوراً حضرت بابوجی نے قيس بن الملوح جو لیلیٰ کے حوالہ سے مجنوں کے لقب سے مشہور ہیں کا یہ شعر پڑھا:
أَمُرُّ عَلى الدِيارِ دِيارِ لَيلى
أُقَبِّلَ ذا الجِدارَ وَذا الجِدارا
وَما حُبُّ الدِيارِ شَغَفنَ قَلبي
وَلَكِن حُبُّ مَن سَكَنَ الدِيارا
کہ ایک دن میں کوچہ لیلیٰ سے گزرا تو درودیوار کو چوما کسی نےپوچھا کہ یہ کیوں، تو کہا مجھے ان درودیوار سے تو کوئی الفت نہیں میں تو اس مکان کو اس کے مکین کی وجہ سے چوم رہا ہوں۔
بات دور نکل گئی ہمارے حاجی محمد لطیف جو اتنی بڑی نسبت کے حامل تھے اور اس نسبت کی برکتیں بھی ان کے دامن میں تھیں۔ اسی لئے انہوں نے ناروے آتے ہی اس چیز کو محسوس کیا کہ یہاں ہمارے بچوں کو اسلامی اقدار وروایات سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے، اور خصوصاً قرآن مجید کی تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے گھر سے ہی بچوں کو فی سبیل اللہ قرآن مجید پڑھانا شروع کر دیا۔ قرآن مجید کے ساتھ گیارہویں شریف اور تعلیم وتربیت کی چھوٹی چھوٹی محافل کا انتظام ہونے لگا۔ اسی دوران اپنے قریبی لوگوں سے مل کر انجمن حنفیہ کی بنیا د رکھی ، جس کے زیر اہتمام پہلے کرائے کی جگہ لے کر نماز پنجگانہ کا آغاز کیا اور سالانہ عید کی نماز کے لئے کبھی کبھار تو سینما ہال لیا جاتا تاکہ وہاں لوگ تسلی سے عید کی نماز ادا کرسکیں ۔ اسی انجمن حنفیہ کی زیر نگرانی مرکزی جماعت اہل سنت کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور پاکستان سے ایک عظیم عالم دین خطیب اعظم علامہ محمد مشتاق احمد چشتی کو یہاں مدعو کیا گیا ۔ ان کی آمد کے بعد یہاں ایک بہت بڑا مرکز قائم ہؤا جس کا نام مشورے سے مرکزی جماعت اہل سنت اوسلو رکھا گیا ۔
ناروے کے مسلمانوں کی تاریخ میں علامہ مشتاق احمد چشتی علیہ الرحمہ کی خدمات ایک روشن باب کی طرح ہیں ۔ اب وہ مرکز الحمد للہ سکینڈے نیویا کی سب سے بڑی مسجد اور اہل سنت کا سب سے بڑا مرکز ہے، جس میں پیر طریقت مولانا علامہ پیر سید نعمت علی شاہ امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ یہاں سے ہی سالانہ میلاد النبی ﷺ کا ناروے کا سب سے بڑا جلوس برآمد ہوتا ہے۔
جب کہ ناروے میں کوئی مسجد نہیں تھی تو قرآن کی تعلیم وتربیت کے لئے درسگاہ کے طور پر حاجی محمد لطیف کا گھر ہی تھا ۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستانی نئے نئے یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ مشن تھا کہ چند پیسے کمانے ہیں اور واپس جانا ہے۔ اسی لیے سولہ سولہ گھنٹے یا اس سے بھی زائد وقت ڈیوٹی پر یا پیسے کمانے پر لگایا جاتا ۔ مگر یہ مرد مجاہد ایک ڈیوٹی کر کے باقی سارا وقت قر آن پڑھانے میں گزار دیتا ۔ آج مساجد میں درجن سے زیادہ لوگ انتظامیہ میں ہوتے ہیں اور مساجد کے حسن انتظام پر فخر کرتے ہیں۔ یہ ہے بھی اعزاز کی بات کہ ناروے میں قیام پذیر مسلمانوں نے ہی ناروے میں اتنے بڑے بڑے مراکز قائم کیے۔ اپنے خاندان بھی پالے پوسے ، اپنے گھر بھی بنائے اور اولادیں بھی پڑھائیں۔ مگر حاجی لطیف نے ایسے عالم میں سینکڑوں بچوں کے سینوں کو قرآن کے نور اور محبت و عشق مصطفیٰ ﷺ کے چراغوں سے منور کیا۔ آج بہت بڑی تعداد ان کے شاگردوں کی موجود ہے:
چمن میں پھول کا کھلنا تو کوئی بات نہیں
زہے وہ پھول جو گلشن بنا دے صحرا کو
جب پردیسی اپنے وطن جاتے ہیں تو واپسی پر ضروریات کا سامان کافی ہوتا ہے مگر یہ مردخدا جب بھی جاتا تو واپسی پر سامان کیا ہوتا قاعدے ،سپارے، قرآن مجید ، نماز اور بنیادی ضروریات کی کتابیں ہوتیں جن سے بچوں کی تعلیم و تربیت کا کام لیا جاتا۔ صحیح بخاری اور مسلم میں ہے کہ فتح خیبر والے دن نبی اکرم ﷺ نے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کو جھنڈا دیتے ہوئے فرمایا: ’علی اگر تیری وجہ سے ایک آدمی بھی ہدایت پر آجائے تو اللہ کی قسم یہ مال غنیمت کے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے‘۔ قارئین گرامی! اس حدیث پاک کی روشنی میں ان افراد کی قدر ومنزلت اور ان کےلئے انعام خداوندی کا اندازہ ہوتا ہے جن کے سبب کوئی ہدایت پاجائے۔ وہ بھی خصوصاً ایسے ملک میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں۔
لگتا ہے حاجی صاحب کے کان میں کسی نے یہ سنہرا قول ڈال دیا تھا تبھی تو یہ اسی مشن میں جُت گئے اور اس قدر کامیاب ٹھہرے کہ اس کی گواہی صرف لوگوں کی زبانیں ہی نہیں زمینی حقائق بھی دیتے ہیں۔ جتنے ان کے شاگرد یہاں پائے جاتے ہیں اتنے شاید کسی بڑے علمی کے مرکز نے بھی پیدا نہ کیے ہوں۔
حاجی صاحب کو اللہ پاک نے خوبصورت اخلاق و کردار کے ساتھ ساتھ خوبصورت لہجے اور آواز سے بھی نوازا تھا۔ بڑے خوبصورت انداز میں نعت شریف پڑھتے ۔ اور لطف یہ کہ موقع کی مناسبت سے نعت کا انتخاب ہوتا۔ گزشتہ ربیع الاول شریف میں ان کے لخت جگر علامہ حافظ نجیب الرحمان ناز نے اپنے گھر میلا د شریف کا اہتمام کیا تو اختتام محفل پر میں نے عرض کیا کہ آپ کی آواز ماشا اللہ اب بھی جوانوں والی ہے۔ فوراً کہنے لگے کہ جواناں آلی کیا مطلب؟ میں ابھی بھی جوان ہوں۔۔۔
ابھی 8 فروری 2020 کو محترم ناز صاحب نے علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی نوراللہ مرقدہ کا لکھا ہوا کلام:
کیا شان شہنشاہِ کونین نے پائی ہے
ختم آپ ﷺ کی ہستی پر ہر ایک بڑائی ہے
ہر ایک فضیلت کے ہیں مظہر کامل وہ
کیا ذات شہ والا خالق نے بنائی
ان کی آوا ز میں فیس بک پہ شیئر کیا سن کے دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کس قدر پکا راگ اور سر کے اتار چڑھاؤ پہ انہیں مہارت ہے کہ حیرانی ہوتی ہے ۔
شرح الصدور میں علامہ زماں علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’ حضرت سیدنا ثابت نے ایک بار دعا مانگی اے اللہ قبر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے تو مجھے ضرور دینا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو قَبر میں اُتارنے والوں کا بیان ہے کہ جب ہم اینٹیں رکھ چکے تو اچانک ایک اینٹ گر پڑی، ہم نے دیکھا کہ حضرت ثابت اپنی قَبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرتِ سیِّدنا ابراہیم بن صمہ فرماتے ہیں کہ مجھے آپ کے مزار کے قریب سے گزرنے والے کئی لوگوں نے بتایا کہ جب ہم حضرتِ ثابت بنانی کی قَبر کے پاس سے گزرتے ہیں تو قرآن پڑھنے کی آواز سُنائی دیتی ہے۔(صفحہ188)
میرا وجدان کہتا ہے کہ محترم حاجی محمد لطیف سے اگر رب قدیر نے پوچھ لیا کہ جی حاجی صاحب یہاں کیا چاہتے ہیں تو وہ کہہیں گے کہ خدمت تو وہی کرنا چاہتا ہوں قرآن پڑھانا ہو یا نعت رسول پاک ﷺ زبان پہ رہے۔ میرا تو مقصد ہی عشق رسالت مآب ﷺ کا فروغ تھا اور یہی کرتا چلا آیا ہوں:
لحد میں عشق رخ شاہ کا داغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کے چلے
انہوں نے صرف قرآن کی خدمت اس حد تک نہیں کی کہ بس لوگوں کے بچوں کو قرآن مجید پڑھا دیا بلکہ خود اپنی اولاد کو ایسے ماحول میں جہاں انسان آیا ہی پیسے کمانے ہو تو وہ دونوں ہاتھوں سے کمائی کی کوشش کرتا ہے مگر یہ مرد مومن ایسے حالات میں بھی اپنی اولاد کو قرآن کی تعلیم اور اسلام کا مبلغ بنانے کا خواہشمند رہا۔ ان میں سے ایک تو باقاعدہ مستند عالم اور فاضل ہیں۔ علامہ مولانا نجیب الرحمان ناز زید مجدہ، کو ابتدا جامعہ الکرم یوکے، پھر بھیرہ شریف اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد بھیجا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں یہاں پہلے مرکزی جامع مسجد ورلڈ اسلامک مشن میں بحیثیت صدر اور پھر امام و خطیب کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔ ناروے کی علمی تاریخ میں یہ شاید پہلے عالم فاضل ہیں جو نارویجن زبان بھی اچھی طرح بولتے ہیں۔ آج نارویجن زبان میں جس قدر علمی و اسلامی ذخیرہ کتب موجود ہے اس کی ابتدا میں سب سے زیادہ محنت و کاوش علامہ ناز صاحب اور ان کے رفقا کار کی ہے ۔ ہنوز وہ اپنی دینی خدمات نارویجن آرمی میں ایک اعلیٰ عہدے پر ادا کر رہے ہیں۔ یہ بذات خود اہل اسلام و پاکستان کے لئے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔
علما کے ساتھ حاجی لطیف کی محبت کا یہ عالم تھا کہ آج ان کی فاتحہ کی مجلس میں علامہ پیر سید محمد اشرف شاہ، علامہ جناب قاری نورعلی سیالوی اور علامہ قاری خالد محمود قادری کی موجودگی میں،دھیمے اور میٹھے مزاج کے حامل علامہ پروفیسر عطاء المصطفیٰ اور قاری محمد اشرف سیالوی فرمانے لگے کہ ابتدا میں حاجی صاحب نے جو خدمت کی اس کی مثال نہیں ملتی۔ دو تین دن ملاقات نہ ہوتی یا ان کے گھر جانا نہ ہوتا تو بلانے آجاتے اور اپنے گھر لےجاتے اور خوب محبت فرماتے۔۔۔ مجھے ناروے میں آئے جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے تو میرے ساتھ ان کی محبتیں اور شفقتیں اس قدر تھیں تو قدیمی آئمہ اور فضلاء کرام کے ساتھ محبت، اخلاق اور اخلاص کا کیا عالم ہوگا۔
پروفیسر عطاء المصطفیٰ نے ہی فرمایا کہ قرآن سے حاجی صاحب کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک سال میں نے بتایا کہ اس سال تراویح کے لئے جگہ نہیں بن سکی تو فوراً کہا کہ میرا گھر حاضر ہے ہم وہاں تراویح پڑ ھیں گے۔ گزشتہ سے پیوستہ نماز عید الفطر ہماری مسجد لورنسکوگ مسلم سنٹر میں ادا کی۔ دوران گفتگو میں نے مسجد کے حوالہ سے گفتگو میں کہا کہ حاجی محمد لطیف چشتی صاحب ناروے کے مسلمانوں کے سب سے بڑے محسن ہیں ، انشا للہ جب ہم نے نئی مسجد کا سنگ بنیاد رکھوانا ہے تو ان سے رکھوائیں گے۔ بڑے خوش ہوئے اور دعائیں دیں ساتھ کہنے لگے دنیا میں کافی کما لیا ہے اب اس کا اجر آگے جا کے لینا ہے۔ انشا اللہ۔۔
لیں حاجی صاحب اب آپ کے اس اجر کی باری شروع ہوچکی ہے۔ اللہ کریم محبت قرآن کے بدلے آپ کو کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے اور آپ کی قبر کو نگاہ نبوی ﷺ کی برکت سے روشن فرمائے۔ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں چراغ لا کے رکھا مسجد روشن ہوگئی۔ رسول اکرم ﷺ تشریف لائے مسجد کو روشن دیکھا تو مولاعلی فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ مسکرا کر فرمانے لگے کہ تمیم داری تم نے جس طرح اللہ کا گھر روشن کیا اللہ تمہاری قبرکو بھی اس طرح روشن کرے۔۔
اسی دعا کی برکت سے اللہ کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ حاجی محمد لطیف چشتی گولڑوی نے جس طرح یہاں ایک نسل کے سینوں کو قرآن کے نور اور عشق و محبت مصطفیٰ ﷺ سےروشن اور منور کیا اللہ اسی طرح انکی قبر کو روشن فرمائے۔ آمین
(حاجی محمد لطیف 9 جون کو قضائے الہیٰ سے وفات پاگئے۔ ادارہ کاروان ان کے انتقال پر ان کے اہل خانہ اور احباب سے اظہار تعزیت کرتا ہے)