عالمی آبادی کی منصوبہ بندی

کویڈ۔ ۱۹ کےوبائی حملےاور کرونا وائرس سے دنیا بھر میں اموات نے لوگوں کو طبعی اور نفسیاتی طور پر متاثر کیا ہے ۔اس دوران ایسی آوازیں بھی سننے میں آئی ہیں کہ بل گیٹس جیسے کچھ لوگ زمین پر آبادی کو کم کرنے اور ارضی وسائل پر بے جا دباؤ ہٹانے کے لیے ، موت کا وائرس پھیلا رہے ہیں ۔

 اس قسم کی منصوبہ بندی کوئی نئی بات نہیں ۔ اس بحث سے مجھے نارویجین محقق پیر آسلاک ایرٹریسووگ کی کتاب یاد آئی جو لگ بھی ۱۴ برس پہلے چھپی تھی اور جسے میں نے نوسال پہلے دیکھا تھا ۔کتاب کا نام تھا :

Makten bak makten

Av

Per Aslak Ertresvåg

یہ کتاب پہلی بار غالباً ۲۰۰۶ میں چھپی تھی مگر مجھے ٹھیک سے یاد نہیں ۔اس کتاب کا ایک مضمون یا باب مجھے حیران کرگیا تھا اور میرا دل دہشت سے بھر گیا تھا ۔ یہ مضمون ایڈز اور دوسرے کیمیاوی جرثوموں کے بارے تھا  جس میں بتایا گیا تھا کہ دنیا کی آبادی کو کم کرنے کے لیے کون کون سی تدابیر اختیار کی جانی چاہیئیں ۔لُبِ لباب یہ تھا دنیا کی آبادی کو کم ہونا چاہیے اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا کی کل آبادی زیادہ سے زیادہ پانچ ارب ہونی چاہیے اور تخفیفِ آبادی کا حاصل یہ ہوگا کہ ہماری تہذیبی ، اخلاقی اور تاریخی اقدار مضبوط اور مستحکم رہیں گی ۔

آبادی کے کنٹرول کے لیے بہت سے طریق ہائے کار دریافت کیے جاتے رہے ہیں اور مختلف کیمپوں سے بھانت بھانت کے نظریات پیش کیے گے ہیں ۔ امریکہ کے ایک سابق اعلیٰ حکومتی عہدیدار پاؤل وولفوئٹز جو ناب وزیر دفاع اور عالمی بنک کے سربراہ بھی رہے ہیں ، براہ راست دو ٹوک انداز میں کہا کرتے تھے کہ : ہمیں دنیا کے غیر مہذب ملکوں سے گندے پانی کی نکاسی کرنی ہو گی ۔ میں نے بہت سوچا کہ وہ غیر مہذب ملک کسے کہتے ہیں تو مجھے لگا کہ غیر مہذب قومیں وہ ہوتی ہیں جو اپنے عوام کو عزت اور سہولت سے ضروریاتِ زندگی فراہم نہیں کرسکتیں ، سب بچوں کو سر پر چھت اور تعلیم کی سہولت میہا نہیں کر سکتیں اور وقت پر طبی مدد کی ضمانت نہیں دے سکتیں ۔ غیر مہذب اور مہذب قوم کے اس فرق کو محسوس کر  کےمیں دل مسوس کر رہ گیا ۔

دنیا کی آبادی کو متوازن رکھنے کے ضمن میں بہت سے نظریات اور کتابیں موجود ہیں ۔ بھگوت گیتا میں غیر ضروری فاضل آباد ی کا تصور موجود ہے ۔ سر تھامس مالتھس نے ایک زمانے میں اپنا آبادی کا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب آبادی غیر متواز ن ہوجائے تو فطرت وباؤں اور آفات کے ذریعے اسے کم کرتی ہے ۔ اور اب بھی ایسے نظریات موجود ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ آبادی کو کم کرنے کے لیے ایڈز اور مصنوعی بحران کے علاوہ کیمیاوی طریقوں سے ہوا کے  ذریعے بکٹیریا پھیلایا جا سکتا ہے ۔ اس نقطہ  نظر کو مستحکم بنانے کے لیے کئی جتن کیے گئے ہیں ۔

مثال کے طور پر  امریکہ میں جارجیا کے البرٹ ڈسٹرکٹ میں ایک دومنزلہ مکان کی بلندی کے برابر ایک یادگار ی تعمیر کھڑی ہےجو خام گرینائٹ میں جدید فنکارانہ فنِ تعمیر کا شہکار ہے۔ اس تعمیر میں آٹھ افقی پتھر ایک دوسرے کے اوپر نصب ہیں جن کی چوٹی پر ایک تختی نصب ہے جس پر لکھا ہے : اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ دنیا کی آبادی ، زمین کے وسائل اور فطرت کے تقاضوں کے مطابق متوازن رہے جو پانچ ارب سے زیادہ نہ ہو ۔

یہ یادگاری تمعمیر  کس نے کی یا کروائی  ، میں نہیں جانتا مگر یہ تعمیراتی شہکار اپنے پیغام سمیت وہاں ایستادہ ہے ۔اور اگر اس پیغام کو سنجیدگی سے لیا جائے تو آبادی کو کم کرنا ضروری ہے ۔ اگر دنیا کے حالات کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آبادی کو متوازن رکھنے کے لیے بہت سے واقعات رونما ہوئے ہیں یا کیے گئے ہیں ۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں لگ بھگ سو ملین لوگ موت کے گھاٹ اترے ۔ تقسیم ہند کے وقت سرحدوں کے دونوں طرف قتل و غارت گری میں دس لاکھ افراد صفحہ ہستی سے مٹ گئے ۔

اس کے بر عکس سفید فام نسل کو مھفوظ رکھنے اور اناج کے دشمنوں کا صفایا کرنے کے لیے پچھلی صدی کے آغاز سے باقاعدہ منصوبہ بندی جاری ہے ۔یہ کہانی بہت دل چسپ اور فکر انگیز  سہی مگر لمبی ہے  اور سرِ دست میں اس کی تفصیل میں جانے کے بجائے  کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے موضوع پر ہی اکتفا کروں گا۔

تاریخ میں یہ بھی محفوظ ہے کہ ۲ اکتوبر ۱۹۷۰کو رابرٹ میکنامارا نے بینکاروں کی عالمی کانفرنس کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت سب سے سنگین مسئلے سے دوچار ہیں اور وہ آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح اور غیر ضروری افزائش ہے جو ہماری دنیا کی بقا کے لیے خطرہ ہے  اور ہمیں اپنی دنیا کو رہنے کے قابل بنانے کے لیے یا تو خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعے شرحِ پیدائش کو کم کرنا ہوگا یا پھر موت کی شرح کو بڑھانا ہوگا ۔

اس شرمناک منصوبے کا سب سے بھیانک واقعہ یہ تھا کہ ۱۹۷۸ میں امریکہ میں دو ہزار ہم جنس پرستوں کو امریکہ کے چھ شہروں نیویارک ، سان فرانسسکو ، لاس اینجلز ، سینٹ لوئیس ، ہوسٹن اور شکاگو میں   ہیپاٹائٹ بی کی ویکسین کے ساتھ ایڈز وائرس کے انجکشن دیے گئے ۔۱۹۸۸ میں برطانیہ کے ایوانِ زیریں میں ایک رپورٹ پیش کی گئی جسے لندن کے رائل کالج آف میڈیسن کے ڈاکٹر جون سیل نے لکھا تھا کہ اس بات کا غالب امکان ہے کہ ایڈز کی وبا امریکہ میں باقاعدہ منصوبے کے تحت تخلیق کی گئی ۔ اس منصوبے سے گنتی کے چند لوگ آگاہ تھے ۔ اس وبا کو دیدہ دانستہ پھیلایا گیا اور اس کے مدافعتی اقدامات اور علاج کی معلومات کو پھیلنے سے روکا گیا ۔ ان تاریخی معلومات کی روشنی میں جب میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اموات کی شرح کو دیکھتا ہوں تو چیخ کر نعرہ لگاتا ہوں : امریکہ زندہ باد!

( یہ مضمون پیر اسلاک کی کتاب کے مطالعے کی یادوں پر مشتمل ہے )