پاکستان میں کورونا کا پھیلاؤ جاری، شہباز شریف بھی وائرس کا شکار
- جمعرات 11 / جون / 2020
- 3890
پاکستان میں گزشتہ 24 گھںٹوں کے دوران مزید 5834 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ وبا سے اب تک ملک میں 2356 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ متاثرین کی تعداد اب ایک لاکھ بیس ہزار تک پہنچنے والی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
دنیا میں اس وقت 74 لاکھ افراد کورونا کا شکار ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار لاکھ 17ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ امریکہ میں کیسز کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ لاطینی امریکہ میں کورونا وائرس مسلسل پھیل رہا ہے جبکہ ہورپ میں بہتری کے آثار ہیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حکومتی گائیڈ لائنز پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین دونوں کے دوران صوبے میں ایس او پیز پر عمل نہ کرنے پر سینکڑوں افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔ 584 دکانوں، کاروباری مراکز اور سرکاری دفاتر کو سیل کر کے لاکھوں روپے جرمانے کیے گئے ہیں۔
حکام کے بقول صوبے میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر بھی دکان داروں اور تاجروں کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ حکومت کے ایس او پیز کے تحت 50 سال سے زائد عمر کے ملازمین کو دفاتر نہ آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نزلہ، زکام اور فلو کی علامات رکھنے والوں کو بھی گھروں میں رہنے کا کہا گیا ہے۔ جن خواتین افسران اور اہلکاروں کے بچے ڈے کیئر سنٹرز میں ہوتے ہیں اُنہیں بھی دفاتر نہ آنے کا کہا گیا ہے۔ دفاتر میں ٹیلی فون، فیکس، پرنٹر اور دیگر اشیا استعمال کرنے وقت بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ارکان کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے تدارک پر بحث کر رہے ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے رکن خواجہ آصف نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم کرونا وائرس کی زد میں ہے لیکن حکومت کی کوئی پالیسی نظر نہیں آ رہی۔
انہوں نے کہا کہ یکم جون کو وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جیسا چاہتا تھا ویسا لاک ڈاؤن نہیں ہوا اور پھر چار جون کو انہوں نے کہا کہ اُنہیں پتا تھا کہ لاک ڈاؤن کھلے گا تو کورونا بڑھے گا۔ خواجہ آصف کے بقول وزیرِ اعظم کی باتوں سے ان کے ارادوں کا پتا لگتا ہے۔