توشہ خانہ کیس میں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
- جمعرات 11 / جون / 2020
- 5540
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے حکومتی توشہ خانہ سے تحفے میں ملنے والی گاڑیوں کی غیر قانونی طریقے سے خریداری کے مقدمے میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
نواز شریف اس وقت لندن میں مقیم ہیں اور عدالت نے وزارتِ خارجہ کو حکم دیا ہے کہ وہ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کروائے۔ جمعرات کو اس ریفرنس کی سماعت شروع ہوئی تو نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نواز شریف ان دنوں لندن میں مقیم ہیں اور ان کے گھر کا پتا بھی معلوم کرلیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہیں اور یہ وہی فلیٹس ہیں جن کے ریفرنس میں مجرم نواز شریف کو سزا سنائی گئی تھی۔
واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ہی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو لندن کے علاقے پارک لین میں واقع ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے مقدمے میں 11 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سزا کو معطل کر دیا تھا۔
سماعت کے دوران نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ برطانیہ کے اخبارات میں اشتہار دے کر بھی عدالتی حکم کی تعمیل کروائی جاسکتی ہے۔ عدالت نے نیب کے وکیل کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے وزارت خارجہ کو عدالتی احکامات پر عمل درآمد کروانے کا حکم دیا۔
احتساب عدالت کے جج نے اس ریفرنس کے شریک ملزم اور سابق صدر آصف علی زرداری کی ایک دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی منظور کی۔ ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل ان دنوں کراچی میں ہیں اور وہ کورونا وائرس کی وجہ سے اسلام آباد نہیں آ سکتے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ملزم کے عدالت میں پیش ہونے کی صورت میں کمرہ عدالت میں لوگوں کا رش بڑھ جائے گا جوکہ موجودہ حالات میں ٹھیک نہیں ہے۔
مقدمے کے ایک اور شریک ملزم اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی آئندہ سماعت پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی جس پر عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کر دیا۔ ریفرنس کی سماعت30 جون تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ پاکستان کے سب سے اہم عہدوں ہر فائز رہنے والی یہ سیاسی شخصیات مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں معمولی رقم ادا کرنے کے بعد توشہ خانہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔