بیرم مسجد پر حملہ کرنے والے فلپ مان ہاؤس کو اکیس برس قید کی سزا

  • جمعرات 11 / جون / 2020
  • 6730

گزشتہ سال اگست میں ناروے کے علاقے بیرم میں ایک مسجد پرحملہ کرنے اور اس سے پہلے نسلی تعصب کی بنیاد پر اپنی سترہ سالہ سوتیلی بہن کو ہلاک کرنے کے الزام میں ایک مقامی عدالت نے 22 سالہ فلپ مان ہاؤس کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا سنائی ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق مجرم کو 21 سال قید کی سزا دی گئی ہے جس میں سے 14 برس لازمی جیل میں گزارنا ہوں گے۔  یہ سزا استغاثہ کی تجویز کے مطابق ہے ۔ اس مقصد کے لئے قید کی جو نارویجئن قانونی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اس کے مطابق سزا یافتہ مجرم کو  سزا کی مدت پوری ہونے کے باوجود رہا کرنے کی بجائے اس بات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے کہ کیا متعلقہ شخص معاشرے کے لئے خطرہ تو نہیں بنے گا۔

فلپ مان ہاؤس نے گزشتہ برس 10 اگست کو بیرم کی النور مسجد پر حملہ کیا تھا تاہم وہاں موجود دو افراد 65 سالہ محمد رفیق اور 75سالہ محمد اقبال نے حملہ آور کو قابو کرکے اسے پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ اس موقع پر گولیاں بھی چلی تھیں تاہم مسجد میں کوئی شخص زخمی نہیں ہؤا۔ مسجد میں گرفتار ہونے کے بعد جب پولیس نے ملزم کی رہائش گاہ کی تلاشی لی تو پتہ چلا کہ اس نے مسجد پر حملہ سے پہلے  اپنی سترہ سالہ بہن یوہانے زنگیا ہانسن کو گولی مار ہلاک کردیا تھا۔

قتل ہونے والی نوجوان  لڑکی چینی نژاد تھی اور اسے ملزم کے ماں باپ نے گود لیا تھا۔ دونوں ایک ہی گھر میں اکٹھے بڑے ہوئے تھے۔  ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے نسلی تعصب کی بنیاد پر اپنی ہی بہن کو گولی ماری تھی کیوں کہ وہ اسے سفید فام نسل  کی بقا کا معاملہ سمجھتا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران ملزم نے کسی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ سفید فام برتری کی بنیاد پر اپنے اقدام کو درست اور جائز قرار دیتا رہا۔ اس نے بہن کو قتل کرنے یا مسجد پر حملہ کرنے کے اقدام کا اعتراف کیا۔ لیکن جرم کا اعتراف کرنے سے انکار کیا۔

فلپ مان ہاؤس کے خلاف مقدمہ کا آغاز 7 مئی کو ہؤا تھا اور 20 مئی کو عدالت کی باقاعدہ کارروائی کا اختتام ہوگیا تھا۔  آج اس مقدمہ کا فیصلہ سنادیا گیا ہے۔ اس مقدمہ کو ملک میں نسلی تعصب کے خلاف جد و جہد کے حوالے سے اہم سمجھا جارہا تھا۔