کورونا وائرس سے پاکستان میں ایک ہی دن میں 6000 سے زائد کیسز، 107 جاں بحق

  • جمعہ 12 / جون / 2020
  • 4670

پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 107 اموات اور 6397 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ہلاکتوں کی تعداد 2480 اور متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 2 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 76 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اموات چار لاکھ 23 ہزار ہیں۔

کراچی میں ایک طرف دوبارہ سخت لاک ڈاؤن کی افواہیں گردش کر رہی ہیں تو دوسری طرف بازاروں میں شہریوں کا رش کم نہیں ہو رہا۔ کورونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے کیسز کے باوجود بیشتر بازاروں میں ایس او پیز کی پابندی نہیں کی جا رہی۔ کیسز بڑھنے کے باوجود کچھ شہری اب بھی کورونا کو حقیقت نہیں سمجھتے۔

حکومتِ پنجاب نے صوبے میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کو روکنے کے لیے 'کمیونٹی ٹرانسمیشن پالیسی' اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت کورونا وائرس کے مریضوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا جائے گا۔  اِس بات کا فیصلہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرِ صدارت ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان، ڈی جی رینجرز پنجاب اور دیگر سول اور عسکری حکام بھی شریک تھے۔

اجلاس کے دوران صوبے میں کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وائرس کا پھیلاؤ کم کرنے کے لیے لاہور میں علیحدہ حکمتِ عملی اپنائی جائے گی اور صوبے کے دیگر شہروں کے لیے الگ حکمت عملی ہوگی۔

اجلاس میں شریک ماہرینِ صحت نے صوبہ بھر کے اسپتالوں میں بستروں کی گنجائش بڑھانے اور متاثرہ مریضوں کے کیس مینجمنٹ کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔ ماہرینِ صحت نے بتایا کہ کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے باعث دستیاب وسائل میں زیادہ بہتر حکمتِ عملی بنائی جا رہی ہے۔

اجلاس میں اِس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ماہرین پر مشتمل خصوصی ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا۔ ورکنگ گروپ کی سفارشات کو نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔  اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں ماسک کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ بازاروں اور عوامی مقامات پر ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک ہفتے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔ جمعہ سے شروع ہونے والے مکمل لاک ڈاؤن کے دروان مساجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی تو کی گئی لیکن نمازیوں کی تعداد کم رہی۔ لاک ڈاؤن کے دوران سبزی، ادویات اور گوشت کی دکانوں کے علاوہ تمام کاروبار بند ہیں۔ تجارتی مراکز اور شاہراہوں پر پولیس کا سخت پہرا ہے۔

آزاد کشمیر کی حکومت نے صرف مظفر آباد میں مکمل لاک ڈاؤن کیا ہے جب کہ باقی علاقوں میں لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا ہے۔ دارالحکومت مظفر آباد میں ایک ہفتے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ سبزی، ادویات اور گوشت کی دکانوں کے علاوہ تمام کاروبار بند ہیں۔ تجارتی مراکز اور شاہراہوں پر پولیس کا سخت پہرا ہے۔

بھارت میں ایک روز کے دوران 10 ہزار 946 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ بھارت میں یومیہ کیسز کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔ دوسری طرف صحت کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ میں اگر وائرس کے پھیلاؤ کا موجودہ تسلسل قائم رہا تو ستمبر تک مجموعی ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ ہو جائے گی۔ امریکہ میں جمعرات کو مزید 20 ہزار مریضوں کا اضافہ ہوا جس کے بعد متاثرین کی تعداد 21 لاکھ تک پہنچ گئی  ہے۔ ایک لاکھ 16 ہزار سے زائڈ اموات ہو چکی ہیں۔  

صحت کے عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ براعظم افریقہ میں کورونا وائرس ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس وقت بھارت اور برازیل دنیا کے ان دو ملکوں میں شامل ہیں جہاں وائرس انتہائی تیز رفتاری سے پھیل رہا ہے۔