سات ہزار ارب سے زائد مالیت کا وفاقی بجٹ، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگے گا

  • جمعہ 12 / جون / 2020
  • 4190

وفاقی کابینہ نے مالی سال 2020-2021 کے لیے پاکستان کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔ اس کا حجم سات ہزار ارب سے زائد ہے۔ اب یہ بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جارہا ہے جہاں اپوزیشن اس کی منظوری میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا وعدہ کرچکی ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے کہا کہ ریٹاٹرڈ ملازمین کو پینشن کی مد میں  470 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ حکومت کو معاشی بحران ورثے میں ملا تھا۔ اس سال حکومت نے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4700 ارب روپے مقرر کیا تھا۔

اُں کا کہنا تھا کہ قرضوں کی مد میں حکومت نے گزشتہ دو سالوں کے دوران پانچ ہزار ارب سود ادا کیا۔ یہ قرضے گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں لیے گئے تھے۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ سود کی ادائیگیوں کے لیے آئندہ مالی سال کے دوران دو ہزار 946 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ تقریر میں حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ملک میں سرمایہ کاری کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں گی۔ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق فنانشل ایکش ٹاسک فورس کی سفارشات پر من و عن عمل کیا جارہا ہے۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ترقی پذیر ملکوں کو نقصان ہوا۔ پاکستان بھی کورونا کے اثر سے محفوظ نہیں رہا۔ لہذٰا حکومت نے معیشت کی بحالی کے لیے جو کوششیں کی تھیں اُنہیں شدید دھچکا لگا۔ مجموعی قومی پیداوار میں کورونا کی وجہ سے 3300 ارب روپے کی کمی ہوئی اور یہ منفی 0.4 ہو گئی۔ بجٹ میں بیرونی وسائل سے 810 ارب آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا۔ اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ تجاویز کی منظوری دی گئی۔

اس سال کے بجٹ اجلاس کو محض رسمی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اس مقصد پر رائے دہی کے لیے دباؤ نہ ڈالنے اور 30 جون تک بجٹ کی منظوری تک کورم کی نشاندہی نہ کرنے پر متفق ہوگئی ہیں۔

وفاقی حکومت نے مالی سال 20-2019 میں 70 کھرب 22 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا تھا اور اس سے قبل پی ٹی آئی نے اقتدار میں آنے کے بعد محض 5 ماہ کے عرصے میں 2 منی بجٹ بھی پیش کیے تھے۔  مالی سال 21-2020 کے بجٹ کو مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی جانب سے 'کورونا بجٹ' کا نام دیا گیا ہے۔

رواں سال کا بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جارہا ہے جب ملک کو عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث صحت کے بحران کے سامنا ہے جس نے ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔  9 جون کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مذاکرات میں وفاقی حکومت کے اخراجات منجمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

 

حماد اظہر کی بجٹ تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے احتجاج کیا۔ اپوزیشن اراکین نے اپنی نشستوں پر احتجاجی بینرز رکھے۔