یوسف رضا گیلانی اور شاہد آفریدی کورونا کا شکار، ایک روز میں 6472 نئے کیسز
- ہفتہ 13 / جون / 2020
- 5360
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 77 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے جبکہ اموات 4 لاکھ 27 ہزار سے بڑھ چکی ہیں۔ پاکستان میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور کرکٹر شاہد آفریدی کے کورونا ٹیسٹ بھی پازیٹو آئے ہیں۔
پاکستان میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 132000 سے بڑھ گئی ہے۔ جبکہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2551 ہوچکی ہے۔ حکومت پنجاب اور دیگر متاثرہ علاقوں مین لاک ڈاؤن کو سخت کرنے یا قواعد پر سختی سے عمل کروانے کی کوشش کرہی ہے۔
پاکستان کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ سابق وزیر اعظم کے صاحبزادے قاسم گیلانی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ بار بار نیب میں پیشیوں کی وجہ سے اُن کے والد وائرس کا شکار ہوئے جس کے ذمہ دار عمران خان ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ شاہد آفریدی نے ہفتے کو ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ وہ جمعرات سے تھکاوٹ اور جسم میں درد محسوس کر رہے تھے۔ اُنہوں نے اپنے مداحوں سے جلد صحت یابی کی دعا کرنے کی درخواست کی ہے۔
بھارت میں بھی کورونا وائرس کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ۔ دنیا کے سب سے زیادہ پہلے چار متاثرہ ملکوں میں بھارت بھی شامل ہو گیا ہے۔ اموات کے لحاظ سے برازیل دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ یہ تعداد 41 ہزار 8 سو سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ دنیا کے ممالک طبی سازو سامان کے ذریعے برازیل کی مدد کریں۔
برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وائرس ملک میں 1300 سے زائد ذرائع سے پہنچا برطانیہ میں ماہرین نے ایک مفصل سائنسی تجزیے کے بعد بتایا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ کوئی ایک شخص ملک میں کورونا وائرس لانے کا سبب بنا، بلکہ وائرس کے ڈی این اے کے تجزیے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں پھیلنے والے وائرس کے نقشے 1356 اقسام کے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ کہنا درست نہیں ہے کہ وائرس صرف کسی ایک شخص کے ساتھ برطانیہ میں داخل ہوا تھا۔ عمومی طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وائرس پہلے پہل چین کے شہر ووہان میں پیدا ہوا اور پھر وہاں سے دنیا بھر میں پھیل گیا۔ ایک تحقیق میں اس خیال کو باطل قرار دیا گیا ہے کہ برطانیہ میں عالمی وبا کا سبب کوئی واحد شخص تھا۔ تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ چین میں پھیلنے والی وبا کا اثر برطانیہ میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلکہ برطانیہ میں جو کیسز سامنے آئے، ان کے زیادہ تر نمونے یورپی ملکوں سے ملتے ہیں۔
تحقیقی مطالعے کے لیے برطانیہ میں 20 ہزار سے زیادہ ان لوگوں کے خون کے نمونے حاصل کیے گئے تھے جو کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے تھے۔ وائرس کے ڈی این اے کے نقشے کا موازنہ مختلف ملکوں میں پھیلنے والے وائرس کے نمونوں سے کیا گیا، جس سے پتا چلا کہ برطانیہ میں کورونا کے 1356 نمونوں نے لوگوں کو اس مرض میں مبتلا کیا۔ ان میں سے اکثر کا ماخذ یورپی ملک تھے۔
کورونا وائرس کے ماخذ پر تحقیق کرنے والے ادارے سے منسلک پروفیسر نک لومن نے بتایا کہ اس تحقیق کا دلچسپ اور حیران کن نتیجہ یہ ہے کہ برطانیہ میں کورونا کا ماخذ ایک نہیں بلکہ اس کی چھاپ کے نمونے سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ برطانیہ میں پھیلنے والے وائرس پر چین کی براہ راست چھاپ صفر اعشاریہ ایک فی صد سے بھی کم ہے۔ اس کی بجائے یہ نمونے زیادہ تر ان سیاحوں کے نمونوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے فروری کے آخر میں برطانیہ کا سفر کیا تھا یا جو مارچ کے پہلے پندھرواڑے میں سپین سے آئے تھے یا وہ مارچ کے آخر میں فرانس سے آنے والے لوگ تھے۔
اس دوران افغانستان کی وزارتِ صحت نے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 'کووڈ 19' کے 656 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ اب ملک بھر میں کورونا کے مریضوں کی کل تعداد 23 ہزار 500 سے زائد ہو گئی ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 446 ہو چکی ہے۔