کورونا کی وجہ سے حکومتی معاشی کامیابیاں ضائع ہوگئیں: مشیر خزانہ

  • ہفتہ 13 / جون / 2020
  • 4200

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے دعویٰ دیا کہ مالی سال 20-2019 کے ابتدائی 9 ماہ میں حکومت کو بڑی کامیابیاں ملیں۔ اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب ہم حکومت میں آئے واجبات 30 ہزار ارب روپے تھے جس میں سے 2 سال کے عرصے میں 5 ہزار ارب روپے واپس کیے گئے۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے دوران 2 ہزار 700 ارب روپے واپس کیے گئے حالانکہ صوبوں کو ادائیگی کے بعد وفاقی حکومت کی آمدن 2 ہزار ارب روپے بنتی ہے۔ حکومت نے اخراجات کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ  کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 20 ارب ڈالر سے 3 ارب ڈالر تک کم کیا گیا اور کمزور طبقے کی مدد کے لیے 2 کھرب روپے مختص کیے۔ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 11 سو ارب روپے تھا لیکن 16 سو ارب روپے حاصل کیے گئے جو بہت بڑی کامیابی تھی اور عالمی اداروں نے پاکستان کی کاردکردگی کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے معیشت کو 3 کھرب روپے کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ اگر اس بحران آنے سے پہلے والی صورتحال برقرار رہتی تو ہم ریونیو کو 4 ہزار ارب تک پہنچا سکتے تھے۔ کورونا وائرس کوئی بہانہ نہیں ہے یہ ایک حقیقت ہے اور اس سے دنیا بھر کو 4 فیصد نقصان ہونے کا امکان ہے۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ ایک کروڑ 60 لاکھ افراد کو نقد رقم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں سے ایک کروڑ سے زائد گھرانوں کو یہ رقم فراہم کی جاچکی ہے۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ میں دوگنا اضافہ ہوا لیکن کورونا وائرس آیا اور اس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچا۔

ساڑھے 4 ہزار ارب سے لے کر 4 ہزار 700 ارب روپے تک ریونیو کا ہدف حاصل ہوسکتا تھا لیکن کورونا بحران کی وجہ سے بمشکل 3 ہزار 900 ارب روپے تک پہنچ سکے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں 7 سو ارب روپے کا نقصان ہؤا۔ کاروبار زندگی معطل ہونے کی وجہ سے نوکریاں کم ہوئیں اور غربت میں اضافہ ہوا۔

حکومت نے 2 کھرب 80 ارب روپے کی گندم خریدی تا کہ کسانوں کے پاس پیسہ جائے تو وہ ڈیمانڈ بڑھائیں، یعنی ٹریکٹرز، موٹر سائیکل خریدیں، گھروں کی مرمت کریں تا کہ معیشت میں طلب بڑھے۔ اس کے علاوہ حکومت نے بجلی کے بلز میں رعایت کا وعدہ کیا اور 50 ارب روپے زراعت میں دیے گئے تا کہ کھاد کی قیمتیں کم ہوں۔ کارخانوں کو سبسڈی دی گئی جس سے 6 لاکھ کارخانوں نے فائدہ اٹھایا۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ختم ہونے والے مالی سال میں بہت اچھی پالیسز کے ذریعے ثمرات عوام تک پہنچائے گئے لیکن اب ہمیں آگے کی جانب دیکھنا ہے۔ سب سے اہم چیز ملکی قرضوں کی واپسی ہے، جس سے ہم چھٹکارا نہیں پاسکتے۔ گزشتہ 2 سالوں کے دوران 50 کھرب روپے واپس کیے گئے اور اس برس ہمیں 29 کھرب روپے کی ادائیگی کرنا ہے اس میں کمی کرنا ہمارے بس میں نہیں نہ اس میں ہمارا قصور ہے۔

مشیر خزانہ نے کہ آئندہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگایا گیا کیوں کہ عوام کورونا بحران کی وجہ سے مشکل میں ہیں۔ ہم حکومتی اخراجات کو کم کریں گے۔ اس کے باجود ترقیاتی پروگرام کو بڑھائیں گے جس میں گزشتہ برس ایک کھرب روپے کا اضافہ کیا۔ احساس پروگرام کو بھی مزید بجٹ دیا جائے گا اور 12 کھرب روپے کے پیکج میں سے اگر کچھ رقم بچی تو اسے محفوظ کیا جائے گا تا کہ آئندہ برس استعمال کی جائے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ اسے ریلیف بجٹ اس لیے کہا جارہا ہے کیوں کہ اس میں سے کئی ٹیکسز کم کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ 16 سو 23 ٹیرف لائنز یعنی ہزاروں قسم کے درآمدی خام مال پر ڈیوٹی کو ختم کیا جارہا ہے تا کہ کاروبار کی لاگت کم ہو اور لوگ  کاروبار وسیع کرسکیں اور نوکریاں دے سکیں۔ انجینئرنگ سیکٹر، کپڑوں، ایل ای ڈی ٹی وی کمبلوں وغیرہ کے لیے 166 ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹیز کو کم کیا جارہا ہے اس سب کا مقصد کاروباری لاگت کم کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا اس بڑے پیمانے پر ریلیف دینے کا مقصد ہے کہ نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں۔ حکومت اپنے پاس بھرتیاں کر کے نوکریاں نہیں دے سکتی لیکن نجی شعبے کو مراعات دے کر ایسا کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑے عالمی مالیاتی ادارے ہمارے ساتھ کھڑے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیں ہم نظم و ضبط سے چلنا چاہتے ہیں۔