بنیادی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا
- تحریر سلمان عابد
- ہفتہ 13 / جون / 2020
- 4970
کرونا کے بحران میں جو شعبہ سب سے زیادہ برے طریقے سے سامنے آیا وہ صحت کا شعبہ ہے۔صحت ایک بنیادی انسانی حق ہے جو ریاست اور حکمرانوں کی اہم ذمہ داری ہے۔ لیکن ریاست او رماضی یا حال کی تمام حکومتوں نے شعبہ صحت کے ساتھ جو سلوک کیا وہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔
اس وقت کرونا بحران کے تناظر میں جو حالات ہمارے ہسپتالوں او ر سہولتوں کو درپیش ہیں یا خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز سمیت دیگر عملہ کو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ کافی تکلیف دہ ہے۔اس وقت حالت یہ ہے کہ جو لوگ بھی کسی مرض کی بنیاد پر سرکاری ہسپتالوں کی طرف رخ کررہے ہیں ان کے لیے کوئی جگہ ہی موجود نہیں۔ خاص طور پر وینٹی لیٹرز کی کمی نے کئی لوگوں کو زندگی سے موت کی طرف دھکیلاہے۔ اس وقت ہر بندہ کسی نہ کسی بڑی سفارش کی تلاش میں نظر آتا ہے کہ کوئی اسے یا اس کے خاندان کے فرد کو ہسپتال داخل کروادے۔ یا وہاں سہولتیں ہیں اسے مل سکیں۔ یہاں تک کہ بہت سے لوگوں نے گلہ کیا ہے کہ پیسے کے باوجود غیر سرکاری ہسپتال بھی سہولتوں کی کمی کی وجہ سے ان کے ساتھ تعاون نہیں کررہے۔ اس وقت بھی کرونا کے بیشتر مریض گھر پر ہی اپنا علاج کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ گھر کو ہی ہسپتال سے بہتر سمجھ رہے ہیں۔
حالت یہ ہے کہ جس کے پاس چار پیسے ہیں وہ تو کبھی بھی سرکاری ہسپتال کا رخ نہیں کرتا او رنہ ہی اسے ان ہسپتالوں یا ڈاکٹروں پر کوئی اعتماد ہے او راس کی امید کا محور غیر سرکاری ہسپتال بن جاتے ہیں۔لیکن جو لوگ وسائل نہیں رکھتے وہ کہاں جائیں کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں جو کچھ ان کے ساتھ ہورہا ہے وہ واقعی بڑا ظلم ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں بڑے ڈاکٹرز موجود ہی نہیں ہوتے اور جونیرز پر تمام مریضوں کو چھوڑ کر بڑے ڈاکٹرز نے خود کو نجی شعبوں تک محدود کرلیا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کماسکیں۔ہسپتالوں میں دیکھیں تو اول آپ کو سہولتیں نہیں ملیں گی او راگر سہولتیں موجود ہیں تو وہ کسی نہ کسی وجہ سے کام نہیں کررہیں یا ان میں تکنیکی مسائل ہیں۔ ٹیسٹوں کے نام پر جو کاروبار صحت کے شعبہ میں ہورہا ہے وہ خود ایک بڑا جرم ہے۔سوال یہ ہے کہ ایک سرکاری ڈاکٹرز کیا وجہ ہے کہ اس نظام میں اپنے سرکاری ہسپتال میں بیٹھنے کے لیے تیار نہیں او رکیوں اس نے خود کو نجی کلینک تک محدود کرلیا ہے۔ کون ایسے ڈاکٹروں کا احتساب کرے گا کہ وہ اپنی سرکاری ذمہ داری میں غفلت نہ برتیں۔
18ویں ترمیم کے تحت سمجھا جارہا تھا کہ صوبائی حکومتیں صحت کے شعبہ میں اختیارات اور وسائل کی تقسیم کے بعد زیادہ فعال او رانقلابی کام کریں گی۔ لیکن ہم صوبوں میں 18ویں ترمیم کے ثمرات سے مستفید نہیں ہوسکے۔ صوبائی حکومتوں نے نہ صوبائی سطح پر کوئی بڑا کام صحت کے شعبہ میں کیا او رنہ ہی اضلاع کی سطح پر ا ہسپتالوں کی حالت زار کو بدلا۔ آپ ضلعی یا تحصیل سطح کے کسی بھی بڑ ے ہسپتال میں چلے جائیں اور جاکر خود منظر کو دیکھیں تو آپ کو خوف آئے گا کہ ہم کیسے مریضوں کے ساتھ سلوک کررہے ہیں او رکیوں زندہ لوگوں کو جان بوجھ کر یا اپنی غفلت کی وجہ سے موت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
آپ ضرور سڑکیں، پل، بڑی بڑی عمارتیں، موٹرزویز، میٹروز، اورنج ٹرین بنائیں یہ بھی اہم کام ہیں لیکن شعبہ صحت کو پامال کرکے اس کی قیمت پر ایسے منصوبوں کا بننا بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ آپ صرف پچھلے تیس برس کی حکمرانی کو دیکھ لیں کہ ملک میں، صوبوں میں اور اضلاع کی سطح پر پہلے سے موجود نئے ہسپتال کتنے بنے ہیں او رکتنے ہسپتالوں میں وہ تمام جدید سہولیات موجود ہیں جو آج کی دنیا میں ہر انسان کو ملنا اس کا بنیادی حق ہے۔ہسپتالوں کے معاملات میں ایک بڑے سیاسی، قانونی آڈٹ کی ضرورت ہے جو سب کو بتاسکے گا کہ کیسے ہمارے حکمران طبقات ایک بڑے مجرمانہ کردار کا شکار ہوئے ہیں او ر کوئی ان کا احتساب کرنے والا نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب اس ملک کا طاقت ور طبقہ جو کسی بھی شعبہ سے ہو اسے اپنے او راپنے بچوں کو علاج کے لیے سرکاری ہسپتالوں کی بجائے غیر سرکاری ہستپال یا باہر سے علاج کی سہولت میسر ہو تو اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار پر پریشان ہو۔ صحت کے شعبہ کی بہتری کے لیے ہمیں ایک بڑ ی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔لیکن اس سے پہلے معاملات کو سدھارنے او رمستقبل کی بہتری کے تناظر میں شعبہ صحت میں ایک بڑی سرجری کی بھی ضرورت ہے تاکہ اوپر سے نیچے تک سب ہی جوابدہ ہوں۔یہاں ضرورت ا س امر کی ہے کہ حکومتی اور نجی شعبوں کی جانب سے عملی طور پر کمزور طبقات کے لیے صحت کے شعبہ میں ان کو زیادہ سے زیادہ سہولتوں کی فراہمی کے تناظر میں ہیلتھ کارڈز، انشورنس، مختلف نوعیت کے پیکجزاور خاص طور پر سرکاری ہسپتالوں کو سہولتوں سے لیس کرنا ہی عوام کے مفاد میں ہے۔جن لوگوں نے بھی شعبہ صحت کو محض ایک کاروبار بنالیا ہے ان کی ہر سطح پر جوابدہی ہونی چاہیے۔نجی شعبوں میں صحت کے شعبہ کو ضرور ترقی کرنی چاہیے اور ا ن کو بھی اس میں مواقع ملنے چاہئیں۔لیکن اس کام میں حکومتوں کاریگولیٹڑی نظام زیادہ شفاف اور نگرانی کا ہونا چاہیے اور نجی شعبہ کو من مانی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
ہمارے پالیسی ساز ادارے، افراد، عوامی نمائندوں کی فوج در فوج، وزیروں، مشیروں کی فوج، پارلیمنٹ قومی، صوبائی اسمبلیاں، سینٹ جیسے اداروں کی موجودگی میں اگر ہم نے موجودہ طور طریقوں کی بنیاد پر صحت کا شعبہ چلانا ہے تو اس ملک کا اور ملک کے نظام کا اللہ ہی حافظ ہے۔ یہ سب لوگ جو عوامی ٹیکسوں سے نظام کو چلاتے ہیں اس کی بربادی کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔حکومت اور عوام کے درمیان صحت کے شعبہ سمیت جو بھی خلیج یا بداعتمادی موجود ہے اس کی وجہ ہمارے حکمرانوں کی بری حکمرانی کے نظام سے جڑی کہانیاں ہی ہوتی ہیں جو حکمرانی کے نظام پر سوالیہ نشان لگادیتی ہیں۔
عملی طور پر کرونا بحران کا بڑا سبق یہ ہی ہے کہ وفاقی، صوبائی اور اضلاع کی سطح پر صحت کے شعبہ میں ایمرجنسی پر مبنی نظام کی ضرورت ہے۔ ایمرجنسی سے مراد یہ ہوتی ہے کہ حکومت طے کرتی ہے کہ اس کی بنیادی ترجیح اس وقت صحت کا نظام ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر اس نظام میں زیادہ سے زیادہ وسائل رکھے جائیں گے۔ اس وقت ہمیں دیگر بڑے میگا منصبوں میں جانے کی بجائے صحت کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنانا ہوگا۔ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرکے ترقیاتی اخراجات کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا چاہیے۔وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر صحت کے نظام میں پروفیشنل ڈاکٹرز، پالیسی ساز لوگوں پر مشتمل ”ہیلتھ بورڈز“ بنائے جائیں او را ن کو زیادہ سے زیادہ بااختیار اور خود مختاری دی جائے کہ وہ اس نظام کی اصلاح میں ایک کردار ادا کریں۔ نجی شعبوں کی نگرانی کا نظام بھی ان ہی بورڈز کی مدد سے چلایا جانا چاہیے۔
اسی طرح ملک میں صحت کے معاملات کے تناظر میں ”بنیادی صحت کی تعلیم“ کو عام کرنے کی ضرورت ہے او ریہ کام تعلیم کے نظام کے ساتھ جوڑا جانا چاہیے۔ لوگوں کو یہ بنیادی تعلیم یا شعورہونا چاہیے کہ وہ خود سے بھی اپنی صحت کے معاملات میں لاپرواہی نہ کریں اور خود بھی ان معاملات میں اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں کہ ایک اچھا صحت مند انسان ہونے کے بنیادی تقاضے کیا ہیں اور اس میں ہمارا اپنا کردار کیا ہونا چاہیے اور کیسے ہم خود کو صحت مند رکھ سکتے ہیں۔