بیس ڈالرز کی موت

  • تحریر
  • ہفتہ 13 / جون / 2020
  • 4810

یہ ایک معمولی سی واردات تھی، اطلاع پر  پولیس  فورا ٌ پہنچی اور ملزم کر قابو کر لیا۔ یہاں تک تو  ایک عام سی بات تھی مگر اس کے بعد کے نو منٹ نے اس واقعے کو دنیا بھر میں خاص بنا دیا۔ اس قدر خاص کہ  کرونا  سے بچنے  کی   جاری تدابیر   بھی بھک سے ہوا ہو گئیں۔ 

امریکہ کی  ریاست  منی سوٹا کے شہر منی ایپلس میں اس واقعے  سے پیدا اشتعال اور غصہ دیکھتے دیکھتے امریکہ کے  پچیس ریاستوں سے بھی زائد میں   پھیل  گیا جو  بالآخرکرفیو کی صورت قابو میں لانا پڑا۔ دنیا  کے بڑے بڑے  شہروں میں یک جہتی کے  بھرپور  احتجاجی مظاہروں  نے  دنیا کو  ہلا کر رکھ دیا۔جعلی نوٹ چلانے والے ایک شخص کی گرفتاری اور موت  سے ایک حشر بپا ہو گیا۔

جارج فلائڈ  ایک سیکیورٹی گارڈ تھا  جو کووڈ 19 کے سبب بیکار تھا  اُس روز ٹہلتا ہوا ایک  ٹوبیکو شاپ میں گیا، اپنی پسند کے سگریٹ خریدے، سیلز گرل نے بل بنایا تو اسے بیس ڈالرز کا نوٹ تھما دیا۔ سیلز گرل نے نوٹ کو پہلی نظر میں دیکھا تو  جعلی  محسوس ہوا۔  اس نے  فلائڈ سے بحث نہ کی بلکہ اس کے دوکان سے نکلتے ہی ضابطے کے مطابق پولیس کو اطلاع کردی۔  چند ہی منٹ میں پولیس پہنچی تو اس وقت ملزم اپنی گاڑی  کے  بونٹ پر بیٹھا کچھ دیر قبل  خریدی ہوئی سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔ پولیس آفیسر  نے اس کا نام پوچھا، شناخت کنفرم ہوئی تو اس نے پکڑ کر اسے  گاڑی سے نیچے اتارا،  جارج فلائڈ نے کوئی مزاحمت نہ کی، آفیسر نے  اس کے ہاتھ پشت پر رکھ کر ہتھ کڑی لگائی، اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسے زمین پر  لِٹا کر اس کی گردن پر گھٹنا رکھ کر فاتحانہ انداز میں  اس  کی اذیت کا تماشا دیکھنا شروع کر دیا۔

اس کے  تین  ساتھی یہ سب تماشا دیکھ رہے تھے۔  جارج فلائڈ  تکلیف اور درد سے کراہتا  اور چیختا رہا۔ میرا دم گھٹ رہا ہے،  I can't breath  مگر پولیس آفیسر کا غصہ ٹھنڈا  ہوا  اور نہ  تشدد  رکا۔ چھ منٹ  تک بار بار چلّانے کے بعد  اس کی آواز دب گئی، جسم ڈھیلا پڑ گیا مگر پولیس آفیسر کا گھٹنا اس کی گرد ن پر مزید پونے تین منٹ  تک  ٹِکا رہا۔

 اس دوران میں کسی نے اس سارے واقعے کی بڑی واضح ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی۔ویڈیو وائرل ہوئی تو عوام میں  غیظ و غضب کا لاوا پھٹ پڑا۔  آنا ٌ فانا ٌ  فسادات پھوٹ پڑے۔  نہ صرف  منی اییپلس  بلکہ نیویارک سمیت  متعدد شہروں میں کئی مشہور برانڈز کے اسٹورز  کی لوٹ مار شروع   ہوگئی۔    چند گھنٹے قبل  اپنی گاڑی  کے بونٹ پر بیٹھے  شخص کو  اپنے انجام کی خبر تھی اور نہ  ملکی سطح پر کوئی اسے جانتا تھا مگر بیس ڈالرز کے  عوض ملی موت نے اسے بھی امر کردیا اور  پولیس تشدد اور نسلی تعصب  کے تنور پر پڑا  ڈھکن بھی اٹھا دیا۔

سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی  اہم  ہیں  یعنی  Black lives matters  اور I can't breath کے بینرز اٹھائے مشتعل مظاہرین میں صرف سیاہ فام  اور ہسپانوی ہی شامل نہ تھے بلکہ سفید فام بھی کثرت سے شریک ہوئے۔  Yale  یونی ورسٹی کے ایک ریسرچ ادارے کی ڈاکٹر مارسیلا سمتھ کا کومنٹ   یوں تھا:  بلاشبہ مظاہرین پولیس مظالم پر مشتعل ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ  یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ انہیں مکمل اور پوری زندگی  جینے کا موقع دیا جائے، نہ کہ پولیس گردی یا وبا  کے ہاتھوں ادھوری زندگی  ہی  ان کا مقدر ہو!

آسکر ایوراڈ یافتہ  معروف فلم ساز سپائک لی  (Spike Lee) کے بقول یہ مظاہرین  غصیلے  پیدا  نہیں ہوئے بلکہ  یہ  اس لئے غصے سے ابل رہے ہیں کہ وہ اپنے ملک امریکہ میں روزانہ ایسے حالات میں رہ  رہے ہیں جہاں کا نظام ان کی کامیابی کے لئے بنا ہی نہیں۔۔  The system is not set up for you to win!۔

نظام  کی  ترکیب میں نسلی تعصب اور  سماجی  بے انصافی  کچھ اس طرح  غالب ہے کہ امریکی معاشرہ تقسیم  ہو کر  رہ گیا ہے۔ یہ تقسیم  صحت، تعلیم، روزگار،  رہائش، ووٹنگ  اور حلقہ بندیوں  کی شاطرانہ تشکیل  کے ذریعے ایک جبر کی صورت میں نسلی اقلیتوں  کا مقدر بن کر رہ گئی ہے۔  غربت کی شرح سب سے زائد سیاہ فام آبادیوں میں ہے، بے روزگاری ان میں عام ہے، انشورنس کے بغیر سب سے زیادہ ان کی تعداد ہے جس کے بغیر امریکہ میں صحت کی سہولت ممکن نہیں۔ کریڈٹ ہسٹری کا اسکور بھی ان کا  بالعموم کم  ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کی اکثریت  قرض اور مالی سہولتوں سے محروم رہتی ہے۔

امریکہ میں 15%  لوگ شدید  غربت کا شکار ہیں جن کی اکثریت سیاہ فام لوگوں کی ہے۔  معروف اکانومسٹ  جیفری Sachs  نے  اپنی کتاب   The price of civilization  میں تفصیل سے ان عوامل کا  ذکر کیا ہے۔ ان کے بقول جس قدر  اندھا دھند توانائیاں  سماج کو منقسم رکھنے کے لئے  صرف کی گئیں، اس قدر اسے جوڑنے کے لئے  صرف کی گئی ہوتیں تو  آج معاشی پالیسیوں  کا چہر ہ مہرہ  مختلف ہوتا۔  اکثر سیاہ فاموں سے منسوب جرائم،  کم علمی اور کام سے جی چرانے  کے  رویّے بھی  اس  حا  لتِ زار کے اسباب میں بتائے جاتے ہیں لیکن  تلخ حقیقت   اپنی جگہ ہے  کہ کل کے آقا نے اپنے غلام کے لئے ایسا دام بچھایا ہے کہ آزاد ہوکر بھی  بیشترسیاہ فام اب  سماجی نا انصافی اور نسلی تعصب کے جال میں گرفتار ہیں۔ ہر گزرتے  روز کوئی  جارج فلائڈ شکار ہوتا ہے تو  ایک  شعلہ سا جلتا ہے،  اکثر یہ شعلے  بِن دیکھے ہی بجھ جاتے ہے  مگر اس بار یہ شعلہ ایک ویڈیو اور  بے بسی کی ایک پکار کی مدد سے آگ بنا تو  دنیا کو احساس ہوا کہ خونِ خاک نشیناں کس قدر بے دردی،ر وانی اور آسانی سے بہتا ہے۔  اور وہ بھی اُس دیس میں جسے اپنے انسانی حقوق کی آزادیوں کا زعم ہے۔ بیس ڈالرز کی موت نے  دنیا  کو ہلا کر رکھ دیا،  دیکھئے  آقا کا نظام ٹس سے مس ہوتا ہے یا پھر سے  اپنا جال بچانے میں کامیاب ہوتا ہے۔

معروف  عوامی شاعر  اسلم گورداسپوری نے اس   المیے پر ایک طویل نظم  ٌ میرا  دَم گھٹتا ہے ٌ  کی صورت نوحہ لکھا۔  اس کے دو  اشعار اس واقعے  کا خلاصہ ہیں:

میں کہ صدیوں سے ہوں اس طوقِ غلامی کا اسیر

مجھ  کو  آزاد  کرا  دو،   میرا دم گھٹتا ہے

میری گردن پہ ہے صدیوں سے عُدو کا پاؤں

میری گردن  کو  چُھڑا  دو،  میرا دم گھٹتا ہے