پاکستانی فلمی اداکارہ صبیحہ خانم انتقال کرگئیں
- اتوار 14 / جون / 2020
- 9550
پاکستانی فلموں کی مقبول اداکارہ صبیحہ خانم ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب 84 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔
صبیحہ خانم پچھلے کئی سالوں سے امریکی ریاست ورجینیا میں مقیم تھیں اور یہیں ان کا انتقال ہوا۔ وہ ذیابطیس اور ہائی بلڈ پریشر سمیت کئی امراض میں مبتلا تھیں اور کافی عرصے سے زیر علاج تھیں۔ صبیحہ خانم کی نواسی سحرش خان نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ صبیحہ خانم اداکار سنتوش کمار کی اہلیہ تھیں۔
ان کا فنی کیرئر دو دہائیوں پر مشتمل تھا۔ 1950 اور 1960 کی 20 سالہ مدت میں انہوں نے سنتوش کمار کے ساتھ کئی کامیاب فلمیں کیں جن میں 'گمنام'، 'دیور بھابی'، 'مکھڑا'، 'وعدہ'، 'حاتم'، 'شیخ چلی' اور 'سرفروش' شامل ہیں۔ 'بیلی' ان کی پہلی فلم تھی جو 1950 میں ریلیز ہوئی تھی تاہم انہیں جس فلم نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا وہ 'گمنام' تھی۔ 1956 میں ان کی دوسری سب سے کامیاب سمجھی جانے والی فلم 'دلا بھٹی' ریلیز ہوئی۔
صبیحہ خانم پاکستان فلم انڈسٹری کی پہلی سپر اسٹار تھیں جب کہ پہلی پاکستانی گولڈن جوبلی فلم کی ہیروئن ہونے کا اعزاز بھی انہی کو حاصل ہوا۔ انہیں بہترین خدمات کے عوض 1987 میں 'تمغہ حسن کارکردگی' دیا گیا تھا۔
صبیحہ خانم کا پیدائشی نام مختار بیگم اوران کے شوہر سنتوش کمار کا اصل نام سید موسیٰ رضا تھا۔ صبیحہ 16 اکتوبر 1935 کو گجرات میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والدین، محمد علی ماہیا اور بالو بیگم بھی اسٹیج پر اداکاری کیا کرتے تھے۔ ایک دور میں ان دونوں فنکاروں کی جوڑی کو فلموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔
فلموں کے علاوہ صبیحہ خانم نے 80 اور 90 کی دہائیوں میں پاکستان ٹیلی ویژن کے بہت سے مشہور ڈراموں میں بھی اداکاری کی اور انہیں بام عروج پر پہنچایا۔ صبیحہ خانم نے سنتوش کمار سے شادی کی۔ سنتوش کمار کی صبیحہ خانم سے دوسری شادی تھی۔ ابتدا میں انہیں اپنے والد کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ایک مرتبہ صبیحہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ سنتوش کمار سے شادی ان کی زندگی کا سب سے اچھا فیصلہ تھا۔ بطور شوہر سنتوش بہت ہی عظیم انسان تھے۔ انٹرویو کے دوران اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہیں کئی کئی دن لگاتار اور بغیر سوئے شوٹنگ کرنا پڑتی تھی جب کہ نیند بھگانے کے لیے انہیں اپنی آنکھوں پر برف کی ڈلیاں بھی رکھنا پڑتی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ فلم 'عشق لیلیٰ' کی شوٹنگ کے دوران انہیں اپنڈیس کا شدید درد اٹھا یہاں تک کہ ڈاکٹرز نے شوٹنگ میں حصہ لینے کو صحت کے لیے رسک قرار دیا لیکن انہوں نے شدید درد اور تکلیف کے باوجود فلم کی شوٹنگ مکمل کرائی۔ فلمی دنیا سے ٹی وی اسکرین پر آمد کا سہرا وہ معین اختر کے سر باندھتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی اور اسٹیج پر انہیں معین اختر نے ہی دوبارہ کام کرنے کا موقع دلوایا تھا۔
کئی سالوں تک امریکہ میں رہنے کے باعث صبیحہ خانم کو امریکہ اپنا دوسرا وطن لگنے لگا تھا لیکن اس کے باوجود ان کا دل پاکستان میں ہی دھڑکتا تھا۔ اس بات کا اظہار انہوں نے اپنی زندگی میں کئی مرتبہ کیا تھا۔
ان کی موت پر سوشل میڈیا صارفین نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان میں پاکستان سینیٹ کی رکن شیری رحمٰن بھی شامل ہیں۔ سینیٹر اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے بھی صبیحہ خانم کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے