نیپال کی پارلیمنٹ میں ملک کا نیا نقشہ منظور، بھارت کا اعتراض
- اتوار 14 / جون / 2020
- 5810
نیپال کی پارلیمنٹ نے ہفتے کے روز ایک خصوصی اجلاس کے دوران اس نقشے کو منظوری دے دی جس میں تین ایسے علاقوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جن پر بھارت کا دعویٰ ہے۔
ملک کے نقشے کی ترتیب نو کے لیے ایک ترمیمی بل ایوان میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ ایوان میں موجود تمام 258 ارکان نے نقشے کے حق میں ووٹ دیا۔ بل کے خلاف ایک بھی ووٹ نہیں پڑا۔ ایوان میں کل 275 ارکان ہیں مگر اجلاس میں 258 موجود تھے۔ ترمیم شدہ نقشے میں بھارت کی سرحد سے متصل اسٹریٹجک اہمیت کے حامل تین علاقوں لیپو لیکھ، کالا پانی اور لمپیادُھرا کو شامل کیا گیا ہے۔
بھارت نے اس پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”دعوؤں کی یہ مصنوعی توسیع قابل دفاع نہیں ہے“۔ وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو نے کہا کہ” ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ نیپال کے ایوان نمائندگان نے نیپال کے نقشے میں ترمیم کے لیے ایک آئینی ترمیمی بل کو منظوری دی ہے۔ نقشے میں بھارت کے علاقوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس معاملے پر ہم پہلے ہی اپنا موقف واضح کر چکے ہیں“۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”دعوؤں کی یہ مصنوعی توسیع تاریخی حقائق یا ثبوتوں پر مبنی نہیں ہے اور قابل مدافعت نہیں ہے۔ یہ سرحدی تنازعات کو حل کرنے کے لیے بات چیت کی موجودہ کوشش کی خلاف ورزی بھی ہے“۔ انوراگ سری واستو کے مطابق بھارت، نیپال کے ساتھ اپنے دوستانہ اور تہذیبی رشتوں کو اہمیت دیتا ہے۔ باہمی شراکت داری کو حالیہ برسوں میں فروغ حاصل ہوا ہے۔
بھارت کے آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے نے ہفتے کی صبح کو کہا کہ نیپال کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ ہمارے درمیان جغرافیائی، تہذیبی اور اقتصادی رشتہ ہے۔ عوام سے عوام کے درمیان بہت گہرا تعلق ہے۔ نیپال سے ہمارے رشتے ہمیشہ مضبوط رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔
گزشتہ ماہ نیپال کی حکمراں جماعت نے اس نقشے کی منظوری دی تھی جس پر بھارت نے سخت رد عمل ظاہر کیا تھا۔ بھارت کا کہنا تھا کہ یہ قدم یک طرفہ ہے اور حقائق کے خلاف ہے۔ اپوزیشن نیپالی کانگریس نے کہا تھا کہ وہ اس کے حق میں ووٹ دے گی۔ ان تینوں علاقوں پر نیپال بھی دعویٰ کرتا ہے۔ اس سے قبل نیپالی سیاست دانوں کی جانب سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بھارت سے بات چیت کی اپیل کی گئی تھی۔ دونوں میں سیکرٹری خارجہ سطح کے مذاکرات ہونے تھے لیکن اس کی تاریخ طے نہیں ہو سکی۔
نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت چین کے ساتھ سرحدی تنازع کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کر سکتا ہے تو نیپال کے ساتھ کیوں نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی تو مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔
نیپال کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ نومبر کے بعد سے بات چیت کے لیے تین تجاویز بھارت کے سامنے رکھی تھیں۔ ایک پیشکش حالیہ دنوں میں مئی میں کی گئی۔ لیکن بھارت کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
وزیر اعظم کے پی شرما اولی کے مطابق لیپو لیکھ، کالا پانی اور لمپیادھرا 1816 میں برطانوی حکومت کے ساتھ ہونے والے سوگولی معاہدے کے تحت نیپال کا حصہ ہیں۔ اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ دریائے کالی کے مشرق کا تمام علاقہ نیپال کا ہے۔ انہوں نے بھارت پر خطے میں مصنوعی سرحد بنانے اور فوج کی تعیناتی کے ساتھ نیپال کے علاقے پر ناجائز قبضے کا الزام عائد کیا۔ بھارت نے ان دعوؤں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ ان میں کوئی سچائی نہیں۔
ایوان زیریں سے یہ نقشہ منظور ہونے کے بعد اسے ایوان بالا میں پیش کیا جائے گا اور وہاں بھی یہی عمل دوہرایا جائے گا۔ قومی اسمبلی کی جانب سے منظور کیے جانے کے بعد اسے صدر کے پاس بھیجا جائے گا۔ ان کے دستخط کے بعد یہ ترمیم آئین کا حصہ بن جائے گی۔
بھارت اور نیپال کے رشتوں میں گزشتہ دنوں اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 8 مئی کو لیپو لیکھ درے کو دھار چولہ سے ملانے والی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل 80 کلومیٹر لمبی سڑک کا افتتاح کیا تھا۔ نیپال نے اس سڑک کے افتتاح پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ سڑک نیپالی علاقے سے ہو کر گزرتی ہے۔ لیکن بھارت نے اس کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سڑک پوری طرح اس کے اپنے علاقے میں واقع ہے۔
نیپال نے گزشتہ ماہ ملک کا نیا نقشہ جاری کرتے ہوئے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل تین علاقوں لیپو لیکھ، کالا پانی اور لمپیادُھرا کو بھی اس میں شامل کر دیا۔