تاجروں کا بجٹ پر عدم اطمینان کا اظہار، ماہرین معیشت کی تنقید
- اتوار 14 / جون / 2020
- 5460
وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں بجٹ کو متوازن قرار دیا ہے لیکن متعدد معاشی ماہرین اور تاجر اسے اعداد و شمار کا روایتی گورکھ دھندا قرار دے رہے ہیں۔ بجٹ کو عوامی مسائل کے حل سے کوسوں دور کہا گیا ہے۔
معاشی تجزیہ کار اور کالم نگار ڈاکٹر فرخ سلیم نے وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر کی بجٹ تقریر کو ایک حقیقت اور سو افسانے سے تعبیر کیا ہے۔ فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ حماد اظہر نے گزشتہ حکومتوں کی تباہ کن معاشی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے چار شعبوں کی نشاندہی کی تھی جن میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، معیشت کو چلانے کے لیے بے پناہ قرضوں کا حصول، بجٹ خسارہ اور گردشی قرضوں کا بڑھتا ہوا حجم شامل تھا۔
فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے علاوہ دیگر تینوں شعبوں میں مسلسل تباہی کے اثرات اب بھی نمایاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت تقریباً دو سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالرز سے کم کرکے 3 ارب ڈالرز تک کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے تاہم قرضوں کے حصول سے صورت حال مزید گھمبیر شکل اختیار کر لی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب 2018 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم ہوئی تھی تو پاکستان پر قرضوں کا بوجھ 30 ہزار ارب روپے تھا جو محض دو سال میں بڑھ کر 43 ہزار ارب روپے تک جاپہنچا ہے۔ ان کے مطابق اسی طرح 2013 میں پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی تو ملکی قرضوں کا کل بوجھ 6 ہزار ارب روپے تھا۔ جو مسلم لیگ (ن) کے پانچ سال میں 16 ہزار ارب روپے تک جا پہنچا تھا۔ اس شرح سے پیپلز پارٹی کی حکومت 5 ارب روپے روزانہ، نوازشریف حکومت 8 ارب روپے روزانہ جب کہ تحریک انصاف کی حکومت روزانہ 18 ارب روپے کے نئے قرضے حاصل کر رہی ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صورت حال کس جانب گامزن ہے۔
فرخ سلیم نے مزید بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں بجٹ خسارے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو تحریک انصاف کی حکومت کے شروع میں 2300 ارب روپے تھا مگر موجودہ بجٹ میں یہ بڑھ کر 3437 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ ان کے بقول تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے وقت ملک میں گردشی قرضوں کا کل حجم 1200 ارب روپے کے لگ بھگ تھا جو اب بڑھ کر 2000 ارب تک جا پہنچا ہے۔ ایسے میں ملک کی معاشی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
فرخ سلیم کے مطابق سرکاری اداروں میں اصلاحات کے باوجود مالیاتی نظم و ضبط پیدا نہیں کیا جا سکا جب کہ ان اداروں پر قرضہ 1400 ارب سے بڑھ کر 2800 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ فرخ سلیم نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ حکومت موجودہ مالی سال میں تو بجٹ وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی لیکن آئندہ مالی سال کے لیے 4900 ارب یعنی موجودہ حاصل شدہ بجٹ سے بھی 25فی صد زیادہ رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے کیوں کہ اس وقت کورونا کی وجہ سے ملک کی معاشی ترقی کا پہیہ تقریباً رکا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ کا عام آدمی کی زندگی سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا اور نہ اس کی زندگی پر اس سے کوئی مثبت اثر پڑے گا۔
دوسری جانب معاشی تجزیہ کار خرم شہزاد کے مطابق اگر بنگلہ دیش اور پاکستان کے بجٹ کا موازنہ کیا جائے تو بنگلہ دیش نے محصولات بڑھانے کا ہدف تقریباً صفر رکھا ہے جب کہ حکومتِ پاکستان نے اپنی ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں 27 فی صد کا اضافہ تجویز کیا ہے جب کہ اس وقت ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں ترقی صرف 2 فی صد ہے۔ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کی بھر مار اور کارپوریٹ سیکٹرز اور چھوٹے کاروباری طبقے کو ٹیکس کی مد میں کوئی خاص حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔
تاہم معاشی تجزیہ کار اور وزیرِ اعظم کی معاشی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ زمینی حالات میں اس سے بہتر بجٹ کوئی بھی حکومت نہیں دے سکتی تھی۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ڈاکٹر عابد سلہری نے کہا کہ جب حکومت کی کل آمدنی 3700 ارب روپے ہو جب کہ اسے قرضوں اور سود کی ادائیگی میں 2946 ارب روپے سے زائد کی رقم واپس کرنی ہو تو اس سے بہتر بجٹ نہیں آ سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کے مثبت نکات میں سے سب اہم بات یہ ہے کہ سماجی تحفظ کے لیے حکومت نے بہرحال 230 ارب روپے کی بڑی رقم مختص کی ہے جو کہ خوش آئند ہے جب کہ صحت کی مد میں کورونا وائرس کے پیش نظر 70 ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔ اسی طرح ملک میں فصلوں پر ٹڈی دل کے حملے کے پیش نظر 10 ارب روپے مختص کرنا مثبت پیش رفت ہے۔
ان کے خیال میں کوئی بھی حکومت تنخواہوں اور پینشن پر سمجھوتا نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے خطیر رقم رکھنا ہی پڑتی ہے لیکن حکومت کی جانب سے سماجی شعبے اور صحت کے لیے بڑی رقوم مختص کرنا، میگا پروجیکٹس پر رقوم خرچ کرنے کے مقابلے میں بہتر آپشن ہے۔
نامور صنعت کار اور تاجر رہنما سراج قاسم تیلی کا کہنا ہے کہ انہیں بجٹ میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی کیوں کہ اس میں تاجروں کی جانب سے تجاویز کو مناسب جگہ نہیں دی گئی۔ حکومت کی جانب سے کہا یہ جا رہا ہے کہ انہوں نے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا مگر حکومت نے پرانے ٹیکسوں میں ردو بدل کرکے ان میں سے بعض میں اضافہ اور بعض میں کمی کی ہے۔ ان کے بقول تاجر بالخصوص چھوٹے تاجر جو کورونا وائرس کے سبب کیے جانے والے لاک ڈاؤن سے شدید متاثر ہوئے ہیں ان کے لیے بجٹ میں کوئی ریلیف نظر نہیں آتا۔
اسمال ٹریڈرز آرگنائزیشن نے بھی وفاقی بجٹ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں لاک ڈاؤن کے نتیجے میں متاثرہ لاکھوں چھوٹے تاجروں کے لیے کسی ریلیف کا اعلان نہیں کیا گیا۔ صدر اسمال ٹریڈرز ایسوسی ایشن محمود حامد کے مطابق کورونا کی وجہ سے تباہ حال کاٹیج انڈسٹری کو بجٹ میں مکمل نظر انداز کر کے حکومت نے تاجر دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاروبار کرنے کے لیے قومی شناختی کارڈ کی شرط مکمل طور سے ختم کی جائے جب کہ کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک کو بجٹ میں پچیس ارب روپے کی سبسڈی واپس لی جائے کیوں کہ ایک نجی ادارے کو اتنی بڑی سبسڈی دینا ناقابل فہم اقدام ہے۔