حکمرانی کا بحران

پاکستان کی سیاست اور جمہوریت میں ایک بنیادی مسئلہ حکمرانی کا بحران  ہے۔سب اس نکتہ پر متفق ہیں کہ لوگوں کے مفادات کے تناظر میں حکمرانی کے بحران نے عام آدمی سمیت تمام طبقات کو ایک بڑی مشکل سے دوچار کیا ہوا ہے۔

حکمرانی کے بحران میں چند پہلو بہت  اہمیت رکھتے ہیں جن میں وسائل کی منصفانہ تقسیم، وسائل کی شفافیت کی بنیاد پر مختص کرنا، سیاسی، سماجی، انتظامی ومعاشی ترجیحات کی درست نشاندہی اور منصوبہ بندی، اداروں تک عام آدمی کی رسائی، انصاف کی نظام، جوابدہی اور احتساب کا نظام، شفافیت، نگرانی،کمزور طبقات کو ترجیحی بنیادوں پر اپنی پالیسی کا حصہ بنانا، عوامی مفادات پر مبنی پالیسیاں اور قانون سازی، امن و امان، سیکورٹی، تحفظ جیسے امور شامل ہیں۔ اگرچہ حکومت  کا دعوی ہوتا ہے کہ وہ حکمرانی کے نظام کو موثر بنارہی ہے، مگر حکمرانوں اور عوام کے درمیان اس نکتہ پر  بداعتمادی اور خلیج پائی جاتی ہے۔

پاکستان میں حکمرانی کے نظام کو موثر اور شفاف بنانے کے لیے تین طرز کی حکومتوں کا تصور ہے۔ اول وفاقی، دوئم صوبائی اور سوئم مقامی نظام حکومت۔ تینوں طرز کی حکومتوں کا بنیادی مقصد ایک دوسرے کے نظام کو معاونت فراہم کرنا، باہمی رابطوں کو مضبوط بنانا اور عام لوگوں کی ترجیحات کو بنیاد بنا کر  حکمرانی کے نظام کو عوامی توقعات کے مطابق ڈھالنا ہے۔لیکن ہماری حکمرانی کا  المیہ یہ ہے کہ یہاں حکمرانی کے ان تینوں نظام کے درمیان  ٹکراؤ یا ایک دوسرے کی قبولیت کے حوالے سے  تضادات موجود ہیں۔18ویں ترمیم جو 2010 میں منظور ہوئی تھی اس کی بنیادی روح یہ ہی تھی کہ وفاق صوبوں کو اور صوبے ضلعوں، تحصیل اوریونین کونسل تک سیاسی، انتظامی،مالی طرز کے اختیارات کی تقسیم کے نظام کو منصفانہ بنا کر حقیقی سیاسی اور جمہوری حکمرانی کے نظام کو یقینی بنائیں گے۔

اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکمرانی کے بحران کے حل میں صوبائی حکومتیں اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ اس تناظر میں ہمیں دو بحران نظر آتے ہیں۔ اول صوبائی حکومتیں خود یہ ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہی نہیں کہ حکمرانی کے نظام کی شفافیت کا اہم اور بنیادی تعلق صوبائی حکومتوں کی کارکردگی  پرہے۔ لیکن وہ ا س ناکامی کی ذمہ داری  وفاق پر ڈال کر خود کو بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ دوئم صوبائی حکومتیں اپنے صوبوں میں آئین کی شق140-Aکے تحت مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے کا کوئی ایجنڈا نہیں رکھتیں او ریہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت چاروں صوبوں میں صوبائی حکومتوں کی وجہ سے مقامی حکومتیں مفلوج، کمزور اور ان کے انتخابات نہ کروانے کی پالیسی بالادست نظر آتی ہے۔

دنیا میں جہاں جہاں حکمرانی کا نظام شفاف ہے یا لوگوں کو جوابدہ ہے یا لوگوں کی توقعات کے مطابق ہے تو اس کی بنیادی وجہ وہاں اوپر سے لے کر نیچے تک کے سیاسی وانتظامی نظام میں اختیارات کی منصفانہ تقسیم ہے۔جتنے زیادہ اختیارات یا خود مختاری نیچے کے نظام میں ہوگی اتنا ہی نظام اپنی سیاسی ساکھ قائم کرتا ہے۔کیونکہ عام آدمی کا براہ راست رابطہ او راس کے مسائل کے حل کا تعلق مقامی نظام حکومت سے ہی ہوتا  ہے تو وہ اس مقامی نظام سے زیادہ توقعات رکھتے ہیں۔لیکن ہمارا سیاسی نظام جو کہنے تو جمہوری ہے لیکن عملی طور پر مرکزیت یا زیادہ سے زیادہ اختیارات کو اوپر کی سطح تک محدور رکھنے کا ایجنڈا رکھتا ہے۔اس کا نقصان یہ ہورہا ہے کہ لوگ بھی حکمرانی کے نظام میں ابہام کا شکار ہیں اور وہ کس کو اس بری حکمرانی کا ذمہ دار قرار دیں۔اس وقت پنجاب، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں عملی طور پر مقامی نظام حکومت موجود نہیں او ر اس صوبہ کے لوگ اس نظام سے محروم ہیں اور صوبائی حکومتیں انتخابات کے لیے تیار نہیں۔سندھ میں بھی اگلے چند ماہ میں مقامی انتخابات کا انعقاد ہونا ہے، مگر سندھ کا طرز عمل بھی مقامی نظام حکومت کی مضبوطی کے خلاف ہے۔

وزیر اعظم عمران خان بار بار صوبائی حکومتوں کو مہنگائی پر کنٹرول کرنے پر زور دیتے ہیں، مگر صوبائی حکومتوں کی کارکردگی اس تناظر میں عملی طور پر ناکامی سے دوچار ہے۔مہنگائی کو کنٹرول کرنا، امن و امان کی صورتحال، مقامی انصاف، بنیادی نوعیت کی سہولتوں کی فراہمی، پولیس کا نظام، صفائی اور سیوریج، صاف پانی،  صوبائی ترجیحات کا تعین، زخیرہ اندوزی، منافع خوری، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی شفاف نگرانی کا عمل کا براہ راست تعلق صوبائی او رمقامی نظام سے جڑا ہوا ہے۔یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اب اگر حکمرانی کا بحران ہے تو اس کی بڑی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے اوروہ ہی اس کی براہ راست ذمہ دار ہیں۔ جو لوگ بنیادی نوعیت کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں اس کی وجہ ہم صوبائی سطح پر ایک اچھا اور منصفانہ حکمرانی کا نظام قائم نہیں کرسکے۔

اس وقت بھی سیاسی حلقوں میں 18ویں ترمیم پر اس کی حمایت یا مخالفت میں بحث موجود ہے۔ 18ویں ترمیم کی اہمیت اور افادیت تب ہی ممکن ہے جب صوبے ایک ذمہ دارحکمرانی کے نظام کو تقویت دیں۔ اگر صوبے ضلع یا تحصیل کی سطح پر اختیارات تقسیم نہیں کرتے اور مقامی سطح پر مقامی حکومت کے نظام کو مضبوط نہیں بنانا تو  18ویں ترمیم کی افادیت  ختم ہوجائے گی۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ صوبائی خود مختاری پر بہت زیادہ جوش سے دلیلیں دی جاتی ہیں او راسے وفاق کی مضبوطی سے جوڑا جاتا ہے، لیکن اگر صوبائی حکومتیں مقامی خود مختاری کو قبول نہیں کریں گی تو پھر صوبائی خود مختاری پر بھی سوال اٹھیں گے او رلوگوں کو اس صوبائی خود مختاری سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔مقامی خود مختاری اور صوبائی خود مختاری آپس میں گہرا تعلق رکھتے ہیں اور دونوں کی حیثیت کو تسلیم کیے بغیر حکمرانی کا شفاف نظام ممکن نہیں۔

حکمرانی کے نظام میں سب سے زیادہ زور کمزور طبقات پر دیا جاتاہے۔ کمزور طبقات کی حکمرانی اسی صورت میں مضبوط ہوتی ہے جب ملک میں ان طبقات کے مسائل کو بنیاد بنا کر حکمرانی کے نظام کی تشکیل کی جائے۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان  میں حکمرانی کے بحران کا حل روائتی طرز کی  پرانی حکمرانی کے نظام یا سٹیٹس کو کو قائم رکھ کر ممکن نہیں۔ ہمیں  غیر معمولی  طریقوں  سے نہ صرف روائتی نظام حکمرانی کو چیلنج کرنا ہے بلکہ جو بھی متبادل نظا م لانا ہے وہ حکمرانی کے نظام کی اصل روح کی عکاسی کرتا ہو۔ اس کا ایک طریقہ شہریوں کی زیاد ہ سے زیادہ نظام حکومت بالخصوص مقامی نظام میں شمولیت اور فیصلہ سازی میں ان کو اہمیت دینا ہے۔

جب پورے ملک کے اہم لوگ اس نکتہ پر متفق ہیں کہ حکمرانی کا نظام اپنے اندر بڑی اصلاحات چاہتا ہے اور عام لوگ بھی اس موجودہ روائتی نظام سے نالاں ہیں تو پھر ہم کیونکر نظام کی اصلاح کے لیے تیار نہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہمارے طاقت کے مراکز یا طاقت ور سیاسی فریق  طبقاتی طرز کا نظام قائم رکھ کر اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کو ہی تقویت دینا چاہتے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ جو پالیسیاں، قانون سازی یا عمل درآمد کے نظام کے میکینزم یہاں حکمرانی کو موثر بنانے کے لیے درکار ہیں اس میں ہر سطح پر سیاسی، انتظامی، مالی اور قانونی رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں، مگر اس کے خلاف ہمیں قومی سطح پر کوئی بڑی مزاحمت بھی نظر نہیں آتی۔کیونکہ بغیر کسی سیاسی مزاحمت یا دباؤ کی سیاست کو پیدا کیے بغیر  نظام  تبدیل نہیں ہوسکتا۔اس میں سیاسی جماعتوں میں موجود لوگوں کا بڑا اہم کردار ہے کیونکہ وہی سیاسی نظام کی اصل فریق ہے۔لیکن یہاں سیاسی جماعتیں چند افراد کے ہاتھوں عملًا یرغمال ہیں جہاں بڑی سیاسی اصلاحات درکار ہیں۔

پاکستان کے اہل دانش، فیصلہ سازی میں بااختیار لوگ،رائے عامہ کی تشکیل کرنے والے افراد یا ادارے اور سیاسی جماعتوں یا میڈیا میں موجود حقیقی تبدیلی کے افراد کو حکمرانی کے نظام کی اصلاح کے لیے ایک بڑی سیاسی جنگ لڑنی ہے۔ یہ جنگ یقینی طو رپر اپنے اپنے دائرہ کار یا حدود میں لڑنا اور بڑے دباؤ کو پیدا کرنا ہوگا۔خاص طور پر ہمیں حکمرانی کے نظام کی اصلاح کے لیے سب سے زیادہ زور صوبائی حکومتوں اورمقامی حکومتوں کے نظام کے باہمی تعلق اور ان کی کارکردگی کے ساتھ جوڑ کر ایک بڑے سیاسی مکالمہ  شروع کرنا ہوگا۔وفاق کو بھی صوبوں کے ساتھ مل کر حکمرانی کے نظام کو موثر بنانے کے لیے  مکالمہ پیدا کرنا  چاہئیاو رجہاں جہاں ابہام ہے یا ٹکراؤ ہے اس کو دور کرکے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوکر شفاف حکمرانی کی جنگ لڑنی ہوگی۔