کشمیر یوں کے مطالبہ آزادی کی سیاسی نمائندگی
- تحریر اطہر مسعود وانی
- اتوار 14 / جون / 2020
- 8250
مقبوضہ کشمیر میں دونوں حریت گروپ، اس میں شامل رہنماؤں کا یہی کہنا تھا کہ ہمارے نوجوان آزاد ی کی مزاحمتی تحریک چلا رہے ہیں،ہم ان کی سیاسی شعبے میں نمائندگی کر رہے ہیں۔حریت میں اتفاق و نااتفاقی کے کئی دور دیکھنے میں آئے،کئی بار تو خرابیاں یوں نمایاں ہوئیں کی عوامی حلقوں کی طرف سے بھی کشمیریوں کی تحریک کی سیاسی نمائندگی کے طریقہ کار اور معیار کو بہتر بنانے کا مطالبہ سامنے آتا رہا۔
وجوہات سے قطع نظر، اس حوالے سے معاملات کو بہتر بنانے،تحریک کو تقویت دینے کے شعور کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں نہ آ سکا۔بحیثیت مجموعی،حریت رہنما اپنی ذمہ داری میں کمزور رہے اورلاچارگی کی مثال بنے رہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں خطے کی سیاسی حیثیت اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے منصوبے کئی سال پہلے ہی سامنے آ چکے تھے۔اس موضوع پر پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک میں کشمیری حلقوں کی بے شمار تقریبات تو منعقد ہوتی رہیں۔ ان میں انڈیا کے اس منصوبے کا بیان تو سننے میں آتا رہا لیکن اس کے تدارک کے لئے کیا کیا جانا چاہئے؟ اس بارے میں نمائندگان کہلانے پر مصر افراد کی عقل و دانش بے ثمر ثابت ہوئی۔تقریباً چار،پانچ سال پہلے ہی یہ ضرورت کھل کر سامنے آچکی تھی کہ حریت کانفرنس مقبوضہ کشمیر، ہندوستانی حکومت کی بڑھتے ہوئے ظلم و جبر کے پیش نظر عالمی سطح پہ ایک ایسا سیاسی پلیٹ فارم قائم کرنے کی ذمہ داری پوری کرے تا کہ پاکستان سمیت عالمی سطح پہ کشمیریوں کی نمائندگی کا وجود عمل میں لاتے ہوئے کشمیر کاز میں سیاسی سطح پہ پیش رفت ممکن ہوسکے۔
حریت کانفرنس کئی دیگر خرابیوں کی طرح تنظیمی و شخصی نااتفاقی کو بھی ایک رسم کی طرح نبھاتی چلی گئی۔ پھر وہ وقت آیا کہ جب ہندوستانی حکومت نے غیر ملکی پیسے وصول کرنے کے الزامات میں اکثر حریت رہنماؤں کو جبر کے ایسے سلسلے میں ڈالا کہ جہاں وہ محدود سے محدود تر ہوتے چلے گئے۔اس کے بعدہندوستانی حکومت نے5اگست2019کے اقدامات کے ذریعے حریت کانفرنس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے تمام سیاسی حلقوں کے رہنماؤں کو بھی قید میں ڈال دیا۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کی نمائندگی آزاد کشمیر کی حکومت اور وہاں کی سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری میں شامل ہے۔آزاد کشمیر کی حکومت اور سیاسی جماعتوں نے ہندوستان کے5اگست2019کے سنگین اور جارحانہ اقدامات کی صورتحال میں سیاسی سطح کی مزاحمت کی کوششیں شروع کیں تو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے انہیں یہ کہتے ہوئے روک دیا گیا کہ ان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تقریر تک انہوں نے کچھ نہیں کرنا۔
جنرل اسمبلی میں تقریر ہو گئی،اور بھی کئی واقعات ہوئے لیکن وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے آزاد کشمیر ہی نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کو یہی تلقین کی جاتی رہی کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کریں کہ جس سے ہندوستان کو آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان پر حملہ کرنے کا بہانہ مل سکے۔ہندوستان کو کسی قسم کا بہانہ نہ ملنے کی فکر رکھنے والے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اس بات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا کہ حکومت پاکستان کی کشمیر کاز کے حوالے سے ذمہ داری کیا ہے اور پاکستان اپنی گنجائش میں کشمیر کاز،مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے کیا کیا اقدامات بہ آسانی کرسکتا ہے۔
اسی صورتحال میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے اس بات پہ زور دیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق ہندوستان کے ہٹ دھرمی اور دھونس پر مبنی جارحانہ اقدامات کا موثر جواب دینے کے لئے آزاد کشمیر حکومت کو کشمیریوں کی نمائندگی اور دنیا میں کشمیریوں کی طرف سے کشمیر کا مقدمہ پیش کرنے کا اختیار دیا جائے۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان حکومت کی طرف سے ایسا نہیں کیا گیا۔ کشمیریوں کی مبنی بر حق مزاحمتی تحریک کے حوالے سے آزادکشمیر حکومت کو سیاسی اختیار دینے کے بجائے آزاد کشمیر حکومت پر14ویں آئینی ترمیم کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تا کہ آزاد کشمیر حکومت13ویں آئینی ترامیم کے ثمرات سے محروم کیا جا سکے۔
یورپ اور امریکہ میں کشمیر کاز کے حوالے سے مختلف حلقے نظر آتے ہیں جو اپنے دائرہ کار میں مسئلہ کشمیر کے لئے مختلف سرگرمیاں کرتے رہتے ہیں۔یوں مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ہندوستان اور پاکستان سمیت اقوام عالم کے وعدے کی یاد دہانی میں کشمیریوں کی ہندوستان کے خلاف مزاحمتی تحریک کی سیاسی نمائندگی مقبوضہ کشمیر،آزاد کشمیر،پاکستان اور بیرون ملک نظر تو آتی ہے لیکن ایک مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم نہ ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر یا پاکستان میں بھی نہ تو کشمیریوں کی کوئی آواز ہے اور نہ ہی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کشمیریوں کی کوئی مشترکہ سیاسی کوشش سامنے آتی ہے۔