سنتھیا رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم
- سوموار 15 / جون / 2020
- 4270
اسلام آباد لے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو پر الزام تراشی کرنے پر امریکی خاتون بلاگر سنتھیا ڈی رچی کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان نے امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی کے خلاف اندراجِ مقدمہ کی درخواست پر رواں ماہ 13 جون کو محفوظ کیا تھا۔ یہ فیصلہ آج جاری کر دیا گیا۔ عدالت نے ایف آئی اے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو پر مبینہ الزام تراشی کرنے پر امریکی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
دوسری جانب سنتھیا ڈی رچی کے وکیل نے وکالت کا معاوضہ ملنے تک مزید کسی عدالت میں اپیل دائر کرنے سے انکار کر دیا ہے جب کہ سنتھیا کا کہنا ہے کہ ان کے وکیل نے اُنہیں عدالت میں غلط طور پر پیش کیا اور ان کی ٹوئٹس کو جعلی کہا۔ سنتھیا کا مزید کہنا ہے کہ اُن کی تمام ٹوئٹس اصلی ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر شکیل عباسی نے بے نظیر بھٹو پر الزامات عائد کرنے پر امریکی خاتون کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی تھی۔ علاوہ ازیں سنتھیا رچی کے خلاف اندراج مقدمہ کی ایک اور درخواست اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں بھی زیرِ سماعت ہے۔ ندیم مغل نامی شہری کی اس درخواست پر اسلام آباد کی سیشن عدالت نے ایف آئی اے سے جواب طلب کر لیا ہے۔
پیر کو سماعت کے دوران جج جہانگیر اعوان نے ریمارکس دیے کہ دوسرے مقدمے میں ایف آئی اے کا جواب آجائے پھر دیکھ لیتے ہیں۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ سنتھیا کی طرف سے اس بات کی کوئی تردید نہیں کی گئی کہ بے نظیر بھٹو سے متعلق ٹوئٹس انہوں نے نہیں کیں۔ البتہ ان کے وکیل ناصر عظیم کی طرف سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سنتھیا ڈی رچی سے منسوب ٹوئٹس جعلی ہیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کو اس دنیا سے گئے 12 سال گزر چکے ہیں اور ان پر عائد الزامات اس سے پہلے کبھی سامنے نہیں آئے۔ مرنے کے بارہ سال کے بعد ایک مرحوم سیاسی لیڈر کی کردار کشی کرنا بظاہر بدنیتی پر مبنی نظر آتا ہے۔
سنتھیا کے وکیل ناصر عظیم خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کیس میں اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنی ہے یا نہیں۔ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک پروفیشنل وکیل ہیں اور جب تک انہیں اس کیس کی فیس ادا نہیں کی جاتی وہ مزید کیس نہیں لڑ سکتے۔ اُن کے بقول آئندہ اس کیس میں کیا ہو گا اور کسی عدالت میں مزید کارروائی کرنی ہے یا نہیں؟ اس بارے میں سنتھیا ڈی رچی کو معلوم ہو گا۔
اس سوال پر کہ آپ نے عدالت میں بے نظیر بھٹو سے متعلق ٹوئٹس کو جعلی قرار دیا جب کہ سنتھیا خود اسے اصلی قرار دے رہی ہیں؟ ناصر عظیم کا کہنا تھا کہ عدالت میں وکیل اپنے کلائنٹ کی مرضی سے ہر بات کرتا ہے۔ دوسری طرف سنتھیا ڈی رچی نے ایک ٹوئٹ میں اپنے وکیل پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے عدالت میں انہیں غلط انداز میں پیش کیا اور ٹوئٹس کو جعلی قرار دیا۔ حالانکہ یہ سب اصلی ٹوئٹس تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم رحمان ملک کے خلاف کریمنل رپورٹ درج کرانا چاہ رہے تھے اور اچانک ان کے وکیل نے ان سے 20 لاکھ روپے طلب کیے۔ حالانکہ یہ معاملہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے طے پایا تھا۔
عدالتی فیصلے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر اور درخواست گزار شکیل عباسی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایف آئی اے کو اب چاہیے کہ وہ فوری طور پر مقدمہ درج کر کے سنتھیا کو گرفتار کرے۔ انہوں نے کہا کہ سنتھیا نے جس طرح بے نظیر بھٹو کے خلاف توہین آمیز الزامات عائد کیے۔ ایسے میں ان کے خلاف چار سے پانچ مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے۔
سنتھیا پہلی بار ایسے کسی تنازع کا حصہ نہیں رہیں بلکہ ماضی میں بھی صحافیوں سے ان کی سوشل میڈیا پر جنگ ہو چکی ہے۔ حیرت انگیز طور پر ان کی حمایت میں ہزاروں افراد نے حال میں ٹوئٹس کیے اور نئے ٹرینڈز بنا دیے۔