کورونا وائرس: پاکستان میں مزید 97 اموات، لاہور کے متاثرہ علاقے بند کرنے کا فیصلہ
- سوموار 15 / جون / 2020
- 4470
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائرس کے شکار 97 مریض چل بسے جس کے بعد ہلاکتوں کی کُل تعداد 2729 ہو گئی ہے۔ پاکستان میں 5248 افراد میں وائرس کی تشخیص بھی ہوئی ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے ٹیسٹ، ٹریک اور قرنطینہ (ٹی ٹی کیو) کی حکمت عملی کی بدولت ملک کے ان 20 شہروں کو شناخت کیا ہے جہاں کورونا وائرس کے کیسز ہاٹ اسپاٹ کی شکل میں موجود ہیں۔ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کی ضرورت تھی جن پر عمل شروع کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں کراچی کمپنی کے ساتھ ساتھ جی 9/2 اور جی 9/3 کے علاقوں کو 300 سے زائد کیسز ہونے کے بعد سیل کردیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں نئے ہاٹ اسپاٹ درج ذیل ہیں جس کے بعد ان علاقوں کو بھی جلد سیل کیا جا سکتا ہے۔ ان علاقوں میں آئی-8، آئی-10، غوری ٹاؤن، بارہ کہو، جی-6 اور جی-7 شامل ہیں۔
مختلف شہروں میں کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے ان علاقوں میں احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی کے باعث کل رات 12 بجے سے لاہور کے کئی علاقوں کو بند کردیا جائے گا۔
صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ لاہور میں شاہدرہ، اندرون لاہور کے کچھ علاقے، مزنگ، شاد باغ، ہربنس پورہ، گلبرگ، لاہور کینٹ کے کچھ علاقے، نشتر ٹاؤن کا بیشتر حصہ اور علامہ اقبال ٹاؤن میں شامل کچھ سوسائٹیز کو مکمل طور پر بند کردیا جائے گا۔ لاہور کے ان علاقوں میں کم از کم 2 ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن لگایا جارہا ہے اور اس دوران صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا۔ اگر کچھ بہتری آئی تو ان علاقوں کو وقت سے پہلے کھولا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کی پانچویں سب سے بڑی آبادی ہیں لیکن ان چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف پنجاب نہیں بلکہ سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں نے جو کوششیں کی اس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر ہم اپنا موازنہ بھارت کے ساتھ کریں تو مجھے پورا یقین ہے کہ ہم کئی گنا بہتر ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں اب تک کم از کم ایک لاکھ 46 ہزار افراد وائرس سے متاثر اور 2ہزار 751 فوت ہو چکے ہیں.
امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 21 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ جب کہ اموات کی کل تعداد ایک لاکھ 18 ہزار کے قریب ہے۔ کورونا وائرس کے مثبت کیسز اور اموات کے اعتبار سے عالمی فہرست میں برازیل دوسرے درجے پر آ گیا ہے جہاں تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد ساڑھے آٹھ لاکھ سے زیادہ اور اموات 43 ہزار کے قریب ہیں۔
بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورت حال تشویش ناک صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی کے اسپتالوں میں نئے مریضوں کے لیے گنجائش ختم ہو گئی ہے۔ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے بعد اسپتالوں میں مریضوں کے لیے جگہ کم پڑنے لگی ہے۔ لہٰذا بھارت کی وزارتِ داخلہ نے پیش کش کی ہے کہ وہ ٹرینوں کی 500 بوگیاں فراہم کرنے کے لیے تیار ہے جنہیں کورونا کے مریضوں کے لیے عارضی اسپتال میں بدلا جا سکتا ہے۔
دہلی کے سرکاری و نجی اسپتالوں میں کورونا وائرس کے نو ہزار مریضوں کے بیک وقت علاج کی سہولت موجود ہے۔ تاہم حکام اور ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث بھارتی دارالحکومت میں رواں ماہ کے اختتام تک 15 ہزار بیڈز کی ضرورت ہوگی۔
خیال رہے کہ بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 11 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ اس دوران 325 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ بھارت میں کووڈ 19 کے مریضوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ 32 ہزار سے زائد ہے جب کہ وائرس سے 9520 اموات ہو چکی ہیں۔