ڈاکٹر نورین عامر: مسیحائی کی بے وفائی کا نوحہ

قیامت کی گھڑی تھی جو اس شام آئی اور جسم و جان کو مضمحل کرتے ہوئے یاد کے منظر نامے کا ایک بڑا حصہ اپنے ساتھ لیتے ہوئے رات کے تاریک دامن میں اتر گئی۔ ابھی تو آصف فرخی کا نوحہ پڑھ کے ہی سنبھل نہ پائے تھے کہ ایک اور شام غریباں آ ٹھہری!

نئے گھر میں اترے دوسرا تیسرا روز تھا۔ ہر طرف سامان بکھرا پڑا تھا، کچھ کھلا کچھ بندھا۔ چھوٹی سی بچی گود میں، اوائل گرما کے دن، پھیلی ہوئی بے ترتیبی، تھکن اور جھنجھلاہٹ میں اضافہ کرتی تھی۔یہ 1994 تھا۔ایسے میں سامنے والے گھر سے چائے پہ ملنے کا سندیسہ آیا۔ گویا سوکھے دھانوں پہ پانی پڑ گیا۔ بیمار کو بے وجہ قرار ملنے میں شاید ایسا ہی محسوس ہوا ہو۔ ملازم نے دانت نکالتے ہوئے کہا:

’وہ بیگم صاحب بھی آپ جیسی ہیں‘

’ہمارے جیسی ؟ کیا مطلب ‘

’وہ جی… ڈاکٹر ‘

نہ جانے چائے کی مہک سے بے قرار ہوئے یا ہم پیشہ کی کشش کہ تھکن اور بیزاری پہ ایک طرف رکھتے ہوئے بچی کو بغل میں دبایا اور سامنے والے گیٹ پہ جا کھڑے ہوئے۔ بقول ہماری اماں کے : ’ پاؤں میں جوتا پہننے کی زحمت بھی گوارا نہ کی‘۔ دروازہ کھلا، ملازم نے ڈرائینگ روم تک رہنمائی کی۔ انتہائی نفاست سے سجا اور جمالیات کا مظہر کمرہ ایک نظر میں بتا دیتا تھا کہ خاتون خانہ صاحب ذوق ہیں۔ کچھ ہی دیر میں خوبصورت خد و خال، جاذب نظر نین نقش اور مہربان چہرے والی خاتون آئیں، وہ مسکرائیں، باتیں ہوئیں اور ہم زندگی بھر کے لئے دوست بن گئے۔ یہ تھیں ڈاکٹر نورین عامر!

ڈاکٹر نورین کا تعلق فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے تھا, ہماری مادر علمی بھی وہی تھی۔ فرق تھا تو اتنا کہ وہ ہم سے گیارہ برس قبل فارغ التحصیل ہو کے کالج سے رخصت ہو چکی تھیں۔ ڈاکٹر بننے کے بعد شادی ہوئی، کچھ عرصے کے لئے آرمی میڈیکل کور سے منسلک ہوئیں لیکن چار بچوں کی یکے بعد دیگرے آمد اور میاں صاحب کی بیرونِ ملک تعیناتی کی وجہ سے یہ تعلق منقطع ہوا۔

پہلی ہی ملاقات میں پروفیشن کا ذکر چل نکلا: ’ مجھے مزید پڑھنے کا بے حد شوق ہے، پہلے سلسلہ روز وشب نے موقع نہیں دیا۔ اب اس شوق کی آبیاری کرنا چاہتی ہوں۔ تمہارا کیا ارادہ ہے ؟‘

ہم نے قلقاریاں مارتی بیٹی کو دیکھ کے کہا: ’جی مجھے گریجویٹ ہوئے تو زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ اس عرصے میں شادی کی ہے، بیٹی گود میں آ بیٹھی ہے۔ اب سوچ رہی ہوں ‘۔

’میں نے پارٹ ون کے کورس میں داخلہ لیا ہے، جو اگلے ہفتے سے شروع ہو رہا ہے۔ داخلے تو شاید بند ہو چکے ہیں۔ کوشش کر دیکھو شاید ممکن ہو جائے‘۔

ہمارے دل میں سلگتی چنگاری کو ڈاکٹر نورین نے ہوا دکھا دی تھی۔ گھر لوٹ کے آئے تو نہ بکھرا ہوا سامان یاد رہا، نہ تلپٹ گھر نظر آیا۔ صرف ایک ہی دھن سوار تھی کہ تین دن بعد شروع ہونے والے کورس میں داخلہ لینا ہے، چاہے کچھ بھی ہو۔ دن میں بچی کہاں رہے گی؟ کتابیں تو ابھی ہیں نہیں، گھر ابھی سنبھلا نہیں، کیا انتظام ہو گا؟ یہ سب وہ سوال تھے جن کی طرف سے ہم نے ایک شان بے نیازی سے منہ پھیر لیا۔ ہم سوچے سمجھے بغیر کود جانے کا ارادہ کر چکے تھے۔

ہونا تو وہی تھا جو سوچا تھا۔تین دن بعد جب ڈاکٹر نورین جانے کے لئے گھر سے نکلیں تو ہم بھی کمر کس کے گیٹ پہ کھڑے تھے۔ وہ مسکرائیں جیسے کہہ رہی ہوں: ’لگا لیا نا لائن پہ ’۔

اگلے ڈھائی ماہ کچھ یوں گزرے کہ ایک عمر کی رفاقت کی بنیاد بندھ گئی۔ ہم اکھٹے جاتے، سارا دن کلاسیں لیتے، اکھٹے واپس آتے، مل کے نوٹس بناتے اور درمیان میں خوب باتیں کرتے۔ وہ اپنے خواب سناتیں، ہم اپنی خواہشات کا اظہار کرتے۔ انہیں بہت قلق تھا کہ ان کے کیرئیر میں بہت برس کا وقفہ آ چکا ہے۔ ہم ان کی ہمت بندھاتے ہوئے کہتے کہ آپ زندگی کے کچھ مقامات پہ کامیابی سے گزر چکی ہیں، ہمیں دیکھیے، ہم نے یہ منزلیں ابھی طے کرنی ہیں۔

ہم دونوں نے پارٹ ون کا امتحان پاس کر لیا۔ اب ٹریننگ کے مراحل شروع ہونے کو تھے۔ وہ میڈیسن کی گتھیاں سلجھانا چاہتی تھیں اور ہم گائناکالوجی کی دشوار راہوں کے مسافر تھے۔ رستے جدا ہو رہے تھے مگر دل نہیں۔ اس دور کی کچھ یادیں ہیں دل کے دروازے پہ دستک دیتی ہیں۔ ہم اکثر چائے اکھٹے پیتے، قصے کہانیوں کا دور چلتا اور پاس میں ہماری بیٹی کھیلتی رہتی۔ ان کے گھر بہت خوبصورت کاہی رنگ کی دو چھوٹی چھوٹی کرسیاں تھیں جو وہ سعودی عرب سے لائیں تھیں۔ ماہم جونہی اس پہ بیٹھتی، ان کا چھوٹا بیٹا ٹیپو جو ماہم سے کچھ بڑا تھا، آ کر اسے دھکا دے کے اٹھا دیتا۔ ماہم منہ بسورتی، ڈاکٹر نورین ٹیپو کو گھرکتیں لیکن وہ نہ مانتا۔ ایک روز جب ہم واپس آئے تو کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی، دیکھا تو ان کا ملازم وہی کرسی لئے کھڑا تھا۔ ماہم نورین آنٹی کی دی ہوئی کرسی آج تک نہیں بھول پائی۔

اور ہسپتال کی وہ شام کیسے بھولیں جب طبعیت خراب ہونے کی وجہ سے ہمیں داخل کر لیا گیا۔ عزیز واقارب کو اطلاع نہیں دی گئی۔ صاحب ماہم کو باہر کہیں بہلاتے پھر رہے تھے۔ ہم ایک بستر پہ چپ چاپ آنکھیں موندے پڑے تھے کہ کسی نے جلتی ہوئی پیشانی پہ ہاتھ رکھا۔ چونک کے دیکھا تو ہاتھ میں ڈھیروں پھول تھامے وہی مہربان چہرہ اپنی سدا بہار مسکراہٹ کے ساتھ ہمارے پاس کھڑا تھا۔ انہیں ہمارے ملازم سے صرف طبعیت خرابی اور ہسپتال جانے کا پتہ چلا تھا۔ موبائل فون تو ہوا نہیں کرتے تھے لیکن وہ دوست کی فکر میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے فوجی ہسپتال کے فیملی وارڈ تک آ پہنچی تھیں۔

وقت آگے بڑھا۔ ہم اور شہروں کی یاترا پہ نکل گئے، لیکن وہ بندھن نہ کمزور ہوا نہ ٹوٹا۔ ہمارا بیس کیمپ تو راولپنڈی ہی تھا کہ میکہ اور سسرال دونوں وہیں بستے تھے۔ جونہی چھٹیاں ہوتیں، ہم پنڈی کا رخ کرتے۔ ایسا کوئی وقت ہمیں یاد نہیں کہ ہم پنڈی آئیں اور نورین سے نہ ملے ہوں۔ ہماری سب مصروفیات اس ملاقات کے کبھی آڑے نہ آتیں۔ ہم ملتے اور گھنٹوں باتیں کرتے۔ ٹریننگ کہاں تک پہنچی؟ تھیسس کا کیا بنا؟امتحان کب دینا ہے؟ سینیئر سپروائزر کے ساتھ کیسی چل رہی ہے؟ بچوں کی پڑھائی کہاں تک پہنچی؟ شوہروں کے مزاج کیسے ہیں؟ سسرال کے کیا قضیے ہیں؟

اس دوران ہمارے بہن بھائیوں اور دیور نند کی شادیاں ہوئیں، نورین ان سب کا حصہ تھیں۔ ہمارے چھوٹے بچے جونہی دنیا میں تشریف لاتے، نورین سب سے پہلے ہاتھ میں پھول تھامے آ موجود ہوتیں۔ ابا کا آخری سفر، نورین ہمارے ارد گرد ہی تھیں۔ اماں کی طبعیت خراب ہوتی اور ہم دور دیس بیٹھے پہنچ نہ پاتے تو نورین کی مسیحائی کام آتی۔

وقت اور آگے بڑھا۔ ہم دونوں نے امتحان مختلف اوقات میں اور مختلف سنٹرز سے پاس کیا۔ نورین کے پاؤں خوشی سے زمین پہ نہیں ٹکتے تھے۔ انہوں نے ایک خواب دیکھا تھا، برسوں اس کی آبیاری کی تھی اور اب اس کی تعبیر کی تتلیاں ان کے گرد رنگ بکھیرتی تھیں جب ان کی بڑی بیٹی بھی میڈیکل سٹوڈنٹ تھی۔اسلام آباد کنونشن سنٹر میں ہونے والی کانووکیشن دو مائیں اپنے بچوں کی ہمراہی میں سر افتخار سے بلند کیے کھڑی تھیں۔ وہ سفر جو کسی مرد کے لئے بہت سہل ہوا کرتا ہے، وہ ان دونوں نے تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے مکمل کیا تھا۔ گاؤن اور پیلے پھندنے والی ٹوپی پہنے، ڈگری ہاتھ میں تھامے آبلہ پائی کا سفر ختم ہونے کو تھا۔

کاش ایسا ہی ہوتا!

نورین نے جان توڑ محنت کے بعد میڈیکل سپیشلسٹ کی اعلیٰ ڈگری حاصل کر لی تھی۔ ساتھ میں چاروں بچے ڈاکٹر اور انجینئر بن چکے تھے۔ بیٹی ڈاکٹر سارہ کی شادی طے پا چکی تھی اور ہونے والے داماد انگلستان میں ڈاکٹر تھے۔ راوی چین ہی چین لکھتا تھا لیکن چشم فلک کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ نہ جانے کیسے اور کب، نورین کے گردے جواب دے چکے تھے اور اب علاج صرف ڈائلسس تھا، ہفتہ وار گردوں کی مشین سے صفائی۔ نورین نے اس جاں لیوا بیماری کو بہت حوصلے کے ساتھ سہا۔ انہیں کبھی بھی مایوسی اور کم ہمتی کا شکار نہیں دیکھا۔ ہسپتال جاتیں تو اسی طرح نک سک سے درست حلیہ اور ہونٹوں پہ سدا بہار مسکراہٹ ہوتی۔ ہم نے کبھی نہیں سنا کہ وہ شکایتی الفاظ زبان پہ لائی ہوں کہ یہ سب اتنی جلدی ان کے ساتھ کیوں ؟

ہم ملک سے باہر آ چکے تھے، جب بھی واپس جاتے، ملاقات لازم تھی۔ وہ کہتیں، میری کوئی بہن نہیں سو میں نے تمہیں ہمیشہ چھوٹی بہن کی طرح چاہا ہے مگر تم نے ہمیشہ ملنے اور جدا ہونے کے کرب میں ہی مبتلا رکھا ہے۔ پھر فیس بک نے فاصلے پاٹ دئیے۔ اب وہ سب دیکھتیں اور ہر معاملے پہ داد دینے کے لئے تیار رہتیں۔ انہیں یہ بات بہت بھاتی کہ ہماری زندگی کے سفر کے ہر مرحلے اور ہر پڑاؤ کو انہوں نے قریب سے نہ صرف دیکھا ہے بلکہ اس میں شریک بھی رہی ہیں۔ فیس بک پہ وہ علی الاعلان لکھتیں کہ ہم ان کے soul mate ہیں۔

زندگی کی کھٹنائیوں سے جنگ جو کی طرح لڑنے والی ڈاکٹر نورین عامر کورونا سے نہ جیت سکیں۔ وہ کچھ کہے بنا، بتائے بنا، ملے بنا رخصت ہو گئیں۔ یہ خیال دل چیرے دیتا ہے کہ اگر زندگی رہی اور وطن جانا ممکن ہوا تو وہ چاند چہرہ کہیں نہیں ہو گا۔

ہم ان کا آخری پیغام حسرت سے دیکھ رہے ہیں جو عید کے روز آیا تھا۔ ہمیں چھبیس برس پہلے کا وہ دن یاد آ گیا ہے جب ہم دونوں چائے کا پیالہ ہاتھ میں تھامے بے طرح ہنستے تھے اور مستقبل کے خواب بنتے تھے۔ مستقبل جو سات پردوں میں چھپا تھا، تھوڑی سی خوشی کی پوٹلی اور بہت سے دکھ کا ہولڈال لئے۔۔۔خدا حافظ، پیاری دوست!

(بشکریہ: ہم سب لاہور)