فائزعیسی کے خلاف ریفرنس میں بدنیتی نظر آئی تو اسے خارج کر دیا جائے گا: سپریم کورٹ
- تحریر بی بی سی اردو
- منگل 16 / جون / 2020
- 6390
سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ کے مطابق اس ریفرنس میں نقائص موجود ہیں اور اگر یہ کوئی عام معاملہ ہوتا تو کیس کب کا خارج کیا جا چکا ہوتا۔
منگل کو عدالت عظمی کے 10رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر اس صدارتی ریفرنس میں بدنیتی نظر آئی تو اسے خارج کر دیا جائے گا۔ انہوں نے وفاق کے وکیل فروع نسیم کو یہ آپشن بھی دی کہ وہ اس نکتے پر وزیر اعظم اور صدر سے مشاورت کر لیں کہ کیا وہ اس کیس کو پہلے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حوالے کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ اگر بورڈ کا فیصلہ جج کی اہلیہ کے خلاف آتا ہے تو اس معاملے کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش کیا جائے۔
عدالت نے فروغ نسیم سے کہا کہ اگر صدر اور وزیر اعظم ایسا کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تو وہ اپنے دلائل جاری رکھیں اور عدالت قانون کے مطابق فیصلہ دے گی تاہم اگر وزیراعظم اور صدر اس تجویز سے اتفاق کرتے ہیں تو عدالت درخواست گزار کے وکیل کی رضامندی کے بعد ایف بی آر کو کہہ سکتی ہے کہ وہ عدالتی چھٹیوں کے دوران اس معاملے میں فیصلہ دے۔
وفاق کے وکیل نے کہا کہ عدالت کی نظر میں یہ ایک بہتر راستہ ہو سکتا ہے اور سوال اٹھایا کہ ایف بی آر کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے تو ٹائم فریم اور طریقہ کار کیا ہو گا؟ اس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ایف بی آر اس نتیجے پر پہنچے کہ جن ذرائع سے یہ جائیداد خریدی گئی ہے وہ درست ہیں، جبکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ٹیکس اتھارٹی کے فیصلے سے سپریم جوڈیشل کونسل اتفاق نہ کرے۔
عدالت نے فروغ نسیم کو مشاورت کرکے عدالت کو آگاہ کرنے کے لیے 17 جون تک کا وقت دیا ہے۔ وفاق کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ وہ جج کی عوام میں حثیت کے بارے میں دلائل دیں گے جس پر بینچ کے سربراہ نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جج کی معاشرے میں حیثیت اور اس کے احتساب کے بارے میں سب متفق ہیں۔ اس لیے وہ آج بدنیتی اور جج کے خلاف شواہد اکھٹے کے بارے میں دلائل دیں۔
بینچ کے سربراہ نے کہا کہ درخواست گزار یعنی جسٹس قاضی فائز عیسی نے کبھی بھی لندن کی جائیداد کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا اور وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ بینچ میں موجود جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر نے درخواست گزار کی اہلیہ کو نوٹس جاری کیا ہوا ہے، بہتر یہ ہوتا کہ پہلے ان کو فیصلہ کرنے دیا جاتا۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر ایف بی آر درخواست گزار کی اہلیہ کے خلاف فیصلہ دیتا تو پھر اس معاملے کو سپریم جوڈیشل کونسل میں لے جایا جاتا۔ اگر اس معاملے میں بدنیتی ظاہر ہو تو سپریم جوڈیشل کونسل کو کارروائی کا اختیار ہے۔ وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ججوں کے خلاف ضابطے کی کارروائی ہوتی ہے جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ضابطے کی کارروائی کا انحصار کسی دوسری کارروائی پر کیسے ہوگا۔ اُنہوں نے سوال اُٹھایا کہ جب ضابطے کی کارروائی کا انحصار کسی دوسری کارروائی پر ہوگا تو آزادانہ کارروائی کیسے ہوگی اور اس صورت حال میں ضابطے کی کارروائی کا بھی فائدہ نہیں ہوگا۔
بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ جوڈیشل کونسل کی کارروائی کا انحصار کسی اور فورم کی کارروائی پر نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ضابطے کی کارروائی میں نہیں کہہ سکتے کہ میری اہلیہ خودکفیل ہے۔ اُنہوں نے کہا سروس آف پاکستان کے تحت کوئی اپنی اہلیہ کی جائیداد کا جواب دینے سے انکار نہیں کر سکتا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ اگر سرکاری ملازم اپنی اہلیہ سے معلومات لینے سے قاصر ہو تو پھر ایسی صورت میں کیا ہو گا جس پر وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازم اگر اہلیہ کا بہانہ بنائے تو اسے جیل بھیج دیا جائے گا۔
فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کے جج نے یہ نہیں کہا ان کی اہلیہ اُنہیں معلومات فراہم نہیں کر رہیں۔ بینچ میں موجود جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی جج کے خلاف کونسل کے سوا کوئی ایکشن نہیں لے سکتا۔
وفاق کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ حکومت نے نہیں مانگا بلکہ ایف بی آر سے ٹیکس کا ریکارڈ جوڈیشل کونسل نے منگوایا تھا جس پر بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ افریدی نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’فاضل وکیل صاحب، ایسا نہ کریں، ایف بی آر کو پہلے خط حکومت کی جانب سے لکھا گیا‘۔
وفاق کے وکیل جب اس سوال کا جواب نہ دے سکے تو اُنھوں نے کہا کہ اگر وہ بطور رکن پارلیمان اپنی اہلیہ کے کے اثاثوں کی تفصیل نہ بتا سکیں تو وہ نااہل ہو جائیں گے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے وفاق کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا خاوند ایف بی آر سے براہ راست اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ مانگ سکتا ہے جس پر وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایسا ممکن ہے۔
اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خیال سے نہیں بلکہ قانون سے بتائیں مگر وفاق کے وکیل اس بارے میں کوئی قانونی حوالہ نہ دے سکے۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے بدنیتی اور غیر قانونی طریقے سے شواہد اکٹھے کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس پر فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 209کے تحت ہونے والی کارروائی بڑا سنجیدہ معاملہ ہے اور جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کی لندن میں جائیداد کے بارے میں شکایت کنندہ وحید ڈوگر کی شکایت اٹھا کر کونسل کو نہیں بھیج سکتے تھے بلکہ وزیراعظم اور صدر نے وحید ڈوگر کی معلومات کی تصدیق کروائی۔ اس پر بینچ میں موجود جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ اس کارروائی میں صدر کے خلاف بد نیتی کا الزام نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صدر مملکت کے پاس تحقیقات کا اختیار بھی نہیں ہے اور اس کے علاوہ ریفرنس میں کرپشن کا کوئی مواد نہیں ہے۔
جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف ریفرنس کا سارا کام ایک دن میں ہوا تھا اور ایک ہی دن میں ’ان کے خلاف ریفرنس بنا، کونسل بھی بن گئی تھی‘۔ بینچ میں موجود جسٹس مقبول باقر نے سوال اُٹھایا کہ کیا صدر مملکت کے پاس جج کے کنڈکٹ کو جانچنے کا اختیار ہے؟ اس پر وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ اعلی عدلیہ کے دو ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جب ریفرنس بھجوایا گیا تھا تو اس وقت صدر مملکت کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
اُنہوں نے کہا کہ اس جائیداد کی خریداری کے ذرائع معلوم نہ ہونے کی بنا پر یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا گیا جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسی کو نوٹس بھی جاری کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کونسل کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹس کی پابند نہیں ہے۔
بینچ کے سربارہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت کی رائے کی اہمیت ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکل 48 اے کے تحت صدر کی رائے ربڑ سٹمپ کے زمرے میں بھی نہیں آنی چاہیے۔ وفاق کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اعلی عدلیہ کے ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے میں حکومت کے ہاتھ بالکل صاف ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی سے اثاثے چھپانے پر وضاحت مانگی جاتی ہے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ پانامہ اور خواجہ آصف کے مقدمات میں اثاثے چھپانے پر رٹ پٹیشن دائر ہوئی تھی جس پر مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کس قانون کے تحت جج سے اہلیہ کی جائیداد کے بارے میں پوچھ سکتی۔ وفاق کے وکیل نے کہا کہ ’جائیداد جج کی ہے اور ٹرائل پر حکومت ہے اور منفی مہم چاہے ہمارے خلاف ہو یا درخواست گزار کے خلاف وہ قابل مذمت ہے‘۔
وفاق کے وکیل نے کہا کہ وہ بتا نہیں سکتے کہ وہ کس صورتحال سے گزر رہے ہیں جس پر جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ اس طرح اندازہ کریں جج کس عذاب سے گزر رہے ہوں گے۔ بینچ کے سربراہ نے وفاق کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا کونسل جج کی اہلیہ کو بلا کر اس جائیداد کے بارے میں پوچھ سکتی ہے جس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ کونسل ایسا کر سکتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ’جج کی اہلیہ آ کر بتا دیں پیسہ کہاں سے آیا، پیسہ باہر کیسے گیا‘۔
اس موقع پر بینچ میں موجود جسٹس قاضی امین نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’فروغ نسیم صاحب کافی ہو گیا‘۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ تقاضا کریں گے کہ ایسی مثالیں نہ دیں جو توہین آمیز ہوں۔ بینچ کے سربراہ نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت بدنیتی اور شواہد کے غیر قانونی طریقے سے اکھٹے کرنے پر بھی وفاق کے وکیل کے دلائل سنے گی۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت ججوں کی مبینہ جاسوسی کے نکتے پر بھی وفاق کے وکیل کا موقف سننا چاہے گی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایف بی آر کے معاملے پر عدالتی تجویز پر اگر وفاق کے وکیل نے رضا مندی کا اظہار کیا تو درخواست گزار یعنی جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک کی رضامندی بھی لیں گے۔ بینچ کے سربراہ نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس دلائل کے لیے تین گھنٹے باقی رہ گئے ہیں جس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ اگر کل تک دلائل ختم نہ ہوئے تو جمعرات کو بھی ایک گھنٹہ دیا جائے۔ اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ کل اگر عدالت کو رات دیر تک بھی بیٹھنا پڑا تو وہ وفاق کے وکیل کے دلائل سنیں گے۔
سماعت17 جون تک ملتوی کر دی گئی ہے۔