بھارت اپنے فوجیوں کو قابو میں رکھے: چین کا انتباہ

  • بدھ 17 / جون / 2020
  • 10570

بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان لداخ کی متنازع سرحد پر جھڑپ کے بعد کشیدگی بدستور برقرار ہے اور دونوں ملکوں نے سرحد پر اضافی فوجی تعینات کی ہے۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے چین کے ساتھ تنازعہ پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔  وزیرِ اعظم ہاؤس کے ایک ٹوئٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرحدی کشیدگی پر تبادلۂ خیال کے لیے کل جماعتی کانفرنس 19 جون کو  ہوگی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے صدور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

دریں اثنا چین نے کہا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ سرحد پر مزید کشیدگی نہیں چاہتا اس لیے دونوں ملک مذاکرات کے ذریعے صورت حال کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔  چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان زاؤ لی جیان نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ چین کو جھڑپ کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے بقول سرحد پر مجموعی صورتِ حال مستحکم اور قابو میں ہے۔

اقوامِ متحدہ نے چین اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ملکوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی ہے۔  اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات خوش آئند تھے۔ تاہم فریقین کے درمیان سرحدی جھڑپ پر عالمی ادارے کو تشویش ہے۔ امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ امریکہ صورت حال کو بغور دیکھ رہا ہے اور کشیدگی کے پرامن حل کی حمایت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ مشرقی لداخ کے علاقے گلوان ویلی میں ایکچوئل لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) پر پیر اور منگل کی درمیانی شب دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی تھی۔  بعدازاں ​بھارت کی فوج نے تصدیق کی تھی کہ جھڑپ میں اس کے 20 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔  دونوں ملک اس جھڑپ کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دے رہے ہیں جب کہ بعض بھارتی ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ جھڑپ میں چین کا بھی جانی نقصان ہوا ہے۔

چین کی وزارتِ دفاع نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھڑپ میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ تاہم یہ نہیں بتایا کہ  جھڑپ میں چین کا بھی کوئی جانی نقصان ہوا ہے۔ 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد منگل کی شب نئی دہلی میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی ہوا جس میں آرمی چیف منوج مکند نرونے اور چار سینئر وزیروں نے شرکت کی۔

بھارت کی حزبِ اختلاف کی جماعتیں فوجیوں کی ہلاکت پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کیوں خاموش ہیں اور وہ کیا چھپا رہے ہیں۔  انہوں نے بدھ کو اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ بس اب بہت ہو گیا ہے۔ ہمیں بتایا جائے کہ سرحد پر کیا ہوا ہے۔ چین کی ہمارے فوجیوں کو قتل کرنے اور ہماری زمین پر قبضے کی ہمت کیسے ہوئی۔

بھارتی خبر رساں ادارے 'اے این آئی' کے مطابق جھڑپ کے دوران زخمی ہونے والے چار بھارتی اہلکاروں کی حالت تشویش ناک ہے۔​ اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپ میں چین کے بھی 43 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم چین نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق پیر کی شپ ہونے والی اس جھڑپ سے متعلق بھارتی فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان جھڑپ میں آتشی اسلحے کا استعمال نہیں ہوا۔  رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے سینکڑوں فوجی اہلکاروں نے ایک دوسرے پر لاتوں، مکوں، گھونسوں اور لوہے کی سلاخوں کا استعمال کیا اور پتھراؤ بھی کیا۔

بھارتی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جھڑپ ایسے موقع پر ہوئی جب دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے سلسلے میں اجلاس جاری تھا۔  چین نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت متنازع سرحد کو عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ چینی فوجیوں پر حملے کا ذمہ دار ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان زاؤ لی جیان نے منگل کو جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھارتی فوج نے پیر کو دو مرتبہ سرحد کو عبور کیا جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کی سرحدی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ واضح رہے کہ دونوں ملکوں میں 3500 کلو میٹر طویل سرحد کی مستقل حد بندی اب تک نہیں ہوئی ہے۔ سرحدی حد بندی پر دونوں ملکوں کا الگ الگ مؤقف ہے۔ 1962 میں سرحدی تنازع پر دونوں کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے۔

اس دوران بی بی سی رپورٹ کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ان کا ملک امن کا خواہاں ہے لیکن اشتعال انگیزی پر منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ 15 جون کو وادی گلوان میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر ہونے والی جھڑپ پر انڈین وزیراعظم کا باقاعدہ طور پر پہلا بیان ہے۔ جمعرات کو ٹی وی پر تقریر میں نریندر مودی نے کہا کہ ’میں قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے جوانوں کی قربائی رائیگاں نہیں جائے گی۔‘ ہمارے لیے ملک کی سالمیت اور خودمختاری اور اتحاد سب سے اہم ہے۔ انڈیا امن چاہتا ہے لیکن اگر اسے اشتعال دلایا گیا تو وہ ترکی بہ ترکی جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

اس سے قبل چینی فوج کے ترجمان نے انڈیا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو قابو میں رکھے۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ترجمان چینگ شویلی نے کہا کہ انڈیا سختی کے ساتھ اپنے فوجیوں کو روکے اور تنازع کے خاتمے کے لیے بات چیت کے صحیح راستے پر آگے بڑھے۔

چینگ نے کہا: 'انڈین فوجیوں نے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی اور پھر سے ایک بار ایل اے سی کو عبور کیا۔ دانستہ طور پر چینی فوجیوں کو اکسایا اور ان پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں  فریقوں کے مابین تصادم ہوا اور یہی بات اموات کی وجہ بنی۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انڈیا اپنی فوجیوں کو سختی کے ساتھ روکے اور تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔'