وکٹر فرینکل : نازی عقوبت خانے سے زندگی کا راز چرانے والا مسیحا

’عجیب دن ہیں۔ اندر جان لیوا تنہائی ہے اور باہر چہار سو پھیلتا ہوا اندھیرا۔  نہ دل میں اترنے والی چاندنی ہے اور نہ ہی آنکھوں کو چھو جانے والی ستاروں کی جگمگاہٹ۔ دل پہ یاسیت چھائی ہے، روح مضمحل ہے، زندگی  کا کوئی مفہوم نہیں رہا۔میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتی‘۔

نصف شب کا عالم اور فون اٹھانے پہ ایک کرب زدہ بھرائی آواز نے کچھ کلمات ادا کئے۔فون کے دوسری طرف مہربان صورت شخص نے کچھ لمحات کے لئے سوچا، پھر کہنے لگا : ’دیکھیے خاتون، آپ اپنی مرضی کی مالک تو ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ کچھ دیر ہم اس موضوع پہ بات کریں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب ہر طرف اماوس ہو، تب بھی اس تاریک رات میں بھی، کہیں دور کسی دیے کی تھرکتی لو یہ سندیسہ دے دیتی ہے کہ اس عالم میں بھی امید کی شمع روشن کی جا سکتی ہے‘۔

’ڈاکٹر! یہ سب کتابی باتیں ہیں۔ زندگی جب روٹھ جائے تو ہر طرف چھایا اندھیرا زندہ رہنے کی تمنا کو بجھا دیا کرتا ہے‘۔

’خاتون! یقین جانیے، کل صبح سورج طلوع ہو گا، پھول مہکیں گے، پرندوں کی چہچہاہٹ ہو گی۔ گلی میں کھیلتے معصوم بچوں کی شرارتیں آپ کا دل موہ لیں گی۔ یہ رات ماضی کا ایک قصہ پارینہ بن جائے گی‘۔

’ڈاکٹر، یہ رات مجھ پہ بھاری ہے، میں اس سمندر کو پار نہیں کر سکتی‘۔

’ جب مایوسی کے مہیب سائے جسم و روح پہ چھا کے کچھ بھی دیکھنے نہ دیں، مسافت بے دم کرتی ہو، اس وقت بھی زندگی کے دامن میں بہت کچھ ہوا کرتا ہے۔ زاویہ نگاہ بدلنے کی دیر ہوتی ہے۔ زندگی کے خاتمے سے شاید آپ کا درد ختم ہو جائے لیکن ان لوگوں کا کیا ہو گا جو آپ کو دیکھ کے جی اٹھتے ہیں۔آپ کے وہ دوست جنہیں آپ کی ہنسی سے جینے کا حوصلہ ملتا ہے۔ گلی کے نکڑ پہ بیٹھا بے گھر بوڑھا جو آپ کی دلائی ہوئی کافی کے انتظار میں دن کا ہر لمحہ گن گن کے گزارتا ہے۔ سامنے والے گھر میں رہنے والی بچی جو آپ جیسی با اعتماد بننا چاہتی ہے۔ آپ کے گھر آنے والی ملازمہ جس کے کئی مسائل آپ کی مدد کی وجہ سے حل ہوتے ہیں ‘۔

’ڈاکٹر ، تھکن میرے روم روم میں اتر چکی ہے ، مجھے زندگی بوجھ محسوس ہوتی ہے ‘۔

’خاتون، زندگی جینے میں معنی تلاش کیجیے، کوئی مقصد، کوئی خواہش، کوئی امنگ، کوئی خواب اور اس کا تعاقب کیجیے۔ برے ترین وقت میں بھی زندگی ایک دروازہ ضرور کھلا رکھتی ہے۔ آپ وہ راہ ڈھونڈیے جس پہ چل کے آپ اس دروازے میں داخل ہو کے زندگی کا مفہوم پا سکیں۔ سوچئے، ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ آپ وعدہ کیجیے کہ زندگی کو ایک موقع اور دیں گی۔ آج کی رات مجھ سے بات کیجیے اور یہ لمحہ جاں گسل گزر جانے دیجیئے‘۔

اور وہ رات جو زندگی اور موت کے درمیان کچے دھاگے کی طرح بندھی تھی، گزر ہی گئی۔ بہت بعد میں ڈاکٹر نے خاتون سے پوچھا کہ زندگی کے متعلق کس خیال نے انہیں اپنی زندگی ختم کرنے سے روکا؟ جواب حیران کن تھا: ’کسی نے نہیں ‘

’پھر کیسے یہ سرحد پار نہیں ہو سکی؟‘

’ ایک ایسے وقت، جب تنہائی اور بے بسی روح میں پنجے گاڑے بیٹھی ہو، دور دور تک کوئی روشنی نظر نہ آتی ہو۔ جیسے کوئی جاں بلب آخری سانسوں کا بوجھ لئے ہار کے آنکھیں موند لے، جیسے کوئی ڈوبتا ہوا کسی مہربان کے انتظار میں تھک کے اپنے آپ کو لہروں کے سپرد کر دے۔ میں وہ جنگ ہار چکی تھی ڈاکٹر لیکن تم نے نصف شب میں اپنا وقت میرے دامن میں ڈال دیا۔ وقت اور رفاقت ایک ایسی دولت ہے جو کوئی کسی کو نہیں دیا کرتا۔ تمہارے دیے گئے وقت، جس میں تم نے میری نصف شب کی خود کلامی سنی، نے مجھے بچا لیا‘۔

وکٹر فرینکل سے منسوب اس کہانی نے دل کو چھو لیا اور بے اختیار خیال آیا کہ کورونا کی دی گئی جبری قید تنہائی نے نہ جانے کتنے لوگوں کو زندگی اور موت کی سرحد پار کرنے پہ مجبور کر دیا ہے۔ بہت سے روشن چہرے جو اپنا لرزتا ہاتھ تھامے جانے کے طلبگار تھے، جن کی چاہ تھی کہ کوئی ان کی ویران زندگی میں ایک ننھا سا دیا جلا کے اس گھپ اندھیرے کو پاٹ دے جو حرز جاں ہوا جاتا تھا۔ ہمیں ندامت کا احساس گھیرے ہوئے ہے نہ جانے کب، کہاں کسی نے ایک آس بھری نظر سے دیکھ کے ہاتھ پھیلایا ہو اور ہم سمجھ ہی نہ پائے ہوں۔

وکٹر فرینکل کو بیسیوں صدی کا اہم سائیکالوجسٹ مانا جاتا ہے۔ وکٹر نازی کیمپوں سے بچ نکلنے والوں میں شامل تھے۔ اس دور کے تجربات پہ وکٹر نے  ’لوگو تھیراپی‘  کا آغاز کیا جس کی بنیاد ایک ہی خیال پہ رکھی گئی تھی: ’زندگی میں جینے کے معنی ڈھونڈو‘۔

نٹشے اور فرائیڈ کی طاقت کی خواہش اور خوشی تلاش کرنے کی تھیوریز کے مقابلے میں لوگو تھیراپی اس خیال کی پرورش کرتی ہے کہ زندہ رہنے کے لئے طاقت اور خوشی حاصل کرنے پہلے یہ سوچا جائے کہ زندگی اہم ہے اور اسے جینا ہے، ہر قیمت پہ۔ اور اس کے لئے ایک مقصد تراشا جائے۔ ایک ایسا مقصد جو آس کا چراغ ہمہ وقت جلائے رکھے، امید کی آنچ کبھی دھیمی نہ پڑنے دے، خواہشوں کی تتلیاں مرنے نہ پائیں، اور آنکھوں کی جوت بجھنے نہ پائے۔ آنے والے دن، اگلا موڑ اور ان دیکھے پڑاؤ کا تصور رگ و جاں میں پھول کھلاتا ہی رہے۔

 

فرینکل نے لوگو تھیراپی کے تین اصول وضع کیے جو اس نے ہولوکاسٹ کے تجربے سے سیکھے تھے:

پہلا اصول: برے ترین اور ناموافق حالات میں بھی زندگی کا ایک معنی ہوا کرتا ہے۔

دوسرا اصول: زندگی کا یہ معنی تلاش کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پختہ ارادہ کر لیا جائے کہ تلاش کے بغیر ہار نہیں مانی جا سکتی۔

تیسرا اصول: ہر انسان کو اپنی زندگی میں اپنی مرضی کا معنی اور اختیار چننے کی آزادی ہونی چاہئے۔

خاص طور پہ اس وقت جب زندگی کے جبر سے سانس گھٹتا ہوا محسوس ہو۔ جب معاشرے کی ترتیب دی ہوئی آہنی دیواریں آسمان کی ایک جھلک دیکھنے سے روک دیں۔ کوئی روزن دیوار بھی نہ ہو جو ہوا کا بھولا بھٹکا جھونکا اور روشنی کی کچھ جاں فزا کرنیں مردہ ہوتے جسم تک پہنچا سکیں۔ ان اصولوں کو بنیاد بنا کے تین طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ اپنی تخلیقی طاقت سے کام لے کے اپنا افق خود تلاش کیجیے، تجربات کرنے سے مت گھبرائیے اور تکلیف دہ مراحل میں مثبت رہیے۔

فرینکل کہتا ہے: ’ایک مرتبہ ایک عمر رسیدہ شخص میرے پاس آیا جو اپنی بیوی کی دو برس پہلے ہونے والی وفات کی وجہ سے شدید ڈپریشن کا شکار تھا۔ اسے اپنی بیوی سے شدید محبت تھی۔ میں نے اس سے ایک سوال پوچھا:  ’ کیا ہوتا، اگر بیوی کی جگہ تم مر جاتے اور تمہاری بیوی تنہا زندگی گزار رہی ہوتی‘۔

اس کے لئے یہ بہت مشکل ہوتا کیونکہ اسے اکیلے رہنے کی عادت نہیں تھی۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے جواب دیا:’تو کیا یہ تمہاری بیوی کے حق میں بہتر نہیں کہ وہ اس تکلیف سے بچ گئی اور تمہاری زندگی نے اسے کچھ سکون بخش دیا‘۔ اس شخص نے تشکر سے میری طرف دیکھا اور رخصت ہو گیا۔ اسے اپنی زندگی کا معنی سمجھ آ گیا تھا ۔

فرینکل کے وضع کردہ اصول اور آئیڈیالوجی کو نہ تو سیکھنا مشکل ہے اور نہ ہی عمل کرنا۔ صرف اپنی ذات کی بھول بھلیوں سے نکل کر دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے آس پاس کوئی ایسا تو نہیں جس کی زندگی کے رنگ پھیکے پڑ چکے ہوں اور آنکھوں کی جوت مدھم۔

سوچیے نہیں، بس ہاتھ بڑھا دیجیے۔یہ رات گزر ہی جائے گی!

(بشکریہ: ہم سب لاہور)