حکومت نے لاپتا افراد کی بازیابی سمیت کوئی وعدہ پورا نہیں کیا: اختر مینگل
- جمعرات 18 / جون / 2020
- 4400
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل حکومتی اتحاد نے شکوہ کیا ہے کہ حکومت نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی جس کی وجہ سے اس اقدام کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
بدھ کو وائس آف امریکہ سے ٹیلی فون پر گفتگو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن بلوچستان کو اپنا سمجھے اور ان کے مطالبات کا ساتھ دے تو وہ اس سے تعاون کے لیے تیار ہیں۔ سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ اُن کا معاہدہ چند نکات پر مشتمل تھا اور ان پر عمل درآمد کے لیے وہ بارہا حکومت کو یاددہانی کرواتے رہے۔
اختر مینگل نے کہا کہ حکومت کو جب بھی ہمارے ووٹ کی ضرورت پڑی ہم نے اُس کا ساتھ دیا چاہے وہ وزیر اعظم کا انتخاب ہو یا صدارتی انتخابات، یہاں تک کہ بجٹ پر بھی ہم نے حکومت کا ساتھ دیا۔ حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی تھی کہ جن نکات پر اُنہوں نے ہمارے ساتھ اتفاق کیا تھا اس پر عمل درآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا۔ بدقسمی یہ ہے کہ ہم ہی اُنہیں یاد دلاتے تھے پھر کمیٹیاں بنتی تھیں۔ لگتا یہ تھا کہ وہ مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہی نہیں ہیں۔
اختر مینگل کے بقول جب وہ خود اپنی پارٹی کو بھی اس معاملے پر قائل نہ کر سکے تو پارٹی نے اتحاد سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔ سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ اُن کا حکومت کے ساتھ معاہدہ چھ نکات پر مشتمل تھا جن میں لاپتا افراد کا معاملہ سرِ فہرست تھا۔ معدنیات میں بلوچستان کا حصہ بڑھانے، بڑے ڈیم کی تعمیر، آئین کے مطابق بلوچستان کا وسائل میں حصہ اور افغان مہاجرین کی واپسی اس معاہدے کے بنیادی نکات تھے۔
اختر مینگل کے بقول صدارتی انتخابات سے قبل حکومت نے ہمارے ساتھ مزید نو نکاتی معاہدے پر دستخط کیے جن میں صحت، تعلیم، پانی، توانائی کے منصوبے، روزگار، ماہی گیروں کے مسائل کا حل اور وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں بلوچستان کے حصے میں اضافے کی یقین دہانیاں شامل تھیں۔
سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے حکومت کو 5128 لاپتا افراد کی فہرست دی تھی ان میں سے صرف 418 لوگ بازیاب ہوئے۔ لیکن اسی دوران حکومت کو آگاہ کیا کہ 500 کے لگ بھگ مزید لوگ لاپتا ہو گئے۔ لیکن اس معاملے پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
حکومت کی جانب سے رابطے کے سوال پر اختر مینگل نے کہا کہ اگر حکومت نے بلوچستان کے یہ مسائل حل کر دیے تو اُنہیں ہماری حمایت کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ پورا بلوچستان پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو جائے گا۔
172 کی عددی اکثریت کے ایوان میں 178 اراکین کی حمایت رکھنے والی تحریک انصاف کو اگرچہ بظاہر کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہے تاہم بجٹ منظوری سمیت ہر قانون سازی کے لیے حکومتی جماعت کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنا ہو گی۔ پارلیمانی ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں تحریک انصاف کے لیے ایوان کو چلانا اور اپوزیشن کی حمایت کے بغیر قانون سازی کرنا مشکل ہو گا۔