بھارت اور ناروے سمیت چار ملک سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن منتخب
- جمعرات 18 / جون / 2020
- 6540
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھارت، میکسیکو، ناروے اور آئرلینڈ کو آئندہ دو برس کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کر لیا ہے۔ جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی پانچ نشستوں کے لیے سات ارکان کے درمیان مقابلہ تھا۔
اجلاس میں چار ارکان منتخب کر لیے گئے جب کہ افریقہ کی مختص ایک نشست کے لیے جبوتی اور کینیا دونوں میں سے کوئی بھی ملک دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ سلامتی کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ بدھ کو ہونے والی ووٹنگ کے دوران افریقی ملک کینیا نے 113 اور جبوتی نے 78 ووٹ حاصل کیے۔ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد افریقہ کی نشست پر دوبارہ ووٹنگ ہوگی۔
ایشیا پیسیفک ریجن کی مختص نشست کے لیے ووٹنگ میں 192 ممالک نے حصہ لیا جس میں سے بھارت نے 184 ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح کسی بھی ملک کی مخالفت کے بغیر بھارت سلامتی کونسل کا رکن منتخب ہو گیا ہے۔ بھارت آخری بار 2010 میں سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا تھا جب اس نے 190 میں سے 187 ووٹ حاصل کیے تھے۔
بھارت ایسے موقع پر سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا ہے جب چین کے ساتھ اس کی سرحدی کشیدگی عروج پر ہے۔ یاد رہے کہ سلامتی کونسل میں اصل اختیار پانچ مستقل ارکان کے پاس ہے جو کسی بھی معاملے کو ویٹو کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ چین سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔
میکسیکو کی رکنیت کے خلاف بھی کسی بھی رکن نے ووٹ نہیں دیا۔ اس طرح میکسیکو 187 ووٹ حاصل کر کے آئندہ دو سال کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بن گیا ہے۔
سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کا خواہش مند کینیڈا ایک مرتبہ پھر مغربی ملکوں کے لیے مخصوص نشست حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس سے قبل 2010 میں بھی کینیڈا مذکورہ نشست حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس سال سیکیورٹی کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے سرگرم تھے۔ تاہم اس کوشش میں ناکامی پر اندرونِ ملک اُنہیں سیاسی مشکلات کا سامنا ہوگا۔ جسٹن ٹروڈو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کینیدا دنیا کو پر امن بنانے کے لیے اپنا اہم کردار اور تعاون جاری رکھے گا۔
جنرل اسمبلی نے بدھ کو ہونے والے اجلاس کے دوران اپنے صدر کا بھی انتخاب کیا۔ صدارت کی دوڑ میں ترکی کے مندوب ولکن بوزکیر واحد امیدوار تھے جن کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ تاہم آرمینیا، یونان اور قبرص نے ان کی مخالفت کی۔ ان تینوں ملکوں کے ترکی کے ساتھ کشیدگی تعلقات ہیں۔
سلامتی کونسل اقوامِ متحدہ کے چھ کلیدی اداروں میں سب سے اہم ادارہ ہے جس کی بنیادی ذمہ داری بین الاقوامی امن اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، روس، چین اور فرانس سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں جب کہ سلامتی کونسل کے 10 غیر مستقل اراکین ہوتے ہیں جن میں سے پانچ کا انتخاب دو سال کی مدت کے لیے کیا جاتا ہے۔