عمران فاروق قتل کیس میں تین ملزموں کو سزائے عمر قید، الطاف حسین مرکزی کردار تھے

  • جمعرات 18 / جون / 2020
  • 5370

اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے برطانیہ میں قتل ہونے والے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے مقدمہ قتل کا فیصلہ سناتے ہوئے تین مجرموں کو عمر قید کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ اس قتل کا منصوبہ پاکستان اور برطانیہ میں بنا جس کے اصل کردار متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین، محمد انور اور افتخار حسین تھے۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے جمعرات کو 21 مئی کو محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

فیصلے کے مطابق عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار تین ملزمان خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی مجرم قرار پائے ہیں جنہیں عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ عدالت نے ملزمان کو عمران فاروق کے اہل خانہ کو دس، دس لاکھ روپے ہرجانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے الطاف حسین اور ان کے قریبی عزیز افتخار حسین سمیت اشتہاری ملزمان محمد انور اور کاشف کامران کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں۔ انتالیس صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلے میں عمران فاروق قتل کیس کی وجوہات بھی بتائی گئی ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش پاکستان اور برطانیہ میں تیار ہوئی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین، محمد انور اور افتخار حسین اس سازش کے اصل کردار تھے۔

عدالت نے الطاف حسین کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے اور اُن کی جائیداد ضبط کرنے کے بھی احکامات دیے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت اُمید کرتی ہے کہ پاکستانی اور برطانوی حکام مفرور ملزمان کو ڈھونڈ کر جلد عدالت میں پیش کریں گی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق عمران فاروق کے قتل کا حکم الطاف حسین نے دیا۔ ایم کیو ایم لندن کے دو سینئر رہنماؤں محمد انور اور افتخار حسین نے الطاف حسین کا پیغام پاکستان پہنچایا۔ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سے معظم علی نے قتل کے لیے لڑکوں کا انتخاب کیا۔ عمران فاروق کو قتل کرنے کے لیے محسن علی اور کاشف کامران کو چنا گیا۔ دونوں کو برطانیہ لے جا کر قتل کرانے میں بھرپور مدد کی گئی۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ قتل منصوبہ بندی سے کیا گیا تھا تاکہ آئندہ کوئی بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے خلاف آواز نہ اُٹھا سکے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ مجرموں نے پاکستان کا نام پوری دنیا میں بدنام کیا، لہذٰا وہ مثالی سزا کے مستحق ہیں۔

اس کیس میں برطانیہ نے بھی شواہد فراہم کیے اور وڈیو لنک پر مقتول کی اہلیہ سمیت برطانوی گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔ کیس کے برطانوی چیف تفتیشی اہلکار نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ برطانیہ نے پاکستانی حکومت کو جرم ثابت ہونے کے باوجود ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی پر شواہد فراہم کیے اور کیس میں تعاون کیا تھا۔ برطانوی تفتیش کار کے علاوہ 15 برطانوی گواہان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو لندن کے علاقے ایجور کی گرین لین میں ان کے گھر کے باہر قتل کیا گیا تھا۔ برطانوی پولیس نے دسمبر 2012 میں قتل کی تفتیش کے دوران ایم کیو ایم کے بانی کے گھر اور لندن آفس پر بھی چھاپے مارے تھے۔ چھاپے کے دوران وہاں سے پانچ لاکھ سے زائد برطانوی پاؤنڈز  رقم ملنے پر ان کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔

بعدازاں برطانوی پولیس نے تحقیقات کے حوالے سے ویب سائٹ پر کچھ تفصیلات جاری کی تھیں جس کے مطابق مشتبہ ملزم 29 سالہ محسن علی سید فروری سے ستمبر 2010 تک برطانیہ میں مقیم رہا تھا جب کہ 34 سالہ محمد کاشف خان کامران ستمبر 2010 کے اوائل میں برطانیہ پہنچا تھا۔ دونوں افراد شمالی لندن کے علاقے اسٹینمور میں مقیم تھے اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی شام ہی برطانیہ چھوڑ گئے تھے۔

جون 2015 میں پاکستانی حکام نے دو ملزمان محسن علی اور خالد شمیم کی چمن سے گرفتاری ظاہر کی تھی جب کہ ایک اور ملزم معظم علی کو کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کے قریب ایک گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تینوں ملزمان کو گرفتاری کے بعد اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ ایف آئی اے کی تحویل میں تھے۔ ان ملزمان سے تفتیش کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔