افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد گھٹا کر 8600 کر دی گئی

  • جمعہ 19 / جون / 2020
  • 9210

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینتھ میکنزی کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت افغانستان میں امریکی فورسز کی تعداد 8600 کر دی گئی ہے۔

جمعرات کو واشنگٹن ڈی سی میں ایک غیر سرکاری تھنک ٹینک 'ایسپن انسٹی ٹیوٹ' میں ایک مباحثے کے دوران جنرل میکنزی نے کہا کہ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم نے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔ جنرل میکنزی نے یہ عندیہ نہیں دیا  کہ امریکہ افغانستان سے کب اور کس رفتار کے تحت اپنی باقی ماندہ فورسز کو واپس بلائے گا۔

جنرل میکنزی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کے بعد 135 دنوں کے اندر اپنی فورسز کی تعداد کو 8600 کی سطح پر لانا تھا اور وہ اپنی فورسز کی تعداد کو کم کرکے اس سطح پر لے آئے ہیں۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں سال 29 فروری کو دوحہ میں ہونے والے معاہدے میں طے پایا تھا کہ امریکہ رواں سال جولائی کے وسط تک اپنی فورسز کو کم کرکے 8600 کر لے گا۔

امن معاہدے سے قبل افغانستان میں لگ بھگ 12 ہزار امریکی فوجی تعنیات تھے جن کی مرحلہ وار واپسی پر اتفاق ہوا تھا۔ اس معاہدے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ اگر طالبان معاہدے کے شرائط پر پوری طرح کاربند رہتے ہیں تو امریکہ مئی 2021 تک افغانستان سے اپنی فورسز نکال لے گا۔

جنرل میکنزی نے کہا کہ امریکہ طالبان معاہدے کے تحت مئی 2021 تک افغانستان سے امریکی فورسز کا  انخلا مکمل ہونا ہے۔ امریکہ اس عزم پر قائم ہے۔ لیکن اس کا انحصار طالبان کی سنجیدگی پر ہے۔ جنرل میکنزی کے بقول امریکی فورسز کا مکمل انخلا اس وقت ہو گا جب حالات سازگار ہوں گے۔ امریکہ کے لیے یہ اطمینان ضروری ہے کہ اس کے خلاف افغانستان سے حملے نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ طالبان، داعش کے دوست نہیں ہیں۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ القاعدہ کے خلاف طالبان کیا کریں گے۔ ہم عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔

یادر ہے کہ امریکہ، طالبان معاہدے کے تحت طالبان نے یہ ضمانت دی تھی کہ ان کے زیرِ اثر علاقوں میں کسی بھی ایسے شدت پسند گروپ کو منظم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہو۔ جنرل میکنزی نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں اب بھی تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول طالبان کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ تشدد میں کمی کرنے پر تیار ہیں۔

امریکی جنرل کے بیان پر طالبان کی طرف سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن طالبان عہدے دار قبل ازیں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ دوحہ معاہدے پر عمل کررہے ہیں اور یہ معاہدہ طے پانے کے بعد انہوں نے غیرملکی فورسز کے خلاف اپنے حملے روک دیے تھے۔

بعض اطلاعات کے مطابق امریکی انتظامیہ طالبان سے طے شدہ تاریخ سے پہلے اپنی فورسز کے مکمل انخلا کے بارے میں مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ایک آپشن رواں سال نومبر کی بھی ہے جب امریکہ میں صدارتی انتخابات منعقد ہوں گے۔

ادھر مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد 'نیٹو' کے سیکرٹری جنرل ینس ستولتن برگ نے کہا ہے کہ نیٹو، افغانستان میں امن کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور اب ہم بین الافغان مذاکرات شروع ہونے کے بھی بہت قریب ہیں۔ جمعرات کو برسلز میں نیٹو ممالک کے وزرائے دفاع کی ایک کانفرنس کے بعد نیوز کانفرنس کے دوران استولتن برگ نے کہا کہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ افغانستان میں صورتِ حال مشکل ہے۔ اب بھی تشدد اور حملے جاری ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اب بھی افغانستان میں مستقل اور پائیدار امن کے لیے ایک طویل راستہ طے کرنا ہے۔