ویانا کی گلیاں اور باپلو نیرودا کی نظم

ویانا یاد آ گیا۔ایسا تو ہونا ہی تھا۔ وکٹر فرینکل کا ذکر ہوا تھا، ویانا تو یاد آنا ہی تھا۔ خوابوں کا شہر ویانا۔شام دلفریب تھی، یورپ کے موسم گرما کی شام۔  آسٹریا سنٹر کے وسیع و عریض ہال کے سٹیج پہ کچھ لڑکیاں وائلن اور پیانو بجاتی تھیں گویا دل کے تار چھیڑتی تھیں۔ ہال میں ایسا سناٹا کہ سوئی بھی گرے تو آواز آئے، چار ہزار مندوبین کا مجمع، دنیا کے چورانوے ممالک سے چار ہزار استاد۔

پچھلے دو دن پراگ کی گلیوں میں سرسراتی تاریخ کی ہمراہی میں گزرے تھے اور ان کا نشہ اب تک طاری تھا۔ پراگ سے ہم نے علی الصبح ویانا کے لئے ٹرین لی تھی تاکہ وقت پہ پہنچ کے کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں شریک ہو سکیں۔ تین سو تیس کلومیٹر کا یہ فاصلہ انتہائی آرام دہ ٹرین میں پڑھتے، کافی پیتے اور پراگ کی خوبصورت یادوں کو سنبھالتے چار گھنٹے میں گزر گیا تھا۔

ویانا سٹیشن سے جونہی باہر نکلے، ہماری میزبان کا پیغام آ پہنچا۔ ائیر بی این بی کی میزبانی نے سیاحت کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ گھر جیسا آرام تو ملتا ہی ہے، مقامی لوگوں سے ملنے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ ہماری میزبان ہمیں بس کا راستہ سمجھانا چاہ رہی تھیں لیکن ہم نے اوبر پہ بھروسہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ترک نژاد ڈرائیور نے ہمیں پندرہ منٹ میں نہ صرف منزل پہ لا کھڑا کیا بلکہ ایشیائی جوش و خروش سے ہمارا سامان اس قدیم عمارت کے اندر بھی رکھ آیا۔ پاک ترک دوستی تھی یا شاید ہمیں عمر رسیدہ سمجھ کے ترس کھایا تھا۔

ہماری میزبان ہمیں لینے نیچے والی منزل پہ آ چکی تھیں۔ جواں سال خوبصورت خاتون، بہت پرجوش کہ ان کی معلومات پاکستانی عورت کے متعلق وہی تھیں جو دنیا کے زیادہ تر لوگوں کی ہیں، غار میں قید عورت (ویسے غار کا لفظ گھر سے بدلا جا سکتا ہے)۔ ہم نے اگلے تین دن کے قیام میں اسے یہ یقین دلانے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں کہ اپنی مرضی سے نہ جینے والی برقع پوش عورتوں کی تصاویر اور ریپ ہوتی لڑکیوں کی خبریں جو اس تک پہنچی ہیں، ہمیں اس سے انکار نہیں۔ لیکن وہاں پہ کچھ سرپھری عورتوں کا وجود بھی ہے جو عورت کو بنیادی انسانی حقوق دینے کا گیت گانے سے باز نہیں رہتیں۔

 گھر کا ایک حصہ ہمارے لئے مختص تھا۔ انتہائی آرام دہ، چائے کافی کا بندوبست، اپنے لئے کچھ بھی پکانے کی آزادی، بھلے آدھی رات ہی کیوں نہ ہو۔ لیجیے ہمارے تو عیش ہو گئے۔ بیٹی کے لئے دل سے دعائیں نکلیں جس نے ہوٹل کا بند بست رد کرتے ہوئے ہمارے لئے اس رہائش  کا انتظام کیا تھا۔

 

ویانا، کلاسیکی موسیقی کا مرکز مانا جاتا ہے۔ موزارٹ، شوبرٹ اور سٹراس کے شہر میں محفل کا آغاز موسیقی کی مدھر دھنوں سے نہ ہو، یہ کیسے ممکن تھا۔ روح میں اتر جانے والی دھنیں اور بجانے والی خوبصورت لڑکیاں جن کی تھرکتی ہوئی انگلیوں سے نکلنے والے سر سب کو مسحور کرتے تھے۔

ایسی کانفرنسیں ایک میلے کا سا سماں پیش کرتی ہیں۔ پرانے دوستوں اور اساتذہ سے ملاقات، نئے مندوبین کو دوست بنانے کا موقع، گپ شپ، ہلا گلا، قہقہے، نت نئی ریسرچ سے آگہی، ورکشاپس ، اشیائے خوردونوش کی فراوانی۔ ایسی جگہوں پہ ایک خلش ہمیشہ تنگ کرتی ہے۔ پاکستان سے بہت کم اور انڈیا سے بہت زیادہ لوگوں کی شرکت۔ آبادی کا فرق بھی اس تناسب کو پاٹنے میں ناکام رہتا ہے، شاید تعلیم ہماری ترجیح ہے ہی نہیں۔

تھائی لینڈ سے 464 مندوبین نے اسے پہلے نمبر پہ ٹھہرا دیا تھا، انگلینڈ اور امریکہ 459 اور 328 کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پہ تھے۔ پروفیسر رونالڈ ہارڈن پلینری سیشن میں علم کے موتی رولتے تھے:

’ کسی بھی علم کو جاننے یا سیکھنے کا علم تب شروع ہوتا ہے جب ہم نامعلوم کی طرف قدم بڑھائیں ‘

’سیکھنے والے کا ذوق و شوق، ایقان اور نتیجے میں بننے والے مفاہیم ہی اس کی پہچان ٹھہرتے ہیں‘

’تحریک پیدا نہ کرنے والا علم، کھوکھلا ہے‘

’علم سکھانے کا بہترین طریقہ وہ ہے جو سقراط نے بتایا، سوال کا جواب ڈھونڈیے‘

’نالج اور لرننگ کے درمیان اگر تعلق نہ ہو تو سب بیکار ہے‘

’کسی بھی ڈاکٹر کی کام کرنے کی اہلیت اس کے استاد کی دی گئی ٹریننگ کی آئینہ دار ہے‘

عشائیے کی خاص بات یہ ٹھہری کہ ساؤتھ امریکہ کے ملک چلی سے تعلق رکھنے والی سائیکالوجسٹ ڈاکٹر ماریانہ اور ان کے دو ساتھیوں سے ملاقات ہو گئی۔ گفتگو استاد، شاگرد سے ہوتی ہوئی ادب تک آ پہنچی۔ جونہی ہم نے پابلو نرودا کا نام لیا وہ تینوں اچھل پڑے۔

’آپ کیسے جانتی ہیں پابلو نرودا کو‘

ان کو یہ سمجھانا مشکل نہیں تھا کہ ادب حدود و قیود سے ماورا ہوا کرتا ہے لیکن ساتھ میں تاسف نے دل کو آن گھیرا۔ کیا ان کو فیض کے بارے میں ویسے ہی علم ہے جیسے ہم پابلو نرودا کو جانتے ہیں۔ کاش کبھی ہمارے سفارت کاروں نے اپنے ملک کے سرمائے کو دنیا سے روشناس کرایا ہوتا۔ لیکن کیا وہ خود بھی جانتے ہیں کہ فیض کون تھے؟ کتاب سے دوری نے ہمیں دنیا سے بہت پیچھے لا کھڑا کیا ہے۔

چلی کے دوستوں کے نمبر اور ای میل ایڈریس یادوں کے ہولڈال میں رکھے جا چکے تھے۔ رات بھیگ رہی تھی اور ہم واپس لوٹ رہے تھے۔ہم نے ڈاکٹر ماریانا کو پابلو کی ایک نظم سنائی تھی جو انہوں نے ہسپانوی میں سن رکھی تھی لیکن ہم نے اردو میں سنائی۔ اردو سے ناواقف ہونے کے باوجود الفاظ کی مہک اور تاثیر ان کی آنکھیں نم کرتی تھی۔ آپ بھی سن لیجیے:

آپ آہستہ آہستہ موت کی طرف قدم بڑھانا شروع کر دیتے ہیں

اگر آپ سفر نہیں کرتے

اگر آپ کتابیں نہیں پڑھتے

اگر آپ زندگی کی جاں فزا چہکار نہیں سنتے

اگر آپ اپنے آپ کو نہیں پہچانتے

آپ آہستہ آہستہ مر رہے ہوتے ہیں

جب آپ اپنی عزت نفس کچل ڈالیں

جب آپ کسی کا بڑھایا ہوا ہاتھ جھٹک دیں

اگر آپ اپنی ذات کے غلام بن جائیں

ہر روز قدیم سنگلاخ راستوں پہ چلیں

آپ آہستہ آہستہ مر رہے ہوتے ہیں

جب آپ رنگوں کی برسات میں نہ بھیگیں

جب آپ اجنبی راستوں پہ چلتے اجنبی لوگوں سے بات نہ کریں

جب آپ جذبات کے تلاطم سے رخ موڑ لیں

جو آپ کی آنکھیں بھگو دے

اور سانسیں بے ترتیب

آپ آہستہ آہستہ مر رہے ہوتے ہیں

اگر رگ وپے میں سرایت کرتی ناخوشی

کے باوجود

آپ زندگی کے کسی اور راستے کو کھوج نہ سکیں

اپنے خوابوں کی تلاش میں ان کا پیچھا نہ کریں

اگر آپ اپنے آپ کو زندگی میں ایک بار ایک موقع نہ دیں

کہیں دور نکل جانے کو…..

آپ آہستہ آہستہ مر رہے ہوتے ہیں!

(بشکریہ: ہم سب لاہور)