عادتوں کی ورزش: سالانہ بجٹ
- تحریر
- ہفتہ 20 / جون / 2020
- 4300
حکومتی گورننس میں کچھ معمولات کا کیلنڈر لگا بندھا سا ہوتا ہے جن میں ایک معمول سالانہ بجٹ کی پیشکاری ہے۔ بجٹ حکومت کا مالیاتی میزانیہ ہوتا ہے۔ گزشتہ سال جو سوچ کر بجٹ کیا تھا، اس کے ساتھ کیا بیتی ؟ نئے سال میں اخراجات اور محاصل کا متوقع گوشوارہ کیا ہے؟
پی ٹی آئی کی حکومت کا پچھلا بجٹ بہت حد تک خساروں کی مجبوریوں سے عبارت تھا۔ اس پر مستزاد آئی ایم ایف کا نیا قرض پروگرام جس کی کڑی شرائط نے بجٹ کو حصار میں لیا ہوا تھا۔ حالات معمول پر رہتے تو اس سال کا بجٹ بھی حکومت کے لئے بہت مشکل ثابت ہوتا مگر کرنا خدا کا یوں ہوا کہ عین انہی دنوں کرونا نے نزول کیا، اور وہ بھی ایسا کہ سب کچھ الٹ پلٹ دیا۔
مشیر خزانہ نے نئے سال کے بجٹ سے قبل حسب معمول مالی سال 20 20 کا اکنامک سروے پیش کیا تو اس پر کرونا کا سایہ نمایا ں تھا۔ اکنامک سروے 2020 کے مطابق معیشت میں مجموعی طور پر 0.38% کمی ہوئی۔ اس کمی کی مزید تفصیل کے مطابق زراعت نے کچھ بھرم رکھ لیا جس کی سالانہ شرح نمو 2.67% رہی جبکہ صنعت اور سروسز میں بالترتیب شرح نمو منفی 2.64% اور منفی 0.59% رہی۔ گزشتہ سال کے یہ تخمینے جولائی سے اپریل تک کے دس ماہ پر محیط ہیں۔ پاکستان میں کرونا کا پہلا کیس فروری کے آخری ہفتے میں رپورٹ ہوا۔ یورپ اور امریکہ کی ایکسپورٹ منڈیوں میں بھی اس کا اثر صحیح معنوں میں مارچ سے عروج پر پہنچا۔ لہذٰا پاکستان کی معیشت کو مالی سال 2020 کے پہلے نو ماہ معمول کے مطابق ملے مگر ان نو مہینوں کی معاشی کارکردگی کسی طور پر بھی قابل قدر نہیں رہی۔
کرونا کا نزول اچانک ہوا، اس نے معیشت کو عالمی اور مقامی سطح پر یکدم جکڑ لیا، ہمارے ہاں البتہ اس کا اثر وسط مارچ سے شروع ہوا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت کی معاشی کارکردگی پہلے نو ماہ میں ٹارگٹس سے کہیں کم رہی۔ بعض اوقات ابتلا بھی سہارا بن جاتی ہے،شاید اسی لئے مشیر خزانہ نے گزشتہ سال کی کارکردگی کی وضاحت کرنے کی بجائے روئے سخن مسقبل قریب میں معیشت پر پڑنے والے کرونا اثرات پر ہی مرکوز رکھا۔
حکومت کا ریونیو ہدف گزشتہ سال ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا جسے چار بار نظرِ ثانی کرکے پانچ ہزار ارب روپے سے کچھ کم کردیا گیا لیکن آخری سہ ماہی کرونا کی نذر ہونے سے وصولی چار ہزار ارب روپے سے بھی کم متوقع ہے۔ کرونا کا زور کب ٹوٹے گا، کسی کو بھی نہیں معلوم لیکن حکومت کا خیال ہے کہ جولائی اگست میں یہ اپنے عروج سے گزر کر کمزور پڑنا شروع ہوجائے گا۔ کب کتنا کمزور ہو گا؟ کب معیشت کا پہیہ معمول کے مطابق چلنا شروع ہو گا؟ یہ سوالات بے یقینی کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔ نئے سال کی پہلی سہ ماہی اور شاید دوسری سہ ماہی کا بیشتر حصہ کرونا کے وجہ سے اقتصادی سست روی کی نذر ہو جائے گا۔ ایسے میں نئے مالی سال میں ٹیکس ریونیو میں ایک ہزار ارب روپے کا اضافہ کیسے ممکن ہوگا؟ اور وہ بھی اس دعوے کی موجودگی میں کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ بجلی کے نرخ بھی اکتوبر تک نہ بڑھانے کی نوید ہے مگر اس کے بعد کیا ہو گا، اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔
پٹرولیم مصنوعات پر محصول کی مدمیں گزشتہ سال کی نسبت دو سو ارب روپے زائد بجٹ کئے ہیں۔ ایف بی آر کو مزید اختیارات دئے گئے ہیں، گزشتہ سال سے جاری ٹیکس نیٹ بڑھانے کے اقدامات کا تسلسل اور ریونیو شگاف چغلی کھا رہا ہے کہ کرونا کا بھاری پتھر ایک دفعہ ہٹ جائے تو ریونیو ٹارگٹس کی اصل کتھا پھر شروع ہوگی۔ اسی لئے اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ چند ماہ بعد حکومت منی بجٹ لانے پر مجبور ہوگی۔ بے یقینی کے اس موسم میں حکومت کو بجٹ پیش کرنے کی سالانہ مشق تو کرنا تھی، سو وہ کر دی ہے۔ بقول جون ایلیا:
اب فقط عادتوں کی ورزش ہے
روح شامل نہیں شکایت میں
ہمارامالیاتی کمال گزشتہ تین چار دِہائیوں سے یہی ہے کہ خساروں کے بڑھتے ہوئے شگاف روکنے میں نیم دلانہ کوششوں کے ساتھ ساتھ قرضوں اور ریونیوز ٹارگٹس کے لئے نئے نئے جادوئی کرتب کئے جائیں۔ ان کرتبوں کے نتیجے میں ماضی قریب کی تمام حکومتوں کا وقت تو برا بھلا گزر تا رہا لیکن معیشت پر قرضو ں کا بوجھ لادتے لادتے اب معیشت کی کمر دوہری ہورہی ہے۔ مدتوں سے اب بجٹ کا سب سے بڑا خرچ قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق سال 2020 میں مارک اپ اخراجات 2,709 ارب روپے رہے جبکہ سال 2021 میں یہ اخراجات 2,946 ارب روپے مخصوص کئے گئے ہیں۔ دفاع کے لئے تقریباٌ تیرہ سو ارب روپے اور سالانہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کے لئے ساڑھے چھ سو ارب روپے رکھے گئے۔
بجٹ خسارے کے اس نحوستی چکر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے مالیاتی ماہرین کے مطابق زراعت و صنعت میں کم از کم پانچ سے سات فیصد سالانہ اضافے، برآمدات میں کم از کم دس فی صد سے زائد سالانہ نمو اور ہر معاشی میدان میں ویلیو ایڈیشن کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے۔ پبلک سیکٹر اداروں کے ایک ہزار روپے سے زائد کے سالانہ نقصانات کو قالین تلے دبانے کی بجائے ان سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں کی صورت میں اس قوم پر کرپشن اور بد انتظامی کی صورت میں مہنگی قیمتوں اور سرکلر ڈیٹ کا جو جن مسلط ہے اس سے چھٹکارے کی ضرورت ہے۔ گورننس میں شفافیت اور بہتری کی حاجت ہے، حکومتی ڈھانچے کا سائز اور بے محابا غیرپیداواری اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر یہ سب کون کرے؟ کیسے کرے؟
ملک کے پورے اقتصادی نظام میں وفاقی اور صوبائی سطح پر طفیلی سیاست یعنی کا چلن رائج ہے۔ گزشتہ کل اور آج کی سیاسی و غیر سیاسی اشرافیہ اپنے طور طریقے بدلنے پر آمادہ نہیں، کرپشن اور اقربا پروری کی داستانیں ہیں کہ ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ اصلاحات کا عمل دعوؤں اور کمیٹیوں تک محدود ہے۔ دنیا کے بدلتے ہوئے صنعتی اور تجارتی رجحانات کے مطابق معیشت کی ترتیب ِ نو اور تشکیل نو کی ضرورت ہے مگر ہم ہیں کہ اپنے فرسودہ انداز بدلنے کو تیار نہیں۔ ایسے میں بجٹ فقط سالانہ عادتوں کی ورزش ہے، اس میں مستقل نحوستی چکر سے چھٹکارے کی روح شامل ہو گی تو بات بنے گی ورنہ بگڑی ہوئی بات سنورتی نظر نہیں آتی۔