کرونا وبا کی وجہ سے مہاجرین کی صورتِ حال بدتر ہو رہی ہے: اقوام متحدہ
- اتوار 21 / جون / 2020
- 6160
مہاجرین کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے حکام نے متنبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا سے دنیا بھر میں مہاجرین کے مسائل بدتر ہوں گے۔
لاکھوں مہاجرین اور بے گھر افراد کو صحت کی بنیادی سہولتوں کا فقدان پوری دنیا کے لیے ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی مہاجرین کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس وقت ماضی کی نسبت زیادہ لوگ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ادارے کے اندازے کے مطابق انہتر اعشاریہ پانچ ملین لوگ تنازعات اور پر تشدد حالات کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے تقریباً تیس ملین مہاجرین ایسے ملکوں میں پناہ گزیں ہیں، جہاں معاشی حالات پہلے ہی دگرگوں ہیں، اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی کمی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ جن حالات میں مہاجرین رہ رہے ہیں، ان کی وجہ سے ان کی صحت خطرات میں گھری ہوئی ہے اور یہ کورونا وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ چھت، پانی، خوراک اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ان مہاجر کیمپوں میں کورونا کی وبا پھیلنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں، جس پر عالمی ادارہ صحت کو سخت تشویش ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین، فلیپو گرانڈی کہتے ہیں کہ بہت سے مہاجرین کیمپوں میں نہیں رہتے اور جن مقامی آبادیوں میں یہ مقیم ہیں وہ پہلے ہی کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہیں۔ لاطینی امریکہ کے سترہ اٹھارہ ملکوں میں وینزویلا کے چالیس لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ اسی طرح افریقہ میں مہاجرین کی بہت بڑی تعداد ہے۔ پاکستان اور ایران میں لاکھوں مہاجرین ہیں۔ ان سب جگہوں پر جو حالات ہیں، ان کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی بھی وقت کورونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔
گرانڈی نے کہا ہے کہ انہیں اس بارے میں بھی تشویش ہے کہ کورونا وبا نے مپاجرین کا روزگار بھی چھین لیا ہے۔ لاک ڈاؤن اور دوسری احتیاطی پابندیوں کی وجہ سے ان کی آمدنی کے ذرائع ختم ہو گئے ہیں اور یہ اس قابل نہیں کہ اپنا علاج معالجہ کر وا سکیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے مزید کہا کہ کورونا وائرس یہ نہیں دیکھتا کہ کون مقامی ہے اور مہاجر یا کون زبردستی بے گھر ہوا ہے۔ یہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔