کورونا وائرس: پاکستان میں اموات ساڑھے تین ہزار، مصدقہ کیسز ایک لاکھ 79 ہزار تک پہنچ گئے

  • اتوار 21 / جون / 2020
  • 5180

پاکستان میں پابندیوں اور سمارٹ لاک ڈاؤن کے باوجود کوروناوائرس سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس وقت ملک میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 79ہزار ہوچکی ہے اور مرنے والوں کی تعداد 3542 ہے۔

دنیا میں کورونا سے متاثرین کی تعداد اٹھاسی لاکھ اور مرنے والوں کی تعداد چار لاکھ 64 ہزار ہوچکی ہے۔  دنیا میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ میں کیسز کی تعداد 23 لاکھ 30 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ امریکہ میں حکام نے ایک لاکھ 20 ہزار کے قریب اموات کی تصدیق کی ہے۔ امریکہ کا دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی پیر سے کورونا وائرس کی طویل بندشوں کے بعد کاروبار حیات کو کھولنے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوگا۔

اسرائیل میں وبا سے کم تعداد میں ہلاکتوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ سعودی عرب میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے گزشتہ تین ماہ سے جاری لاک ڈاؤن ختم کیا جا رہا ہے۔ اتوار سے اقتصادی سرگرمیاں شروع ہو رہی ہیں۔

برطانیہ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈیکسا میتھا زون نامی دوا کے ذریعے کورونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی بچائی جاسکتی ہے تاہم کچھ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا استعمال دو دھاری تلوار ہے۔ تحقیق کے مطابق ڈیکسا میتھا زون کورونا وائرس میں مبتلا ایسے مریضوں کو ہلاک ہونے سے بچا سکتی ہے جو کورونا وائرس سے شدید متاثر ہونے کی وجہ سے سانس لینے میں دِقت محسوس کر رہے ہوں یا اس مہلک وبا سے متاثرہ مریض وینٹی لیٹر کے سہارے زندہ ہوں۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کے شکار اگر 25 مریض آکسیجن پر ہوں تو ان میں ایک مریض جب کہ وینٹی لیٹر پر موجود 8 مریضوں میں سے ایک مریض کی جان ڈیکسا میتھا زون کے ذریعے بچائی جا سکتی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا برطانوی تحقیق پر ایک ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ پاکستان میں ماہرین کی کمیٹی کورونا وائرس سے شدید متاثر ہونے والے مریضوں کے لیے ڈیکسا میتھا زون کے استعمال پر غور کرے گی۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے ڈیکسا میتھازون کے استعمال کے بارے میں خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیکسا میتھازون کو کورونا وائرس سے شدید متاثرہ مریضوں خاص طور پر جو وینٹی لیٹر پر ہیں، ان کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ کم متاثر مریضوں کےلیے یہ دوا خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔