وزیرستان میں شدت پسندوں سے جھڑپ: پاک فوج کے کیپٹن سمیت دو فوجی شہید
- اتوار 21 / جون / 2020
- 4600
پاکستان میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ضلعوں کی سرحد پر غوریم کے قصبے سے پانچ کلو میٹر جنوب مشرق میں سکیورٹی فورسز کے ایک گشتی دستے پر شدت پسندوں کی فائرنگ سے پاک فوج کے ایک کپتان سمیت دو فوجی شہید کردیے۔ دو جوان زخمی ہو گئے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ میں ایک تیرہ سالہ بچی جاں بحق جبکہ اس کی والدہ اور بھائی زخمی ہو گئے ہیں۔ ان دونوں واقعات کی تفصیلات پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اتوار کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہیں۔
آئی ایس پی آر کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان ضلعوں کی سرحد پر شدت پسندوں کے حملے کے جواب میں کی جانے والی کارروائی میں ایک شدت پسند بھی ہلاک ہوا۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد علاقے میں تلاشی کے دوران شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے کا علم ہوا جسے تباہ کر دیا گیا۔ اس تصادم میں شہید ہونے والے کپتان کی شناخت صبیح اور سپاہی کی شناخت نوید کے نام سے کر دی گئی ہے۔
لائن آف کنٹرول پر پیش آنے والے واقعے کے بارے میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ انڈین فوج نے گزشتہ رات حاجی پیر اور بدوری سیکٹروں میں بلا اشتعمال فائرنگ شروع کر دی اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ بدوری سیکٹر کے مینسر گاؤں میں انڈین فوج کی بے دریغ فائرنگ سے ایک تیرہ سالہ بچی اقرا شبیر ہلاک اور ان کی والدہ اور بارہ برس کا بھائی زخمی ہو گئے۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان فوج نے انڈین فوج کی بلااشتعال فائرنگ کا مؤثر جواب دیا۔ واضح رہے کہ لائن آف کنٹرول پر اس سال جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔