پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 90 ہزار سے بڑھ گئی

  • بدھ 24 / جون / 2020
  • 5570

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 90 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ جاں بحق لوگوں کی تعداد 3 ہزار 792 ہوگئی ہے۔ دنیا میں کورونا متاثرین 93 لاکھ اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار لاکھ 78ہزار ہوگئی ہے۔

ملک کورونا وائرس کے مزید 2940 نئے کیسز اور 62 اموات کا اضافہ ہوا۔ صحتیاب افراد کی تعداد بھی بڑھ گئی۔ خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ تبدیل ہورہی ہے اور کیسز اور اموات کی تعداد میں اضافہ تشویشناک صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔

حکومت نے مختلف علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی اپنائی ہے، جس میں وائرس سے متاثرہ علاقوں کو سیل کرکے وہاں نقل و حرکت کو محدود رکھا گیا ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا تھا جس کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ کیسز میں اضافہ ہوا اور اب یومیہ ہزاروں کی تعداد میں کیسز رپورٹ ہورہے ہیں جبکہ اموات کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔

پاکستان میں حکام کے مطابق 3337 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ اس دوران ایمیریٹس ایئر لائنز نے پاکستان کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ کیوں ائیرلائن سے سفر کرنے والے مسافروں مین کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ خیبر پختونخوا کے 244 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے بعد پانچ لاکھ سے زائد افراد گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

آسٹریلیا میں ایک ماہ بعد کرونا سے پہلی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔ بھارت میں پہلی مرتبہ ایک روز میں 15 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔  چین کے دارالحکومت بیجنگ میں نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے۔ گزشتہ 10 روز میں 30 لاکھ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

لاطینی امریکہ ایک لاکھ سے زائد ہلاکتوں کے بعد کورونا وائرس کا نیا مرکز بن گیا ہے۔ اس خطے میں برازیل 14 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز اور 52 ہزار 645 اموات کے ساتھ سرِ فہرست ہے۔  برازیل دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز اور اموات کے حوالے سے امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

برازیل میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 39 ہزار 436 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور 1300 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ برازیل میں کورونا کا بحران اس سطح پر پہنچ گیا ہے کہ وفاقی عدالت نے صدر جائر بولسونیرو کو حکم دیا ہے کہ وہ عوامی تقریبات میں ماسک پہنیں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں 400 ڈالر روزانہ جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ جج کا کہنا تھا کہ صدر بولسونیرو کورونا وائرس سے متعلق مقامی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

صدر بولسونیرو اب تک سیاسی ریلیوں کے دوران ماسک پہننے سے انکار کرتے آئے ہیں۔ بولسونیرو کورونا کو محض ایک عام سا 'فلو' قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ اس وائرس سے خوفزدہ ہیں وہ پاگل پن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔