بھارت، پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے: دفتر خارجہ
- بدھ 24 / جون / 2020
- 4980
دفترخارجہ نے کہا ہے بھارت نے بے گناہ لوگوں کو مارنے کے لیے دہشت گرد گروپوں کو تربیت، مالی اور مادی امداد فراہم کی ہے۔ اس طرح پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دی ہے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی معاونت میں ملوث چار بھارتی شہریوں کو دہشت گرد قرار دینے کی پاکستانی تجویز کو بھارت نے مسترد کردیا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان نے 2019 میں درخواست کی تھی کہ اقوام متحدہ کی 1267 پابندیوں کے تحت چار بھارتی شہریوں وینو مادھو ڈونگرا، اجوئے مستری، گوبندہ پٹنائیک اور انگارا اپاجی کے نام شامل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ افراد پاکستان میں دہشت گردی کے لیے تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو مالی تکنیکی اور سامان کی معاونت فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ ہمیں افسوس ہے کہ پاکستان کی جانب سے وینو مادھو کو دہشت گرد قرار دینے کی تجویز پر اعتراض کیا گیا۔
عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ بقیہ تینوں بھارتی شہریوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی شفاف طریقے سے پابندی عائد کرنے کی تجویز کو زیر غور لائے گی۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پڑوسی ملک میں طویل عرصے سے جاری تنازع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت دہشت گرد گروپوں کو تربیت دے رہا ہے تاکہ وہ پاکستان میں معصوم شہریوں کا قتل اور دہشت گردی کو بڑھاوا دے سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ بھارتی شہری استثنیٰ کے ساتھ بھارت میں رہ رہے ہیں جو پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ بھارت ریاستی سطح پر دہشت گردوں کی معاونت کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد اور لائن آف کنٹرول کے بعد اب سفارتی تعلقات بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے دہلی میں ہائی کمیشن سے عملے کی 50 فیصد کمی کرنے کے لیے لکھے گئے خط اور بے بنیاد الزامات کو مسترد کردیا تھا۔ دفترخارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان، نئی دہلی میں سفارتی عملے کی جانب سے سفارتی تعلقات میں ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اس نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اقدار کے اندر رہتے ہوئے کام کیا ہے۔