میرے بیان میں کوئی تضاد نہیں، شروع سے ایک ہی مؤقف ہے: عمران خان
- جمعرات 25 / جون / 2020
- 4910
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے 26 کیسز سامنے آنے پر لاک ڈاؤن کیا گیا تھا اس وقت وائرس سے کوئی موت نہیں ہوئی تھی۔ تاہم میں نے شروع سے لاک ڈاؤن کی مخالفت کی تھی۔
قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 31 جنوری سے ٹڈی دل کے حملوں کو ایمرجنسی ڈیکلیئر کیا تھا اور نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) کو ٹڈی دل پر قابو پانے سے متعلق اخراجات کے لیے مکمل اختیارات دیے تھے۔ ٹڈی دل پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے برطانیہ سے آنے والی سپلائیز رک گئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کئی چیزیں ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ ٹڈی کے افریقہ سے غیر معمولی جھنڈ آرہے ہیں جبکہ ایران اور بھارت سے بھی ٹڈی دل کا خطرہ ہے۔ ہم اس پر قابو پانے کی کوششیں کررہے ہیں۔
کورونا وائرس سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس کے 26 کیسز سامنے آنے پر لاک ڈاؤن کیا گیا تھا اس وقت وائرس سے کوئی موت نہیں ہوئی تھی۔ چین کے شہر ووہان اور یورپ کے منظرنامے کو دیکھتے ہوئے صوبوں نے لاک ڈاؤن شروع کیا اور اقدامات اٹھائے اس وقت کوئی مرکزی منصوبہ بندی نہیں تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ مجھے اور میری ٹیم کو پہلے روز سے خدشہ تھا کہ اگر ہم ووہان اور مغربی ممالک کے نقش قدم پر چلے تو مشکل ہوجائے گی۔ پاکستان اور بھارت کی صورتحال ان سے بہت مختلف تھی۔ نیوزی لینڈ میں سماجی فاصلے کی مثال دی جاتی ہے وہاں تو ویسے ہی سماجی فاصلہ ہے، ان کی آبادی پھیلی ہوئی ہے جبکہ پاکستان میں گنجان آبادی، کچی بستیاں، غریب افراد ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ میں نے پہلے روز ہی اس پر بات کی تھی کہ ہمیں دہرے مسائل درپیش ہیں ایک طرف ہمیں لوگوں کو کورونا سے جبکہ دوسری طرف انہیں بھوک سے بچانا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ مزید سخت لاک ڈاؤن کرنا چاہیے تھا جس پر شروع میں ہم نے بہت تنقید بھی برداشت کی۔ مجھ پر بہت دباؤ تھا اور کابینہ میں موجود افراد سمجھتے تھے کہ ہم نے ویسا لاک ڈاؤن نہیں کیا جیسا ہونا چاہیے تھا، ویسا لاک ڈاؤن بھارت نے کیا۔
انہوں نے کہا کہ اب ہمارے پاس اپنا ڈیٹا آچکا ہے پہلے ہر ملک اپنے طریقے سے اس وبا کو دیکھ رہا تھا، کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ برطانیہ نے پہلے لاک ڈاؤن نہیں کیا جب کیسز بڑھے تو کیا۔ برازیل نے لاک ڈاؤن نہیں کیا اور آج وہاں 50 ہزار لوگ مرچکے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بار بار کہا جارہا ہے کہ کنفیوژن تھی میں کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے دن اگر کسی ملک کی حکومت میں کنفیوژن نہیں تھی تو وہ ہماری حکومت تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے 13 مارچ کو لاک ڈاؤن کیا تھا۔ 13 مارچ سے لے کر آج تک میرا کوئی بیان بتادیں جس میں تضاد ہو، میں چیلنج کرتا ہوں، جو میں 13مارچ سے کہہ رہا تھا وہی کہہ رہا ہوں۔ اگر ملک میں سنگاپور جتنی آبادی ہے، 50 ہزار پر کیپٹا انکم ہے، قدرتی سماجی فاصلہ موجود ہے تو وائرس کو روکنے کے لیے سب سے بہترین چیز یہ ہے کرفیو لگادیا جائے۔
قبل ازیں احسن اقبال نے کہا تھا کہ کسی بھی ریاست اور کسی بھی حکومت کی کامیابی کا دارومدار مضبوط سیاسی ڈھانچے، بہترین معیشت اور مضبوط دفاع پر ہے۔ اکیلے دفاع کے پہیئے پر کسی ریاست کے وجود کو برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر دفاع کا پہیہ ٹریکٹر کی طرح بڑا جبکہ تعلیم، صحت، انسانی تحفظ کا پہیہ چنگچی کی طرح چھوٹا رہے گا تو ایسا عدم توازن پیدا ہوگا جسے کوئی نہیں بچا سکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت کی اس قدر زبوں حالی کا شکار ہوچکی ہے کہ خطے کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمیں معاشی منظر نامے سے قومی سلامتی کے مسائل لاحق ہوچکے ہیں۔ لہٰذا اس معیشت کو دوبارہ نمو میں لانے اور اقتصادی انجن چلانے کے لیے فوری طور پر قومی لائحہ عمل کی ضرورت ہے کیوں کہ کوئی فرد واحد یا ادارہ اس معیشت کو دوبارہ ڈگر پر نہیں لاسکتا اس کے لیے قومی یکجہتی اور کاوشوں کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا کسی ریاست کو جبر سے نہیں چلا سکتے۔ خاص کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے بعد ایک جھوٹا اعتماد آگیا ہے کہ شاید ہم طاقت سے ہر چیز سے حل کرسکتے ہیں لیکن ہمیں قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے سیاسی تنازعات حل کرنے کے لئے سمجھ بوجھ، بات چیت اور مذاکرات کے ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔