پاکستان میں کورونا کا پھیلاؤ سست ہؤا ہے: اسد عمر
- جمعہ 26 / جون / 2020
- 4800
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ 30 جون تک کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد کم ہونا شروع ہوجائے گی۔
اس دوران ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 97ہزار اور جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 4 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ دنیا میں اس وقت 96لاکھ لوگ کورونا سے متاثر ہیں جبکہ اس وائرس کی وجہ سے 4لاکھ 90ہزار افارد ہلاک ہوچکے ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ پہلے اندازوں کے برعکس یہ تعداد 3 لاکھ کی بجائے سوا 2 لاکھ تک رہے گی۔ ماہرین نے اندازہ لگایا تھا کہ اگر حفاظتی تدابیر نہ اپنائی گئیں تو 30 جون تک ملک میں کورونا وائرس کے 3 لاکھ کیسز ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد لگتا ہے کہ کیسز کی تعداد 30 جون تک کیسز کی تعداد سوا 2 لاکھ یا اس سے کم ہوگی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر سب لوگ صحیح کام کریں اور انفرادی ذمہ داری پوری کریں اور حکومت اپنی اجتماعی ذمہ داری ادا کرے تو وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں خاطر خواہ کامیابی ہوسکتی ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ 30 مئی کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) سے جاری ہدایات میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ ایجنسیز کے ذریعے بھی کورونا وائرس سے متعلق معلومات حاصل کی جاتی ہیں اور یہ نظر آرہا ہے کہ بہت سارے لوگ حفاظتی اقدامات پر عمل کررہے ہیں اور تمام صوبوں میں بے تحاشا انتظامی کارروائی بھی کی گئی ہے۔
ملک میں مئی کے وسط سے اسمارٹ لاک ڈاؤنز شروع ہوگئے تھے۔ 4 جون سے اس مہم میں تیزی آئی تھی اور 14 جون کو ہم نے 20 بڑے شہروں میں ہاٹ اسپاٹس یعنی وہ علاقے جہاں وبا کا پھیلاؤ تیز تھا، کی نشاندہی کی اور پھر صوبوں نے اپنے اقدامات کیے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ لوگوں میں بھی احساسِ ذمہ داری آیا اور انہوں نے سماجی فاصلہ رکھنے، ہاتھ دھونے اور ماسک پہننے کے حوالے سے احتیاط کرنا شروع کی۔
اس کی وجہ سے ہمیں وائرس کے پھیلاؤ میں جو خطرہ نظر آرہا تھا اس میں بہتری نظر آئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ بلکہ یہ یاد دہانی کروانی ہے کہ اگر ہم صحیح اقدامات کریں گے تو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے گا لیکن نہیں کریں گے تو حالات خراب ہوسکتے ہیں۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ یہ ہر شخص کے اختیار میں ہے کہ بطور قوم اگر ہم ڈاکٹرز کی ہدایات پر عمل کریں گے، ماسک پہنیں گے اورفاصلہ رکھیں گے۔ ہاتھ دھوئیں گے تو مرض کا پھیلاؤ ایسا نہیں ہوگا جہاں پر ہمارا صحت کا نظام مفلوج کردے۔ اسد عمر نے کہا کہ ایک طرف نظام صحت کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے اور دوسری طرف حفاظتی تدابیر، انتظامی اقدامات کے باعث صحت کا نظام مفلوج ہوتا نظر نہیں آرہا۔