حکومت صرف کاغذی کارروائی کرتی ہے فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں: چیف جسٹس
- جمعہ 26 / جون / 2020
- 6060
چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ حکومت کو معلوم ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے۔ حکومت صرف کاغذی کارروائی کرتی ہے فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔
عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے نجی ادویہ ساز کمپنی کی جانب سے قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پاکستان میں ادویات سازوں کا بہت بڑا مافیا ہے، کیا وفاقی کابینہ نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق کوئی فیصلہ کیا؟
اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ معاملہ کابینہ نہیں ٹاسک فورس کو بھیجا گیا تھا، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے ٹاسک فورس فیصلہ کرنے کے بجائے معاملے پر بیٹھ ہی گئی ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) آخر کیا کر رہی ہے؟ حکومت کو معلوم ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے۔ حکومت صرف کاغذی کارروائی کرتی ہے فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت خود کچھ کرتی نہیں فیصلے کرنے کے لیے معاملہ ہمارے گلے ڈال دیا جاتا ہے۔ ادویات کمپنیاں ہوں یا خریدار سب ہی غیر یقینی صورتحال میں رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوا ساز کمپنیاں خام مال خریداری کے نام پر سارا منافع باہر بھیج دیتی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ افسوس ہوتا ہے کہ حکومت کوئی کام نہیں کر رہی۔ حکومت خود فیصلہ کرتی نہیں اور ہائی کورٹ کے فیصلے چیلنج کرتی ہے۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نجی کمپنی نے باسکوپان نامی دوائی مارکیٹ سے غائب کر رکھی ہے۔ دوائی کی قیمت پوری نہ ملے تو مارکیٹ سے غائب کر دی جاتی ہے۔
عدالتی ریمارکس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجی کمپنی نے 8 دوائیوں کی قیمت بڑھائی، ڈریپ نے ایکشن لیا تو سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع دے دیا۔ عدالتی عملے کی جانب سے بینچ کو بتایا گیا کہ نجی کمپنی کے وکیل دوسری عدالت میں مصروف ہیں، جس پر عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔
خیال رہے کہ اپریل 2019 کے وسط میں دوائیوں کی قیمتوں میں 400 فیصد تک اضافہ کیا گیا تھا جس کے بعد 23 اپریل کو وزیر اعظم نے 72 گھنٹوں میں قیمتوں میں کمی کی ہدایت کی تھی۔ 16 مئی 2019 کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے دعویٰ کیا تھا کہ کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دوا کی قیمتوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ 75 فیصد ہوگا۔