پاکستان میں پیٹرول سستا ہے: وفاقی وزیر

  • ہفتہ 27 / جون / 2020
  • 5620

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے دعویٰ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول نہ صرف برصغیر بلکہ جنوبی ایشیا کے سب ممالک کے مقابلے میں سستا ہے۔

قومی اسمبلی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے پر وضاحت دیتے ہوئے وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتوں میں 112 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 41 روپے کا اضافہ ہونا تھا لیکن حکومت نے اسے 25 روپے 58 پیسے تک محدود رکھا۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 24 روپے 31 پیسے کا مجموعی اضافہ ہونا تھا لیکن اس میں 21 روپے تک اضافہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اچانک 25 روپے 58 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 21 روپے کا اضافہ کردیا تھا۔ عمر ایوب نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ حکومت کی مجبوری ہے لیکن اس کے باوجود نہ صرف برصغیر بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے مقابلےمیں پیٹرول کی قیمت پاکستان میں  سب سے کم ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں پیٹرول 100 روپے فی لیٹر ہے جبکہ بھارت میں اس وقت پیٹرول کی قیمت 180 روپے، بنگلہ دیش میں 174 اور چین میں 138 روپے فی لیٹر ہے۔ اسی طرح جنوب مشرقی ایشیا میں دیکھا جائے تو فلپائن میں 153 روپے، تھائی لینڈ 159 روپے اور جاپان میں پیٹرول 196 روپے فی لیٹر پر دستیاب ہے۔

یہ وہ حقائق جن سے ہم نظر نہیں چرا سکتے۔ جس وقت بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی آئی ہم نے عوام تک اس کے ثمرات پہنچائے۔ ہم تقریباً 30 روز کے وقفے پر کام کرتے ہیں لہٰذا جب اضافہ ہوا تو اسے بھی ایک حد تک کیا گیا۔ وزیر توانائی نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے 46 اور 48 فیصد ٹیکسز اور جی ایس ٹی نہیں رکھا بلکہ ایک مناسب سطح پر رکھا جبکہ ان مصنوعات پر نئے ٹیکسز بھی نہیں لگائے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے مطابق اضافہ اور کمی کی جائے جبکہ سابقہ ادوارِ میں پیٹرول کی قیمت کم ہوتی تھی تو اس کا فائدہ حکومت خود اٹھاتی تھی لیکن ہم نے یہ نہیں کیا۔ بجلی کے بارے میں وزیر توانائی نے کہا کہ جب ہماری حکومت اقتدار میں آئی اس وقت بجلی کے ترسیلی نظام کی صلاحیت صرف 8 ہزار میگا واٹ تھی جس کی وجہ سے 5 سو میگا واٹ کی ٹرانسمیشن لائنز میں تعطل آتا تھا لیکن ہم نے اس صلاحیت کو ساڑھے 26 ہزار میگا واٹ تک پہنچا دیا پے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ انرجی مکس بہتر کیا جائے کیوں کہ ہمیں معلوم ہے کہ جب ہماری توانائی کی قیمت بین الاقوامی مقابلے پر آئیں گی تو اس سے ہماری صنعت مسابقت کے قابل ہوگی اور ہمیں فائدہ ہوگا۔

بعدازاں اپوزیشن اراکین کی جانب سے سخت تنقید کے بعد عمر ایوب ایک مرتبہ پھر فلور پر آئے اور کہا کہ کہ ہم نے مجبوراً پیٹرول کی قیمت میں 34 فیصد اضافہ کیا ہے لیکن یاد رہے کہ جب کمی کی تھی تو 36 فیصد کی تھی۔