عمران خان میں جرات ہے تو ناکامی کا اعتراف کریں اور مستعفی ہوں: مسلم لیگ(ن)
- ہفتہ 27 / جون / 2020
- 4220
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ماضی میں کیے گئے ٹوئٹس کا حوالہ دیا اور کہا کہ عمران خان اگر اپنے ٹوئٹس پڑھ لیں اور شرم بھی کرلیں۔ وزیراعظم اپنی ٹوئٹس پڑھ لیں کہ وہ کیا کہتے تھے اور آج کیا کررہے ہیں؟ پیٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں تو زیادہ دیر نہیں لگے گی اور بجلی کی قیمتیں بڑھ جائیں گی کیونکہ شعبہ توانائی پیٹرولیم مصنوعات، فرنس آئل پر انحصار کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ صرف رکے گا نہیں بلکہ زرعی مصنوعات، اشیائے خور و نوش سمیت ہر چیز کو متاثر کرے گا۔ حکومت نے اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان اور عمران خان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اگر عمران خان کو زیادہ مہلت ملی اور وہ یہی پالیسیاں جاری رکھتے رہے تو پاکستان ایک ایسے مقام پر پہنچ سکتا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو شخص قومی اداروں کو اپنی انا اور منتقم مزاجی کے مظاہرے کے لیے استعمال کرے اس سے بڑا بزدل شخص کوئی نہیں۔ اگر جرات ہے تو عمران خان اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دیں۔ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) اپنا نیا لیڈر چن لے تاکہ قوم کو اس شخص سے چھٹکارا ملے کیونکہ سارا پاکستان ان کی انا کی نذر ہوچکا ہے۔
حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں کا ڈاکا ڈالنے کے لیے 30 جون کا بھی انتظار نہیں کیا۔ پاکستان کے عوام یہ بوجھ برداشت نہیں کرسکیں گے۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے مل کر مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے اور عوام کو اس ایک نکتے پر جمع کریں گے کہ مہنگائی کا یہ طوفان جو 2 سال سے چل رہا ہے وہ اب سونامی کی شکل اختیار کرچکا ہے اور اس کے آگے بند باندھا جاسکے۔
شاہد خاقان عباسی نے اس موقع پر کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں 25 روپے کے قریب کا اضافہ ہوا ہے اور وہ بھی آج عوام کی قوت خرید سے باہر ہے۔ وزیراعظم قومی اسمبلی میں آئے تھے تو کہتے کہ میں نے معیشت کو تباہ کردیا ہے، میں ٹیکس اکٹھے نہیں کرسکا، معیشت کو نہیں بڑھا سکا اور میرے پاس واحد راستہ ہے کہ آپ کے اوپر بوجھ ڈالوں اور (اس لیے) پیٹرول پر ٹیکس کو 15 روپے 69 پیسے سے بڑھا کر 44 روپے 55 پیسے کررہا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہمت ہوتی تو وزیراعظم یہ بات کرتے۔ 'ہم یہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی اٹھائیں گے اور ہم نے عوام کی عدالت میں یہ مقدمہ رکھ دیا ہے کہ اس حکومت کی ناکامیوں میں ایک اور اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے اپنی نالائقی، نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا ہے'۔
مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں ایک مثال نہیں ملتی کہ ایک دن میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 25 روپے اضافہ کیا گیا یہ ایک دن میں 34 فیصد اضافہ ہے۔ 25 روپے کا یہ اضافہ پاکستان کی معیشت پر کمر توڑ وار ہے۔ اکنامکس اور ڈیولپمنٹ میں کہا جاتا ہے کہ معیشت کو شاک سے بچانا چاہیے کہ پالیسی شاک نہ لگے، تاہم جنبش قلم سے 25 روپے کا یکدم اضافہ اتنا بڑا شاک ہے جس سے ایک گھر کا بجٹ بھی تباہ ہوجائے گا۔ ایک دکان، کارخانے کا بجٹ اور معیشت بھی تباہ ہوجائے گی۔
انہون نے کہا کہ صبح میں وزیراعظم نے ٹوئٹ چلوائی کہ وہ پارلیمنٹ کا بہت احترام کرتے ہیں اور اسے طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں بجٹ پر بحث جاری ہے اور حکومت کے ٹیکس اقدامات پر رائے شماری نہیں ہوئی کہ حکومت نے چور دروازے سے اتنا بڑا شب خون مارا۔
احسن اقبال نے کہا کہ جب پیٹرول کی قیمت میں 34 فیصد اضافہ ہوگا تو اس سے مہنگائی کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہوگا کیونکہ پیداواری لاگت بڑھے گی تو بجلی کے نرخ بڑھیں گے جس کے ساتھ ٹرانسپورٹیشن، پیداوار کی قیمت بڑھے گی اور پیدوارای چین سے گزرنے کے بعد ان اضافی اخراجات کی قیمت صارف ادا کرے گا، صابن کی ٹکی سے لے کر، چائے، روٹی، گوشت ہر چیز کی قیمت بڑھ جائے گی۔
مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا کہ اس مہنگائی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جن مافیاز نے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کی حکومت نے انہیں راتوں رات جیک پاٹ دے دیا۔ اس اربوں روپے کی گیم میں کس کا کتنا حصہ ہے قوم جاننا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جب سے آئی ہے مافیا کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے، شاید الیکشن میں ان سے جو پیسے لیے تھے وہ پورے کررہی ہے اور اگلے الیکشن کے لیے فنڈ اکٹھا کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی بقا کا معاملہ ہے۔ عمران خان کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔ کرکٹ میں جب بیٹسمین نہ کھیل سکے تو وہ ریٹائر ہوجاتا ہے تاکہ کوئی اور اس کی جگہ کریز سنبھال لے۔ عمران خان آپ کے ریٹائر ہونے کا وقت آگیا ہے۔ آپ کریز چھوڑیں اس ملک کو تباہ نہ کریں۔