وزیر اعظم کشمیریوں کو بے وقوف تصور نہ کریں
- تحریر اطہر مسعود وانی
- ہفتہ 27 / جون / 2020
- 7330
وزیر اعظم عمران خان نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں تقریر کی۔سوا گھنٹے سے زائد وقت کی اس تقریر میں انہوں نے کورونا، ملک کی اقتصادی حالت، اس کے ذمہ داران،امریکہ کی طرف سے پاکستان پر اعتماد نہ کرنے کے علاوہ انڈیا پر بات کرتے کشمیر کا بھی تذکرہ کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے تین چار منٹ کشمیر پہ بات کرتے ہوئے اپنی مدح سرائی کی کہ میں نے امریکہ میں جا کر لیڈروں،میڈیا،ٹرمپ کو سمجھایا کہ انڈیا ’آر ایس ایس‘کی تھیوری پر چل رہا ہے۔ اس سے امریکہ اور مغرب کے میڈیا میں انڈیا کے خلاف باتیں ہونے لگیں۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد آج پہلی بار پاکستان کو انڈیا کے مقابلے میں باہر بہتر میڈیا ملتا ہے۔جب ہم یو این کے دورے سے واپس آئے اور ہمارا کام تھا کہ ہم اس کو اور آگے لے کر جاتے،تو یہاں آزادی ڈرامہ شروع ہو گیا کہ حکومت جا رہی ہے،کنٹینر آ گئے۔ پورا ایک مہینہ جو اوپر جانا چاہئے تھا کشمیر اشو کووہ نیچے چلا گیا۔ اب ہمارا کام ہے کہ ہم پورا پلان کریں کہ ہم اسے آگے لے کر جائیں۔
انڈیا ہمیں اس طرح دبانا چاہتا ہے جس طرح انہوں نے انڈیا میں مسلمانوں کو دبایا ہوا ہے۔ اب انڈیا نے آزاد کشمیر کو اپنے اندر شامل کیا ہوا ہے۔کشمیر اشو، میرا یہ خیال ہے،ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں، یہ پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گیا ہے۔انڈیا آٹھ لاکھ فوج وہاں رکھ کران کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ غیر مستحکم ہے،اس نے کشمیریوں کو بالکل تنہا کر دیا ہے۔اب کو ئی بھی پرو انڈین لیڈر شپ کشمیر میں چل ہی نہیں سکتی۔بندوق کے زور پہ وہ کتناچلے جائیں گے،اسی لاکھ لوگوں کو اس طرح دبا کے،یہ غیر مستحکم ہے اور میرے خیال میں انشا اللہ کووڈ کے بعد جب یہ ختم ہوتی ہے تو،یہ موومنٹ رک نہیں سکتی۔
اس سے ایک دن پہلے خواجہ سعد رفیق نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج ، آپ مانیں نہ مانیں ، بدقسمتی سے فال آف کشمیر ہو چکا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور تاریخ میں یہ بوجھ آپ کے دور پہ رہے گا۔‘وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے بعد پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کشمیریوں سے پوچھیں، مقبوضہ کشمیر کے عوام سے پوچھیں کہ کیا آ پ کی فارن پالیسی کامیاب رہی ہے؟ وہ آپ کو جواب دیں گے۔‘ ایک کشمیری کی حیثیت سے وزیر اعظم پاکستان کی اس تقریر پہ یہی تبصرہ مناسب ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان، کشمیریوں کو بے وقوف نہ سمجھیں، پاکستان اور کشمیر کے گہرے تعلقات کی جڑیں نہ کاٹی جائیں۔
وزیر اعظم عمران خان کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر کو بلاشبہ غیر معیاری کہا جا سکتا ہے اور یہ تقریر ان کی شخصیت کا ایک تعارف بھی پیش کرتی ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وزیر اعظم عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی کمزوریوں اور خامیوں کی بہترین عکاسی کر رہے ہیں۔پاکستانی حکومت کے عہدیدار مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے مظالم کی رننگ کمنٹری تک ہی محدود ہیں، پاکستان کی کشمیر کاز سے متعلق ذمہ داری کیا ہے اور وہ کیا کر رہے ہیں؟ اس بارے میں ان کی زبانیں خاموش ہیں۔عالمی برادری اسی وقت مسئلہ کشمیر پر توجہ دے سکتی ہے کہ جب پاکستان کی طرف سے یہ باور کرایا جائے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو انڈیا میں مدغم کرنے کے اقدام و صورتحال اور نہتے کشمیریوں کے خلاف ہندوستان کی بدترین فوج کشی پر پاکستان خاموش تماشائی بن کرنہیں رہ سکتا۔
کشمیریوں کی مزاحمت 80 سے زائد سال کے حالات و واقعات کا ایک تسلسل ہے جو 1980کی دہائی میں نوجوانوں کے عزم آزادی سے تیز تر ہوا۔ انڈیا کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو کشمیریوں کی تحریک آزادی سے لاتعلق کر دیا جائے تا کہ اسے کشمیریوں کو دبانے میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مسئلہ،کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں پاکستان کی حمایت کا نہیں بلکہ پاکستان انتظامیہ کی طرف سے سیاسی طور پربھی کشمیریوں کو اپنی مرضی سے چلانے کی ناقص پالیسی کا چلا آ رہا ہے۔ کشمیر پاکستان کی سلامتی اور بقا سے منسلک و مربوط معاملہ ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس معاملے میں کمزور، ناقص پالیسی، حکمت عملی اختیار کرنے سے خود پاکستان کے وسیع تر مفاد کو ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ یہ طریقہ پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔
1986میں لال چوک سرینگر میں ایک بڑے عوامی مظاہرے میں بلال نامی نوجوان جھنڈا لہرانے کے لئے چوک میں نصب بڑے ٹاور پر چڑھ گیا۔ انڈین فورسز کی فائرنگ سے وہ نوجوان کافی بلندی سے نیچے گرکر شہید ہو گیا۔ اس وقت سے اب تک شہید ہونے والے ہزاروں کشمیری نوجوانوں نے یہ واضح کیا ہے کہ کشمیر کاز سے اخلاص کیا ہوتا ہے اور مزاحمت کس طرح کی جا سکتی ہے۔ کشمیرکی آزادی کی مزاحمت کرنے والوں اورشہدا کی قربانیاں دماغ رکھنے والی کشمیر کی شخصیات کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔اگر کشمیر کاز کے لئے متحرک شخصیات اس بات کا تعین کرنے سے قاصر ہیں کہ آئندہ حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے کشمیر کی کونسی شخصیات اس معاملے میں موثر پیش رفت ہو سکتی کا سبب بن سکتی ہیں۔ تو پھر یہ دیکھ لیا جائے کہ کیا پاکستان کی موجودہ انتظامیہ کی کچھ نہ کرنے کی اعلانیہ پالیسی میمنے کی طرح سر جھکا کر چلنے کے مترادف نہیں ہے؟