کووِڈ19 کے جاری کاری وار

  • تحریر
  • ہفتہ 27 / جون / 2020
  • 3440

کووڈ 19  کے کاری وار جاری  ہیں، پاکستان میں بھی  اور دنیا میں بھی۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد دو لاکھ کے قریب ہے اور ہلاکتوں کی تعداد چار ہزار۔ دنیا میں اس کا پھیلاؤ چند ممالک میں تو جاری ہے لیکن بہت سے ممالک  میں اس کے پھیلاؤ میں کمی کے بعد اب ان ممالک میں دھیرے دھیرے  اکونومی اور روزمرہ کے معمولات  اپنے معمول کی جانب  مرحلہ وار  رواں   ہیں۔  

معیشت کو جو زخم اب تک لگ چکے یا ابھی  مزید لگ رہے ہیں اس کی وجہ سے رواں سال  اور اگلے سال کے تمام معاشی اور مالیاتی اشارئے اور تخمینے منفی سمت ہی کا اشارہ دے رہے ہیں۔ پاکستان کی معیشت  میں چند مہینے قبل  تک  جون تک کے مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو تین فیصد کے لگ بھگ  متوقع تھی  مگر  کووڈ 19  کی آمد نے سب بدل کر رکھ دیا۔  بجٹ سے قبل  پاکستان اکنامک سروے آف پاکستان کا  اعلان کرتے ہوئے مشیرِ خزانہ نے بتلایا کہ سال 2020  جی ڈی پی  کی سالانہ شرح نمو منفی  0.38%  رہی۔  کووڈ 19   کے نتیجے میں پیدا ہونے والی  شدید کساد بازاری نے ایک اندازے کے مطابق  18 ملین افراد کو  بے روزگاری کے چنگل میں دھکیل دیا۔ تمام  صوبوں میں لاک ڈاؤن کے بعد معاشی سرگرمیاں  مرحلہ وار شروع ہوئی تو ہیں مگر  کرونا کے پھیلاؤ نے  جگہ جگہ ہاٹ سپاٹ بنا لئے ہیں۔

 اس  وائرس نے گلوبل اکونومی کو  بھی جو جھٹکے دئے ہیں  اس کی وجہ سے  ماہرین ان جھٹکوں  کا  تقابل  1930  کی خوفناک کساد بازاری سے کر رہے ہیں۔  جون  کے  دوسرے ہفتے  میں جاری  ورلڈ بنک کے اندازے کے مطابق  رواں سال میں دنیا کی اقتصادی ترقی کی شرح  سکڑ کر منفی 5.7% رہنے کی توقع ہے۔  اس شدید سکڑاؤ کے نتیجے میں فی کس آمدنی میں 1870 کے بعد یہ  سب سے بھاری کمی ہو گی۔   کووڈ 19  کا زور  اگر طول پکڑ گیا تو  دنیا کی اقتصادی ترقی کی  شرح میں منفی آٹھ فی صد تک   ہو سکتی ہے۔ دنیا کی معروف ترین  کنسلٹنگ ادارے میکنزی   کے مطابق  دنیا  بھر کی حکومتوں نے اپنی  اپنی اکونومی کو سہارا دینے، کاروبار کا پہیہ رواں رکھنے، لوگوں کے روزگار  قائم رکھنے  اور ان کی آمدنی کے اسباب  کے لئے  13  ٹریلین ڈالرز جھونکے ہیں۔ حالات نے مجبور کیا  تو  حکومتیں  کئی ہزار ارب  ڈالرز مزید خرچ کرنے پر مجبور ہوں گی۔  میکنزی کے اندازے کے مطابق اگر یہ  وائرس حسبِ توقع  ایک دو سہ ماہی کے بعد  قابو میں آ بھی گیا تو بھی   دنیا بھر کی  حکومتوں  کے جھولی میں 2023 تک کے لئے 30    ٹریلین  ڈالرز  خسارے کے برابرچھید  چھوڑ جائے گا۔

گلوبل اکونومی کا پہیہ تجارت اور  سرمایہ کاری  کے زور پر گھومتا ہے۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے اندازے کے مطابق  دنیا بھر میں   اشیا  کی تجارت میں  13-32% کمی متوقع ہے۔   اگر کووڈ 19  کا دورانیہ طوالت پکڑ گیا تو یہ کمی  44-80%   بھی ہو سکتی ہے۔  اسی طرح فارن  ڈائریکٹ انوسٹمنٹ میں  دنیا بھر میں 30-40% کمی متوقع ہے۔   دنیا میں انٹرنیشنل ٹریولنگ میں  دو تہائی سے زائد کمی ہو چکی ہے۔ ایر لائنز، ہوٹلز، سفری سہولتوں سمیت  تمام  منسلک  کاروبار اسی کمی کے ہاتھوں تباہی کے دہانے پر ہیں۔ کووڈ 19 کے  نے  گلوبل اکونومی  اور گلوبلائزیشن  کو جو شدید جھٹکا دیا ہے  اس کی وجہ سے ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ  بہت سے ممالک  گزشتہ چار دِہائیوں  میں استوار ہوئی  ایک دوسرے پر ہر سال بڑھتی  انحصار کرنے کی پالیسی پر   نظرثانی پر  مجبور ہوں گے،  جس سے  ٹریڈ، سرمایہ کاری اور گلوبل سپلائی چین  کے نین نقش میں واضح تبدیلیاں  متوقع ہیں۔              

 وبا کے ان دنوں میں  لاک  ڈاؤن  اور  وائرس سے بچاؤ کے لئے  خود حصاری یعنی سماجی دوری  نے  آن لائن ٹیکنالوجی اور آن لائن  کاروبار کو  ایک  نیا جہان اور انداز دیا ہے۔ ریٹیل سیکٹر میں بزنس کا بڑا حصہ اب آن لائن کی جانب شفٹ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ روایتی طور پر  ایک دوسرے سے سماجی اور کاروباری  میل ملاپ اور میٹنگز کے لئے اب آن لائن چلن  زیادہ قابل ترجیح اور قبولیت اختیار کر گیا ہے۔ چند ماہ  کے اندر اندر  دنیا میں اس قدر اور اس نوعیت کی تبدیلیاں  کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھیں۔   

 پاکستان  ایک کثیر آبادی کا ملک ہے، معیشت  کی  نبض    پہلے  ہی  اتار  چڑھاؤ کا شکار ہے۔ برآمدات میں اضافہ کئی سالوں سے نہ ہونے کے برابر ہے۔ درآمدات کم  کرنے  کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کا کام اب   مزید مشکل ہو گیا ہے۔  عالمی کساد بازاری کے سبب تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد کی واپسی کی وجہ سے  ترسیلات ِ زر میں کمی کا اندیشہ کرنٹ اکاؤنٹ پر اثر انداز ہوگا۔ اقتصادی شرح نمو میں ترقی کا ٹارگٹ تو بجٹ میں طے ہے مگر چا ر سو  پھیلی ملکی اور عالمی اقتصادی مشکلات  کے ہوتے ہوئے  اس شرح نمو کا حصول  بہت مشکل ہوگا۔   ایسے میں روزگار کے مواقع  پیدا کرنا اور پہلے سے موجود  بے روزگاری  سے نمٹنا بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ اسٹیٹ بنک  نے  پرسوں مارک اپ کی شرح میں مزید ایک فیصد کمی کر دی ہے۔ اس کی بنیاد یہی بتائی گئی کہ مہنگائی  میں کمی کی وجہ سے  افراطِ زر میں کمی ہوئی۔ آئل  کی قیمتوں میں کمی نے خاص طور پر بروقت سہارا دیا۔  تارکین وطن کی بڑی تعداد میں واپس آنے کے باوجود توقع ہے  ترسیلات زر کا حجم  قابل اطمینان رہے گا۔ آنے والے چند مہینوں میں قرضوں کی واپسی  کو موخر کرنے، درآمدات میں کمی اور کورونا کے سبب ملنے والی حالیہ امداد اور قرضوں سے  فارن ریزرو  آبرومندانہ حد تک قائم رہنے کی توقع ہے۔

اسٹیٹ بنک کی آواز مکے مدینے، مگر  اکونومی  کے حالات میں بہتری پر چھائے کساد بازاری، مندی اور بندشوں کا  غبار  بے یقینی  کا اشارہ دے رہے ہیں۔  برآمدات میں اضافہ یورپ اور امریکہ کی مارکیٹس کے  کھلنے اور معاشی حالات میں کروٹ سے وابستہ ہیں۔  حکومت کے اپنے محصولات  بڑھنے کی ابھی کوئی  سبیل نظر نہیں آتی۔ ٹڈی دل کے شدید حملوں سے فصلوں کے  نقصان اور فوڈ سیکیورٹی کو لاحق خطرات  اپنی جگہ ہے۔ ایسے میں  پارلیمنٹ میں گزشتہ روز جانبین  کی تقریروں  میں ان خدشات  کی کوئی جھلک نہ تھی۔  جانے  لاتعلقی  تھی یا  بے خبری مگر دونوں صورتوں میں اچھا شگون نہیں تھا۔  قومی اتفاق رائے کا  راگ الاپنا کس قدر آسان  مگر اس پر عمل کس قدر مشکل ہے، یہ  جاننا مشکل نہیں۔